اب دولے شاہ کے چوہے کیوں نظر نہیں آتے؟

بی بی سی اردو  |  Jan 28, 2026

پہلی بات تو یہ ہے کہ بلھے شاہ جو کہ قصور میں 300 برس سے محوِ استراحت ہیں وہ انڈین ریاست اتراکھنڈ کے شہر مسوری میں 100 برس سے قائمدرگاہ بلھے شاہ میں کیا کر رہے تھے؟ کسی نہ کسی دن تو بھگتنا ہی تھا۔

چنانچہ چار روز پہلے اتراکھنڈ میں متحرک ہندو رکھشا دل کے ایک جھتے نے درگاہمیں گھس کے توڑ پھوڑ کی اور رکھشا دل کے سربراہ پنکی چوہدری نے سینہ چوڑا کرتے ہوئے لکھاکہ انڈیا ’دیوتاؤں کا استھان ہے، بلھے شاہ یہاں کیا کر رہا ہے۔ ہم نے اسے پاکستان بھجوا دیا ہے۔‘

مجھے یقین ہے کہ پنکی جی یا ان کے غصیلے لونڈوںکو ککھ پتہ نہیں ہو گا کہ درگاہ توڑنے سے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ’بلھے شاہ اساں مرناں ناہیں گور پئا کوئی ہور‘۔۔

پولیس نے بظاہر توڑ پھوڑ کا مقدمہ درجکر لیا۔ پولیس اور کیا کرے؟

بلھے شاہ کی جب قصور میں وفات ہوئی تب بھی مولویوں نے جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا تھا اور اب تین صدیوں بعد ہندو رکھشک ان کی شہریت طے کر رہے ہیں۔

اتراکھنڈ میں آستانہ بلھے شاہ کے ساتھجو کچھہوا وہ ایک تسلسل ہے۔ اسکے ڈانڈے دراصل فروری 2002 کی ریاست گجرات سے جا ملتے ہیں۔

تب گجرات میں مکھ منتری نریندر مودی کے ہوتے جو انسان دھرم کے نام پر قتل ہوئے سو ہوئے مگر اس جنونیت کی لپیٹ میں وہ بھی آ گئے جو سینکڑوں برس سے قبر میں پڑے تھے۔

ان میںنمایاں ترین نام اردو شاعری کے ایک جدِ امجد ولی گجراتی ( وفات 1707) کا ہے۔ احمد آباد میں ان کے مزار کو باقاعدہ بلڈوزروں سے مٹایا گیا۔ دو ہفتے کے دنگوں میں گجرات کی 230 درگاہوں، مزارات اور مساجد کی شامت آئی۔

اس وقت جس طرح کے حالات اور دماغ چل رہے ہیں کچھ بعید نہیں کہ تلنگانہ ریاست کے دارلحکومت حیدرآباد کے قبرستان میر مومن میں 58 برس سے قیام پذیر خان صاحب بڑے غلام علی خان کی قبر پر بھی کسی جتھے کی نگاہ پڑ جائے اور سنگِ مزار پر جائے پیدائش قصور پڑھ کے اسے بھی توڑ تاڑ کے پاکستان بھجوانے کا اعلان ہو جائے۔

یہ محض انڈیا کا نہیں افغانستان تا بنگلہ دیش پورے خطے کا نفسیاتی مسئلہ ہے۔ بامیان میں گوتم بدھ کا مجسمہ توڑنے کاخیال محمود غزنوی کو بھی نہیں سوجھا مگر ہزار برس بعد ملا عمر کو آ گیا۔ مشکل یہ ہے کہ مسئلہ صرف مسلمان بمقابلہ غیر مسلمان تک ہی محدود نہیں۔

مئی 2005 میں اسلام آباد میں بری امام کے مزار پر خودکش حملے میں 20 زائرین ہلاک اور 150 کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔

پشتو کے عظیم شاعر رحمان باباکا انتقال 1711 عیسوی میں ہوا۔ وفات سے پہلے انھیں گماں تک نہ ہو گاکہ 298 برس بعد (مارچ 2009) کوئی سرپھرا گروہ ان کی قبر بم سے اڑا دے گا۔

جولائی 2010 میں داتا دربار پر خودکش حملے میں 40 افراد ہلاک ہوئے۔ اکتوبر 2010 میں کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر خودکش حملے میں آٹھ زائرین ہلاک اور 65 زخمی ہوئے۔ چند دن بعد پاکپتن میں بابا فرید گنج شکر کے مزار پر حملے میں چار افراد ہلاک اور 13زخمی ہوئے۔

فروری 2017 میں سیہون میں شہباز قلندر کا مزار نشانہ بنا۔ قبر کے قریب خودکش بمبار کی لپیٹ میں 70 سے زائد لوگ آ گئے اور عمارت کو بھی خاصا نقصان پہنچا۔

’میرے قبرستان میں تیری ماں کیسے دفن ہو سکتی ہے‘ جیسے روز کے المیے لے کر بیٹھ جاؤں تو شاید قصہ ہی ختم نہ ہو۔ مختصر یہ کہ ہمارے پرکھوںنے جو تاریخی سفر ’مسلم پانی، ہندو پانی‘ کی تفریق سے شروعکیا تھا وہ آج ’میرا قبرستان، تیرا قبرستان‘ تک پہنچ چکا ہے۔

دو شاہانہ شادیوں کے بیچ عبداللہ دیوانہ’25 دسمبر آتا رہے گا، جاتا رہے گا‘عمران خان جیلر ہے یا قیدی؟ضیاالحق کا خواب پورا ہونے میں 46 سال لگے

فلم، میڈیا اور سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے آج کے انڈیا کی سماجی رگوں میں مسلمان کی یہ تعریف اتاری جا رہی ہے کہ یا تو پاکستان سے کنکشن ہے، یا بنگلہ دیشی ہے یا پھر خاموش دہشت گرد ہے۔

جبکہ پاکستان بالخصوص پنجاب میں مقامی سکھ بھی ’یاتری‘ سمجھے جاتے ہیں اور ہندو بھی ’یہ ہم میں سے نہیں‘ کے عدسے سے دیکھے جاتے ہیں۔

ساڑھی پاکستانی اشرافیہ ( فاطمہ جناح، ناہید سکندر مرزا، بیگم نسیم اورنگ زیب، بیگم نصرت بھٹو وغیرہ)کی وارڈ روب کا لازمی حصہتھی۔ نصف صدی میں بس اتنا ہوا ہے کہ کسی چھوٹے قصبےکے بازار کو تو جانے دیجیے، لاہور کے کسیبڑے شاپنگ مال میں بھی کوئی خاتون ساڑھی میں دکھائی دے جائے تو کوئی نہ کوئی ’حیرتیا‘ گھوم پھر کر پوچھ ہی بیٹھے گا کہآپ کو پاکستان کیسا لگا یا آپ پہلی بار لاہور آئی ہیں؟ امرتسر یادلی؟

کسی کے ذہن میں خیال تک نہیں آئے گا کہ یہ خاتون پاکستانی بھی ہو سکتی ہیں، کوئی بنگلہ دیشی مسلمان بھی ہو سکتی ہیں۔ اسے کہتے ہیں ذہن سازی۔

کچھ برس پہلے تک ٹیپو سلطان انڈیا اور پاکستان کے قومی ہیرو تھے۔ اب انھیں پاکستان میں ہی ہیرو مانا جاتا ہے۔ تقسیم سے پہلے بھگت سنگھ سانجھی ہندو مسلم سکھوراثت تھے۔ اب انڈیا میں ہی انھیں ہیرو کا درجہ حاصل ہے۔ حالانکہ وہ پیدا پاکستان (لائل پور) میں ہوئے اور پھانسی بھی پاکستان (لاہور) میں ہوئی۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے اور لاہور میں آنکھیں موند لیں۔ پھر بھی کوئی جوشیلا شاہی قلعہ میں نصب گھڑ سوار رنجیت سنگھکے مجسمے کا بازو توڑ گیا۔ اسے کہتے ہیں ذہن سازی ۔

