انڈیا میں چار سال بعد پیٹرول تین روپے فی لیٹر مہنگا ہونے پر اپوزیشن، عوام برہم: انڈیا میں قیمتوں میں استحکام اور پاکستان میں اضافے کی وجوہات کیا ہیں؟

بی بی سی اردو  |  May 15, 2026

Getty Imagesانڈیا میں سنہ 2022 سے تیل کی قیمتوں میں استحکام تھا

انڈیا میں چار برس کے طویل وقفے کے بعد حکومت نے پہلی مرتبہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں تین روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا ہے جس پر اپوزیشن جماعتوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈین حکام کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی وجہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مقامی مارکیٹ پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنا ہے۔

چار برس بعد ہونے والے اس اضافے کے بعد دارالحکومت دہلی میں ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 90.67 روپے جبکہ پیٹرول 97.77 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔

یاد رہے کہ انڈیا میں آخری بار پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سنہ 2022 میں ہوا تھا۔ مارچ 2024 میں لوک سبھا انتخابات سے چند روز قبل پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دو روپے فی لیٹر کی کمی کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملے کے بعد آبنائے ہرمز بند ہونے سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوا ہے اور یہ ایک موقع پر 120 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی تھی۔ حالیہ کچھ روز کے دوران پیٹرول کی فی بیرل قیمت 100 سے 105 ڈالرز کے درمیان ہیں۔

انڈیا اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 85 فیصد درآمد کرتا ہے، جن میں سب سے زیادہ لگ بھگ 36 فیصد روس سے درآمد کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق سے بھی تیل درآمد کرتا ہے۔

امریکی پابندیوں سے استثنیٰ کی صورت میں انڈیا ایران سے بھی تیل اور گیس درآمد کرتا ہے۔

اپوزیشن کی تنقید اور سوشل میڈیا پر شورGetty Images

انڈیا میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تین روپے اضافے کی خبر سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں اور عام صارفین کی جانب سے کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب پاکستانی صارفین انڈیا اور پاکستان کے درمیان قیمتوں کے فرق پر اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

انڈیا میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے تیل کی قیمتوں میں اضافے پر مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

پارٹی کی جانب سے ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزیر اعظم مودی نے آج ایک بار پھر عوام پر چابک برسا دی ہے۔ اب چونکہ ریاستی انتخابات ختم ہو چکے تو مودی حکومت نے ’ریکوری‘ شروع کر دی ہے۔‘

خیال رہے کہ حال ہی میں انڈیا کی چار ریاستوں اور ایک یونین ٹیریٹری میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے جس کے دوران مغربی بنگال میں حکمراں جماعت بی جے پی کو تاریخی کامیابی حاصل ہوئی تھی۔

ایک انڈین صارف ہرمیت کور نے لکھا کہ ’انڈین حکومت نے بھی پینیک بٹن دبا دیا ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں گراوٹ کے بعد اب ایندھن کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ انڈین حکومت 73 روز تک جھوٹ کیوں بولتی رہی کہ ملک میں تیل کا کوئی بحران نہیں ہے۔‘

ششانکا چکرورتی نامی صارف نے لکھا کہ ایران جنگ کے دوران پاکستان میں 55 فیصد، ملائیشیا میں 56 فیصد اور سری لنکا میں 38 فیصد اضافہ ہوا، لیکن انڈیا میں صرف تین فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اُن کے بقول انڈیا کی تیل کمپنیوں نے مسلسل 76 روز تک بڑے پیمانے پر نقصان اُٹھایا تاکہ عوام پر بوجھ نہ پڑے۔

یاد رہے کہ انڈیا میں تیل کی سرکاری کمپنیوں، انڈین آئل کارپوریشن، بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ، نے اپریل 2022 میں پیٹرولیم مصنوعات کی یومیہ قیمت پر نظرثانی کا نظام بند ختم کر دیا تھا۔

ایران تنازع کے دوران انڈین حکومت کا مسلسل یہ موقف رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور سپلائی میں رکاوٹ کے باوجود ملک میں ایندھن کی کوئی قلت نہیں ہے اور نہ ہی پیٹرول، ڈیزل یا ایل پی جی کا ذخیرہ رکھنے کا کوئی منصوبہ ہے۔

