اہم نکات
سیلاب کے باعث دریائے چناب پر ریواز پُل کے قریب بند میں شگاف
پنجاب میں 14 لاکھ 53 ہزار افراد سیلاب سے متاثر، 1500 سے زائد گاؤں زیرِ آب
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع کا دورہ
پاکستان کے مختلف حصوں میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی
پنجاب کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ دریائے چناب میں بڑا سیلابی ریلہ چنیوٹ، جھنگ اور تریموں کی طرف بڑھ رہا ہے۔جمعے کی سہ پہر پی ڈی ایم اے پنجاب کے بیان میں کہا گیا کہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 16 ہزار کیوسک جبکہ خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 84 ہزار کیوسک ہے۔پی ڈی ایم اے پنجاب نے بتایا کہ دریائے چناب میں چنیوٹ برج کے مقام پر پانی کا بہاؤ 8 لاکھ 55 ہزار کیوسک ہے۔اسی طرح دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک ہے اور بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ سلیمانکی کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 18 ہزار کیوسک ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع کا دورہپاکستان کی افواج کے ترجمان محکمے آئی ایس پی آر کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع کا دورہ کیا ہے۔فیلڈ مارشل نے سیالکوٹ سیکٹر، شکرگڑھ، نارووال اور کرتارپور کا دورہ کیا۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا جبکہ کرتارپور میں سیلاب سے متاثرہ سکھ کمیونٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔فیلڈ مارشل نے ریسکیو اور ریلیف آپریشن دیکھنے کے ساتھ وہاں موجود فوجی اہلکاروں اور سول انتظامیہ کی مشترکہ کوششوں کو سراہا۔دریائے چناب پر ریواز پُل کو بچانے کے لیے اطراف میں تین شگاف ڈالے گئے
دریائے چناب میں سیلاب کے پیش نظر ریواز پل کو بچانے کے لیے اطراف میں تین جگہوں پر شگاف ڈال کر پانی کا رُخ موڑا گیا ہے۔
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے جاری بیان میں کہا ہے کہ جھنگ شہر کو سیلاب سے محفوظ کرنے کے لیے ریواز پل کے قریب تین شگاف ڈالے گئے۔
انہوں نے کہا کہ دریائے چناب کے پاٹ سے شہریوں کے انخلا کو یقینی بنایا گیا ہے۔
ریلیف کمشنر نے فیصل آباد اور جھنگ انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور تمام افسران کو فیلڈ میں رہنے کا حکم دیا ہے۔
پنجاب میں 14 لاکھ 53 ہزار افراد سیلاب سے متاثر، 1500 سے زائد گاؤں زیرِ آبجمعے کو پنجاب ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ بھر میں 14 لاکھ 53 ہزار افراد سیلابی صورتحال سے متاثر ہیں جبکہ ایک ہزار 769 گاؤں زیر ٓاب ہیں۔پی ڈی ایم اے کے مطابق فی الحال 365 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں جن کی تعداد میں ضرورت کے مطابق اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس وقت چار سے ساڑھے چار ہزار افراد ان کمپپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔محکمے کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کو بلاتعطل خوراک اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔پنجاب بھر میں انتظامیہ، پولیس اور فوج کی مدد سے 4 لاکھ 28 ہزار 177 افراد کو اب تک سیلابی علاقوں سے نکالا جا چکا ہے۔اس کے ساتھ ہی تین ہزار 174 جانوروں کو بھی ریسکیو کیا گیا۔
فلڈ پلان ایکٹ کے تحت آبی گزر گاہوں میں ہونے والی تعمیرات کو خالی کرایا جائے گا، ڈی جی عرفان کاٹھیا
ڈائریکٹر جنرل پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ فلڈ پلان ایکٹ کے تحت آبی گزر گاہوں میں کی جانے والی تعمیرات کو خالی کرایا جائے گا۔
پریس کانفرنس سے خطاب میں ڈی جی عرفان کاٹھیا نے کہا کہ حکومت نے سختی سے آبی گزرگاہوں میں بسنے والوں کو انخلا کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ لاہور کے نو علاقوں میں پانی آیا ہے اور لوگوں کو ریسکیو کرلیا گیا ہے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
عرفان کاٹھیا کے مطابق صوبہ پنجاب میں سیلاب کے باعث 20 اموات ہو چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب تک پانی صوبہ سندھ میں داخل نہیں ہوتا اس وقت تک پنجاب میں الرٹ رہے گا۔
ملتان ڈویژن سے 1 لاکھ 19 ہزار سے زائد سیلاب متاثرین محفوظ مقامات پر منتقل
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ملتان ڈویژن سے اب تک 1 لاکھ 19 ہزار 715 سے زائد سیلاب متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
کمشنر ملتان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ضلع ملتان میں اب تک 66 ہزار 717 سیلاب متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
ضلع وہاڑی میں اب تک 45 ہزار 457، ضلع خانیوال میں 6 ہزار 128 اور ضلع لودھراں سے ایک ہزار 413 سیلاب متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
بے گھر ہونے والے افراد کے لیے ملتان میں 25، وہاڑی میں 13، خانیوال میں 22 اور لودھراں میں 24 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔
دریائے جہلم میں چکوٹھی سے پانی کی مقدار میں مسلسل اضافہ، غیرضروری سفر سے گریز کی ہدایتپاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے جاری ایڈوائزری میں کہا ہے کہ دریائے جہلم میں چکوٹھی کے مقام سے پانی کی مقدار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث مظفرآباد، ہٹیاں بالا اور منگلا کے علاقوں میں پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے۔عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ دریا اور ندی نالوں کے کنارے غیرضروری آمد و رفت سے گزیر کریں جبکہ مویشیوں اور قیمتی سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کر لیں۔
