پنکی کا جانے کیا ہو گا؟

بی بی سی اردو  |  May 15, 2026

اگر پابہ زنجیر روایتی بصری میڈیا اور بگٹٹ سوشل میڈیا پر یقین کر لیا جائے تو ٹرمپ کے دورہبیجنگ اور آبنائے ہرمز کے بحران کو جس ہستی نے پچھلے ایک ہفتے سے ریٹنگ کی دوڑ میں لٹا لٹا کے مارا ہے اس ہستی کا نام ہے انمول عرف پنکی۔ ’جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے۔‘

جب حساس قومی، علاقائی اور عوامی مفاد کو براہِ راست زدوکوب کرنے والے موضوعات کے منھ سی دیے جائیں، بنیادی آزادیوں کے بحران پر سوال اٹھانا قانوناً گناہ قرار پائے، مقدس جزدانوں میں لپٹے اداروں، عہدوں، خارجہ و داخلہ پالیسیوں پر اشاروں کنایوں میں بات بھی حرام ٹھہرے۔

گورنننس کی سڑاند سے بچنے کے لیے منھ پر رومال رکھ کے بڑبڑانا بھی معتوب عمل سمجھا جائے۔ اس متعفن فضا میں پوڈ کاسٹیوں، فیس بکیوں، یو ٹیوبروں، ٹک ٹاکروں، چینل بازوں اور کالم کلوچ سے جڑی روزی روٹی کا بھی سوال ہو تو ان تمام میڈیمز کو زندہ رہنے کے لیےہفتے دو ہفتے بعد کوئی تو ایسی ہڈی چاہیے جسے بھنبھوڑ کر کچھ دن گزارا ہو جائے۔

ہاں آپ گلوبل ایپسٹین کلاس پر آج بھی کھل کے بات کر سکتے ہیں بشرطیکہ اس کی آڑ میں کوئی مقامی ایپسٹین نشانے پر نہ آ جائے۔ آپ ایسی تمام کرپشن اور کرپٹوں پر بات کرنے کے لیے مکمل آزاد ہیں جن کے بارے میں بات کرنے کا این او سی جاری ہو چکا ہے۔

آپ ایسے کیسز کا پٹارا بھی بن داس کھول سکتے ہیں جن کا سامنے آنا ریاستی بیانیے کو مزید تقویت پہنچا سکے مگر اپنی مرضی سےآپ کسی ایسے مقدمے کی عدالتی کارروائی کو بھی نشر یا شائع نہیں کر سکتے جس سے طے شدہ بیانیہ کمزور پڑتا دکھائی دے۔

انمول پنکی کے بخیے ادھیڑنے پر بھلا کسے اعتراض ہو گا مگر اس کے منشیاتی تقسیم کار نیٹ ورک کے وفادار بے شمار گاہکوں کا نام لینے سے پہلے دس بار سوچنا بھی ضروری ہے۔ گفتگو کی آنچ بس اتنی ہی رکھیے گا کہ خود کے ہاتھ پاؤں نہ جھلس جائیں۔

روایت ہے کہ قدیم فلسطین میں قائم مملکتِ کنعان میں ایک سالانہ رسم یہ بھی تھی کہ ایک مخصوص دن گزرے برسکے گناہ دھونے کے لیے بکری کے سینگوں سے رنگ برنگی دھجیاں باندھ کے انھیں بیابان کی جانب ہنکال کر فرض کر لیا جاتا تھا کہ ہمارے گناہ سینگوں پر بندھی دھجیوں کے روپ میں غائب ہو گئے۔

ہم بھی تو یہی کرتے ہیں کہ اپنی کمزوریاں، نااہلیاں، بزدلیاں، موشگافیاں، آنا کانیاں کسی نچلی سطح کے مجرم یا راندہ درگاہ گناہ گار کے سر سے باندھ کر یا اس کے گلے میں ڈال کر اندر کے احساسِ جرم کو تھپک تھپک کے سلا دیتے ہیں۔

کچھ عرصے بعد جب ضمیر دوبارہ سے کچوکے دینے لگتا ہے تو پھر یہی رسم ادا کر کے عارضی مکتی پا لیتے ہیں۔ گویا اندر پلنے والی خجالت میں بھی کمی اور جزا سزا کا پھٹیچر سسٹمبھی پہلے جیسا سرخرو اور رواں دواں۔