حال ہی میں ایک بیان میں انڈیا کے سکریٹری پیٹرولیم نیرج متل نے کہا تھا کہ ’گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تیل کی مناسب سپلائی ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گی۔‘

انڈین حکام کے مطابق عالمی توانائی کی منڈی میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باوجود انڈیا کے پاس فی الحال تقریباً 60 دنوں کے ایندھن کے ذخائر اور تقریباً 45 دنوں کے ایل پی جی کے ذخائر ہیں۔

انڈیا میں چار برس تک قیمتوں میں استحکام اور پاکستان میں بے تحاشا اضافہ: وجوہات کیا ہیں؟

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باوجود تین ماہ سے انڈیا میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا تھا جبکہ اس کے ہمسایہ ملک پاکستان کی حکومت نے 28 فروری (ایران جنگ کا آغاز) کے بعد تیل و ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا ہے۔

28 فروری 2026 کو پاکستان میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 259.30 روپے تھی جو اب 415 روپے فی لیٹر کے لگ بھگ ہے، یعنی ایران جنگ کے آغاز کے بعد پاکستان میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں لگ بھگ 162 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ: حکومتِ پاکستان کسی بحران سے بچنے کے لیے خود تیل کا ذخیرہ کیوں نہیں کر سکتی؟متحدہ عرب امارات نے اوپیک چھوڑنے کا اعلان کیوں کیا اور یہ تیل کی منڈیوں کو کیسے متاثر کرے گا؟عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمت، پاکستان حکومت کی مشکل اور اربوں کی سبسڈی: کیا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مزید اضافہ ناگزیر ہے؟امریکہ کا 34 جہاز روک کر واپس بھیجنے کا دعویٰ: کیا ہرمز کی بحری ناکہ بندی ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لا سکتی ہے؟

انڈیا اور پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمت میں فرق کے سوال کے مبہم جوابات اور وضاحتیں پاکستان کے وفاقی وزرا حال ہی میں دیتے رہے ہیں، جس پر اُنھیں شدید تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا دفاع کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ ایسا آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے ہوا۔

علاقائی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ انڈیا نے 2022 میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فریز کر دی تھیں۔ انڈیا میں سستے پیٹرول کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انڈیا کی اپنی 19 ریفائنریز سرکاری ہیں۔

اس دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا بھی بیان سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا تھا، جس میں اُنھوں نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا تعلق ملک میں ٹیکس جمع نہ ہونے سے جوڑ دیا تھا۔

احسن اقبال نے کہا تھا کہ جب ملک میں لوگ ٹیکس نہیں دیں گے تو پھر حکومت پیٹرول پر لیوی بڑھا کر دیگر ذرائع سے یہ خسارہ پورا کرنے کی کوشش کرے گی۔

پاکستان میں ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں 2022 سے لے کر اب تک مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پاکستان میں اپریل 2022 میں ڈیزل کی قیمت 144 روپے فی لیٹر اور پیٹرول کی قیمت 150 روپے فی لیٹر تھی۔

تاہم چار سال کے بعد آج پاکستان میں دونوں کی قیمت 415 روپے فی لیٹر ہو چکی یے۔

Getty Images

انڈیا اور پاکستان کے درمیان تیل کی قیمتوں کا موازنہ کرتے ہوئے تیل اور گیس کے شعبے کے ماہر زاہد میر نے بی بی سی اُردو کے لیے صحافی تنویر ملک کو بتایا کہ ’پہلے یہ سمجھنا ہو گا کہ بنیادی طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنے میں کون سے فیکٹرز شامل ہوتے ہیں۔‘

اُنھوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو پیٹرول و ڈیزل کی بنیادی قیمت ہوتی ہے، اور وہ ملک جو یہ مصنوعات درآمد کرتے ہیں انھیں یہ قیمت ڈالر میں قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