دریائے چناب اور راوی کے بہاؤ میں مزید اضافہ، لاہور کے ملحقہ علاقے ’ہائی رسک‘ قرار
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ سیلابی ریلوں کی آمد کے باعث دریائے چناب کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے جبکہ دریائے راوی میں بھی پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
این ڈی ایم اے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ دریائے چناب کے بہاؤ میں اضافے کے باعث31 اگست کو دوپہر 4 بجے کے قریب تریمو بیراج پر پانی کا بہاؤ 7 لاکھ سے 8 لاکھ کیوسک تک متوقع ہے جس کی وجہ سے شدید سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔
ممکنہ شدید سیلابی صورتحال جھنگ اور اس کے ملحقہ علاقوں کو متاثر کرے گی۔یہ سیلابی ریلے 3 ستمبر کی دوپہر تک پنجند تک پہنچیں گے جہاں 6 لاکھ 50 ہزار سے7 لاکھ کیوسک کا بہاؤ متوقع ہے۔ این ڈی ایم اے نے ممکنہ متاثرہ اضلاع حافظ آباد، چنیوٹ، ملتان، پنجند اور بہاولپور کے علاقوں میں انخلاء کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے چناب کے بائیں کنارے پر واقع 18 ہزاری کا علاقہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بریچنگ سائیٹ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دریائے راوی میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ متوقعاین ڈی ایم اے کے مطابق دریائے راوی میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے۔ آج 29 اگست کو صبح 7 بجے بلاکی بیراج پر1 لاکھ 50 ہزار سے 2 لاکھ کیوسکز کے درمیان بلند سطح کا سیلاب آیا۔یکم ستمبر تک سیلابی ریلا سدھنائی تک پہنچے گا جو خطرناک حد تک 1لاکھ 25 ہزار سے1 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک رہنے کا امکان ہے۔ہائی رسک یونین کونسلز میں لاہور کے علاقے شاہدرہ، کوٹ محبو، جیا موسیٰ، عزیز کالونی، قیصر ٹاؤن، فیصل پارک، دھیر، کوٹ بیگم شامل ہیں۔ضلع شیخوپورہ میں فیض پور خو، دھمیکے، ڈاکہ، برج عطاری، کوٹ عبدالمالک میں سیلاب کا خطرہ ہے۔جبکہ ضلع قصور کے علاقے پھول نگر، رکھ خان کے، نتی خالص، لمبے جگیر، کوٹ سردار، ہنجرائے کلاں، بھتروال کلاں، نوشہرہ گئے کو ہائی رسک قرار دیا گیا ہے۔ضلع خانیوال میں غوث پور، میاں چنوں، امید گڑھ، کوٹ اسلام، عبدالحکیم اور کبیروالہ میں سیلاب متوقع ہے۔
دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر ریسکیو ادارے ہائی الرٹ
دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر ریسکیو ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔
ریسکیو 1122 نے جمعے کو جاری بیان میں کہا ہے کہ دریائے راوی کے ملحقہ نشیبی علاقوں سے 144 لوگوں کو نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
لاہور کے تھیم پارک، پارک ویو سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی اور دیگر علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ریسکیو بوٹ کے ذریعے تھیم پارک سے 57 جبکہ پارک ویو سٹی کےعلاقے سے 28 افراد کو باحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
جہلم کے بالائی کیچمنٹ ایریاز میں بارشیں متوقع، مظفرآباد سمیت دیگر علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
این ڈی ایم اے کے مطابق جہلم کے بالائی کیچمنٹ ایریاز میں 29 اگست تا 2 ستمبر تک بارشیں متوقع ہیں۔
بارشوں کے باعث پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کوٹلی، باغ، میرپور، پونچھ، راولا کوٹ، مظفرآباد، حویلی اور ملحقہ علاقوں سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔
راول ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہونے پر سپل ویز کھول دیے گئے
دارالحکومت اسلام آباد میں واقع راول ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہونے پر سپیل ویز کھول دیے گئے۔
پانی کے اخراج کے لیے سپل ویز آج صبح 6 بجے کھولے گئے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پانی کی سطح مقررہ حد تک آنے پر سپل ویز کو بند کیا جائے گا۔
پانی کی سطح 1 ہزار 751 فٹ پر پہنچنے پر سپل ویز کھولے گئے ہیں۔
پاکستان کے مختلف حصوں میں آج سے بارشوں کا نیا سلسلہ شروع، مزید سیلاب کا خدشہ: محکمہ موسمیاتپاکستان میں محکمہ موسمیات نے 29 اگست سے 2 ستمبر تک چاروں صوبوں کے متعدد شہروں اور اسلام آباد میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے۔جمعرات کی شب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد میں جمعے سے پیر تک بارش متوقع ہے جبکہ پنجاب کے شمالی و شمال مشرقی اضلاع میں 30 اور 31 اگست کے دوران شدید بارشوں کا امکان ہے جس سے سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔شمالی اضلاع راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، نارووال، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین جبکہ وسطی و جنوبی پنجاب کے اضلاع ملتان، ڈی جی خان، راجن پور، لیہ، بھکر، ساہیوال، بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں ممکنہ بارشوں کے باعث سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