پاکستان کے شہر کراچی کے پوش علاقے ڈیفینس میں اشتہاری سکرینز پر فحش ویڈیو چلنے کے بعد پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔
ڈی آئی جی جنوبی اسد رضا کے مطابق گرفتار ملزم نے پولیس کو بتایا کہ اس کے موبائل فون سے یہ ویڈیو حادثاتی طور پر چل گئی تھی۔
واضح رہے کہ دو روز قبل ڈیفینس کی مرکزی شاہراہ پر نصب ایس ایم ڈی اشتہاری سکرینز پر اچانک چند لمحوں کے لیے فحش ویڈیو چلنے لگی، جسے بعض شہریوں نے ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کردیا۔
نجی اشتہاری کمپنی کے آپریشن مینیجر آصف خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں شبہ ہے کہ ان کی کمپنی کی ساکھ متاثر کرنے کے لیے یہ حرکت کی گئی اور انھوں نے خود ایک ملازم کو پولیس کے حوالے کیا تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔
پولیس نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 292 کے تحت مقدمہ درج کر لیا، جو فحش مواد کی تیاری، تقسیم یا عوامی نمائش کو جرم قرار دیتی ہے۔
اس دفعہ کے تحت سزا میں قید، جرمانہ یا دونوں شامل ہوسکتے ہیں جبکہ بار بار جرم کرنے والوں کے لیے سخت تر سزا مقرر ہے۔
’یہ واقعہ کمپنی کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا‘
اس واقعے کے بعد اشتہاری کمپنی کے قانونی مشیر شاکر رشید کی مدعیت میں گذری تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق چار فروری کی رات نو بج کر 37 منٹ پر کمپنی کے آپریشن مینیجر آصف خان نے اطلاع دی کہ خیابان اتحاد پر عائشہ مسجد کے قریب نصب سکرین پر وقفے وقفے سے فحش ویڈیو کلپ چل رہا ہے، جس سے عوامی جذبات مجروح ہو رہے ہیں۔
مدعی نے بتایا کہ وہ خود موقع پر پہنچے اور صورتحال دیکھنے کے بعد فوری طور پر سکرین بند کروائی۔
تاہمکمپنی کے آپریشن مینیجر آصف خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ نظام کلاؤڈ سسٹم پر چلتا ہے اور اس کی سکیورٹی موجود ہے تاہم فی الحال تفتیش جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے خود ایک ملازم کو پولیس کے حوالے کیا تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔
ہیکنگ سے متعلق سوالات پر انھوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ واقعہ نہ صرف کمپنی کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا بلکہ عوامی سطح پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔ پولیس تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے اور مزید حقائق سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔‘
’ہوٹل کے کمرے میں ہمارے سیکس کی ویڈیو ہزاروں لوگوں کے سامنے نشر کر دی گئی‘فحش ویب سائٹ کا لنک اور ڈیپ فیک: ’پورن سائٹ پر میری جعلی فحش تصاویر اور ویڈیو ڈالنے والا میرا ہی دوست تھا‘ایف آئی اے نے بچوں کی فحش تصاویر اور ویڈیو شیئر کرنے والے تین ملزمان گرفتار کر لیےکیا پاکستانی صارف ہیکرز کا آسان ہدف ہیں؟ایس ایم ڈی سکرینز کیا ہوتی ہیں اور کیسے کام کرتی ہیں؟
ایس ایم ڈی یعنی ’سرفیس ماؤنٹ ڈیوائس‘ (Surface-Mount Device) اشتہاری سکرینز جدید ایل ای ڈی ٹیکنالوجی پر مبنی ہوتی ہیں، جن میں ہر پکسل کے اندر سرخ، سبز اور نیلے رنگ کے چھوٹے ایل ای ڈی ڈائیوڈز نصب ہوتے ہیں۔
یہ ڈائیوڈز مختلف شدت سے روشنی خارج کرتے ہیں اور مل کر لاکھوں رنگ پیدا کرتے ہیں، جس سے تصویر نہایت واضح، روشن اور ہائی ریزولوشن میں نظر آتی ہے۔
یہ سکرینز عام طور پر بڑے بل بورڈز، شاپنگ مالز، سٹیڈیمز اور مرکزی شاہراہوں پر نصب کی جاتی ہیں۔ ان کا نظام کلاؤڈ یا لوکل سرور سے منسلک ہوتا ہے، جہاں سے اشتہارات یا ویڈیوز اپ لوڈ کر کے نیٹ ورک (وائی فائی، لین یا موبائل انٹرنیٹ) کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔
Getty Images
توانائی کی بچت اور دن رات میں یکساں برائٹنس کے باعث ایس ایم ڈی سکرینز آج کے دور میں سب سے زیادہ مقبول ڈیجیٹل اشتہاری ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔
ایس ایم ڈی اشتہاری سکرینز کے ہیک ہونے کا خطرہ کافی زیادہ ہے، خاص طور پر جب وہ انٹرنیٹ یا وائی فائی نیٹ ورک سے جڑی ہوں۔
ہیکرز نیٹ ورک یا سافٹ ویئر میں موجود کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر سکرینز کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ اگر سکرینز کلاؤڈ سسٹم سے جڑی ہوں تو ہیکرز انھیں چلانے والی کمپنی کے اندرونی ڈیٹا تک بھی رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
کیا پاکستانی صارف ہیکرز کا آسان ہدف ہیں؟’ہوٹل کے کمرے میں ہمارے سیکس کی ویڈیو ہزاروں لوگوں کے سامنے نشر کر دی گئی‘فحش ویب سائٹ کا لنک اور ڈیپ فیک: ’پورن سائٹ پر میری جعلی فحش تصاویر اور ویڈیو ڈالنے والا میرا ہی دوست تھا‘ایف آئی اے نے بچوں کی فحش تصاویر اور ویڈیو شیئر کرنے والے تین ملزمان گرفتار کر لیےڈیپ فیک پورن کے ’زندگی کو ہلا دینے والے‘ اثرات جو ہمیشہ کے لیے صدمہ بن جاتے ہیں