اُن کے بقول گذشتہ چار برسوں میں پاکستان میں روپے کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں بہت زیادہ گری ہے اور اس دورانیے میں ایک ڈالرکی قیمت 170 روپے سے بڑھ کر 280 روپے تک چلی گئی جس کی وجہ سے پاکستان میں درآمد شدہ تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا۔

دوسری جانب انڈیا میں ایکسچینج ریٹ مستحکم رہا جس کی وجہ سے انھیں درآمد تیل کی قیمت زیادہ ادا نہیں کرنا پڑی۔

زاہد میر نے بتایا کہ انڈیا میں خام تیل صاف کرنے والی ریفائنریاں موجود ہیں، اس لیے انڈیا زیادہ تر خام تیل درآمد کرتا ہے اور پھر اس سے ڈیزل اور پیٹرول تیار کر کے مقامی صارفین کو فروخت کرتا ہے جبکہ پاکستان میں ایسی صورتحال نہیں ہے۔

اُن کے بقول اس کا فائدہ یہ ہے کہ ڈیزل کی قیمت اس عالمی مارکیٹ میں زیادہ ہے جب کہ خام تیل کی قیمت کم ہے۔

اُنھوں نے کہا مثال کے طور پر اس وقت ڈیزل کی قیمت 160 ڈالر فی بیرل ہے جب کہ خام تیل 105 ڈالر فی بیرل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان 70 فیصد پیٹرول درآمد کرتا ہے اور 30 فیصد مقامی ریفائنریوں سے آتا ہے جبکہ انڈیا زیادہ تر پیٹرول مقامی سطح پر پیدا کرتا ہے۔

زاہد میر کے بقول دوسرا پہلو ٹیکسوں کا ہے۔ پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس صفر کر دیا گیا تھا، تاہم آج چار برس بعد مجموعی طور پر دونوں پر 160 روپے فی لیٹر لیوی (ٹیکس) وصول کی جا رہی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ دوسری جانب انڈیا میں عالمی بحران کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس میں کمی کی گئی ہے جبکہ انڈیا نے گذشتہ چار برسوں میں روس سے بھی کافی خام تیل خریدا ہے، جو اسے رعایتی نرخوں پر ملتا ہے۔

Getty Images

انڈیا اور پاکستان کے درمیان تیل کی قیمتوں کے موازنے پر گذشتہ ماہ سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا تھا کہ انڈیا کے مقابلے میں پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل بہت مہنگا ہے۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کی وجہ امیروں اور طاقت ور طبقات سے ٹیکس نہ لینے اور سارا بوجھ متوسط اور غریب طبقے پر منتقل کرنا ہے۔

معاشی اُمور کے ماہر فرخ سلیم نے چند روز قبل اس فرق پر ایکس پر لکھا تھا کہ انڈیا اور بنگلہ دیش میں تیل کی قیمتوں میں استحکام اور پاکستان میں بے تحاشا اضافے کی صرف ایک وجہ پالیسی کا فرق ہے۔

تجزیہ کار ڈاکٹر ہما بقائی نے چند روز قبل ایکس پر لکھا تھا کہ ’اگر سفارتی محاذ پر انڈیا اتنا بُرا کر رہا ہے تو وہاں تیل کی قیمتیں کیوں نہیں بڑھیں اور جب ہم اتنا اچھا کر رہے ہیں تو پھر یہاں قیمتیں چھت سے کیوں جا لگی ہیں۔‘

سستے تیل اور گیس کا دور ختم: ’تاریخ کا سب سے بڑا توانائی بحران‘ ایران جنگ ختم ہونے کے بعد طویل عرصے تک جاری رہے گا دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے کے مقابلے میں خلیجِ فارس میں اتنا زیادہ تیل اور گیس کیوں موجود ہے؟عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمت، پاکستان حکومت کی مشکل اور اربوں کی سبسڈی: کیا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مزید اضافہ ناگزیر ہے؟ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی قیمتیں: پاکستان میں ای بائیکس کی فروخت میں ’غیر معمولی‘ اضافہپیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ: حکومتِ پاکستان کسی بحران سے بچنے کے لیے خود تیل کا ذخیرہ کیوں نہیں کر سکتی؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More