رہی پاکستانی کرسچین کمیونٹی۔ تو وقت کے ساتھ ساتھ ایسے کرسچینز کی تعداد کم ہو رہی ہے جو اپنے نام کے ساتھ ڈیوڈ یا مسیح وغیرہلگائیں۔ مثلاً میرا سکول فیلو انور مسیح اب معنی خیز نگاہوں سے بچنے کے لیے انور شیراز بھٹی ہو گیا ہے۔

کئی انڈین مسلمان بھی گھر سے باہر بتانے کے لیے سنگل نیوٹرل نام رکھنے کا چلن اپنا رہے ہیں۔ جیسے آزاد، درشن، سیما، زارا، ساحل، راجن وغیرہ۔ کچھ ریاستوں میں کاروباری بائیکاٹ کے سبب قدرت جنرل سٹور آکاش جنرل سٹور ہو گیا ہے۔ اس کا توڑ یہ نکالا گیاکہ کمبھ کے پچھلے میلے میں مقامی انتظامیہ نے حکم جاری کیا کہ ہر دوکان پر مالک اپنا پورا نامبھی لکھے تاکہ یاتریوں کے پاس اس دوکان سے سودا خریدنے یا نہ خریدنے کی چوائس ہو۔

کیا مغلوں نے بھی انڈیا ورش پر پانچ سو برس حکومت کی؟ آج یو پی، مدھیہ پردیش، گجرات، راجستھان یا ہریانہ کے کسی سکولی بچے سے پوچھیں گے تو وہ الٹا آپ سے پوچھ لے گاکہ یہ مغل کیا ہوتے ہیں؟ اسے تو بس یہی پتہ ہے کہ بابر کی اولاد یا اورنگ زیب کی اولاد کسی کو کہنا گالی ہے۔

اور جب سرحد پار نصاب میں بھی یہ لکھا جائے گا کہ پاکستان تو اس وقت ہی وجود میں آ گیا تھا جب ہندوستان میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا تو پاکستانی اقلیتوں کو مشکوک ہونے اور بلھے شاہ کو اترا کھنڈ سے پاکستان بھیجنے کی گھوشناکون روک سکتا ہے؟

میرے بچپن میں اکثر ایسے فقیر بھی گلی سے گذرتےتھے جنھوں نے کندھے پر ایک انسان نما شے بٹھائی ہوتی۔کھوپڑی چھوٹی سی اور دھڑ نارمل۔ اس مخلوق کو ’دولے شاہ کے چوہے‘ کہا جاتا تھا۔ انھیں پنجاب کے شہر گجرات سے لایا جاتا تھا۔

بعد میں سنا کہ یہ ظالمانہ رسم ختم ہو گئی ہے۔ شاید ترقی ہو گئی۔ اب کھوپڑی چھوٹی بنانے کی ضرورت ہی نہیں۔ ایک نارمل سائز دماغ کو ہی آسانی سے ڈیجیٹل اوزاروں کی مدد سے چھوٹا بنایا جا سکتا ہے اور سامنے سے پتہ بھی نہیں چلتا۔

’بیکری میں سالانہ 20 کروڑ کا کاروبار ہوتا تھا۔۔۔ فسادات کے بعد اسے مسمار کر دیا گیا‘بامیان: بدھا کے مجسموں کو بچانے کے لیے پاکستان نے کیا کوششیں کیں؟ممبئی میں ’جناح ہاؤس کو مسمار‘ کرنے کی تجویزسندھ میں راجہ داہر کو قومی ہیرو قرار دینے کا مطالبہانڈیا پاکستان میچ کے بعد ’پاکستان زندہ باد کا نعرہ‘ لگانے پر مسلمان کباڑیے کا گھر مسمار کر دیا گیا
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More