سیلاب سے سیالکوٹ ایئرپورٹ بند، ’پہلے گھنٹوں بارش میں پھنسے رہے اور اب لاہور جانا ہے‘

اردو نیوز  |  Aug 29, 2025

پنجاب میں ریکارڈ بارشوں اور سیلابی ریلوں کے بعد سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ فلائٹ آپریشنز کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔سیالکوٹ سے آپریٹ ہونے والی پروازیں اب لاہور سے آپریٹ ہو رہی ہیں جبکہ سیالکوٹ آنے والی پروازوں کا رُخ بھی لاہور کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔ اس اچانک فیصلے سے نہ صرف ایئرلائنز کے شیڈول متاثر ہوئے بلکہ سینکڑوں مسافر بھی شدید پریشانی سے دوچار ہو گئے۔

سیلابی صورت حال کے باعث پی آئی اے نے اپنی تمام پروازیں سیالکوٹ ایئرپورٹ سے لاہور ایئرپورٹ منتقل کر دی ہیں۔ جَدہ سے آنے والی پرواز پی کے 746، جَدہ جانے والی پرواز پی کے 745، کویت کے لیے پی کے 239 اور دمام سے آنے والی پرواز پی کے 244 اب لاہور سے آپریٹ کی جائیں گی۔ متاثر ہونے والے مسافروں کے لیے لاہور ایئرپورٹ پر خصوصی ہیلپ ڈیسک قائم کر دیے گئے ہیں تاکہ اُن کی رہنمائی کی جا سکے۔ ایئرپورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ رن وے اور ٹرمینل محفوظ ہیں، لیکن جنوبی جانب سے آنے والے سیلابی پانی کے بڑھتے دباؤ کے پیشِ نظر فلائٹ آپریشنز روکنا ضروری تھا۔ ایمرجنسی ٹیمیں بھاری مشینری کے ساتھ پانی نکالنے اور تنصیبات کو محفوظ بنانے میں مصروف ہیں۔ ترجمان کے مطابق پروازیں صرف اسی وقت بحال کی جائیں گی جب پانی مکمل طور پر نکال دیا جائے گا اور حفاظتی معائنے مکمل ہوں گے۔ایئرپورٹ بند ہونے کی اطلاع ملنے پر کئی مسافروں کو عُجلت میں لاہور کا سفر کرنا پڑا۔ ایک مسافر محمد فیصل، جو جَدہ جانے والی پرواز کے لیے سیالکوٹ پہنچے تھے، نے بتایا کہ ہم صبح سے سیالکوٹ کے باہر پانی اترنے کا انتظار کر رہے تھے کہ اب بتایا گیا ہے کہ پرواز لاہور سے ا‘ڑان بھرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ’سڑکوں پر پانی جمع ہے، راستے بند ہیں، اور اب ہمیں فوری طور پر لاہور جانا ہے۔ یہ ہمارے لیے بہت مشکل ہو گیا ہے۔‘ لاہور جانے والی ایک اور مسافر خاتون نادیہ بانو نے کہا کہ میرے ساتھ چھوٹے بچے بھی ہیں، پہلے ہی بارش کی وجہ سے ہم گھنٹوں پھنسے رہے اور اب کہا جا رہا ہے کہ لاہور پہنچیں۔ ایسے حالات میں چھوٹے بچوں کو سنبھالنا اور سامان کے ساتھ سفر کرنا بہت تھکا دینے والا کام ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق دو روز قبل 24 گھنٹوں کے دوران سیالکوٹ میں 364 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو 1961 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ اس شدید بارش نے نہ صرف پروازیں متاثر کیں بلکہ شہر کے مختلف علاقوں میں گھروں اور دکانوں میں بھی پانی بھر گیا۔ فصلوں کو نقصان پہنچا، کاروبار بند ہو گئے اور شہری معمولاتِ زندگی معطل ہو کر رہ گئے۔ریسکیو 1122 کے ترجمان نے بتایا کہ سیلابی پانی کے باعث درجنوں مقامات پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ان کے مطابق ہمارے اہلکار مسلسل پانی میں پھنسے افراد کو نکال رہے ہیں۔ شہر کے نچلے علاقوں میں کشتیاں بھی استعمال کی جا رہی ہیں۔ این ڈی ایم اے نے بھی انتباہ جاری کیا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں پنجاب، اسلام آباد، راولپنڈی اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں مزید بارشوں اور طوفانی جھکڑ چلنے کا امکان ہے۔حکام نے شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، الرٹ رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ موسم بہتر ہوتے ہی ایئرپورٹ دوبارہ فعال کر دیا جائے گا۔ انجینیئرز رن وے اور دیگر نظاموں کا مکمل معائنہ کرنے کے بعد ہی پروازوں کو اجازت دیں گے۔فی الحال تمام پروازیں لاہور ایئرپورٹ سے آپریٹ کی جا رہی ہیں اور مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ تازہ ترین معلومات کے لیے مسلسل ایئرلائنز اور ایئرپورٹ انتظامیہ سے رابطے میں رہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More