فضا کچھ ایسی ہے کہ ہم میں سے شاید ہی کوئی اس سوال کے پیچھےپڑنا چاہتا ہو کہ وہ کون سی طاقت ہے جو کسی ریپسٹ، قاتل، اغواکار،منشیات فروش کو یہ یقین بخشتی ہے کہ جو کرنا ہے کر گزر کوئی نہ کوئی بچانے آ ہی جائے گا۔

معرکہِ حق اور میزائل چوک پاکستان یہ سب نہ کرے تو اور کیا کرے؟ضیاالحق کا خواب پورا ہونے میں 46 سال لگےقومی کھیل کی ہاکیوں سے ٹھکائی

اب تو حالات یہاں تک آن پہنچے ہیں کہ جب بھی میڈیا اور سوشل میڈیا پر کسی بھی طرز کی ہائی پروفائل واردات کا ڈنکا بجنے لگتا ہے تو ٹھیلے والا بھی یقین سے بتاتا ہے کہ ’اینہے جیل نہیں جانا، چھٹ جانا اے۔‘

عموماً ان مجرموں کا بال کم ہی بیکا ہوتا ہے جن کا جرم قانون نافذ کرنے والوں کی اوقات سے بڑا ہو یا جن مجرموں کا دماغ چل جائے اور وہ طے شدہ دائروں، سمجھوتوں یا انڈرسٹینڈنگ کے مدار سے نکل کے اپنا وکھرا دائرہ بنانے کی کوشش کریں۔ یا پھر ان کے ہتھے کوئی ایسے راز چڑھ جائیں کہ کسی بااثر کے لیے چلتا پھرتا بم بن جائیں یا پھر اپنے آپریٹرز اور ماسٹر مائنڈکے لیے کسی کام کے نہ رہیں اور خامخواہ کا بوجھ ہو جائیں۔

ایسوں سے پھر کڑا رسمی یا غیر رسمی انصاف کرنا ہی پڑ جاتا ہے۔ اس انصاف کو بھی سسٹمتمغے کی طرح سینے پر سجا کے بتاتا ہے کہ اندھیرا بھلے ہو مگر اندھیر ہرگز نہیں۔ گورننس بھینگی ضرور ہو سکتی ہے مگر اندھی نہیں۔

جن ملزموں کی کہیں بھی کسی بھی طرح کی پہنچ ہو۔ پھر بھی ستاروں کی گردش کے سبب اچانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے لیے وقتی چارہ بن جائیں تو ایسے کارآمد لاڈلوں اور لاڈلیوں پر کمزور ایف آئی آر، مکرنے کے ماہر گواہوں اور لاغر ثبوتوں کے ساتھ کچھ عرصے مقدمہ بھی چلتا ہے۔

عوامی دباؤ کے سبب نظام چلانے والوں پر وقتی گھبراہٹ بھی طاری ہوتی ہے، ملزم کو بظاہر جیل کسٹسڈی بھی ہو جاتی ہے، ملزم سرکاری عمل دار ہو تو تب تک معطلی بھی رہتی ہے جب تک میڈیا یا رائے عامہ اس پر فوکسڈ ہے اور پھر ساری قانونی و صحافتی کاوشیں وقت کے غبار میں کہیں بتدریج گم ہو جاتی ہیں یانئی وارداتوں کے غل غپاڑے میں دب کے رہ جاتی ہیں۔

جسے معافی ملنی ہے اس کی بخشش دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ بھلے وہ معافی اللہ کے نام پر کسی مظلوم ماں کے لرزتے لبوں سے ملے، کسی باپ کو دھمکی دے کر حاصل کردہ دستخطوں کے ذریعے ہو یا پھر ناکافی ثبوتوں اور ناقص میڈیکل رپورٹوں کے سائے میں دستیاب ہو۔

پنکی کا جانے کیا ہو گا البتہ یہ چمن یونہی رہے گا۔

ہم روحِ سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان

کل اور کسی نام سے آ جائیں گے ہم لوگ

(رضی اختر شوق)

کراچی میں منشیات فروشی کی ملزمہ کی بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیشی کی تحقیقات شروع، این ایف اے کی سربراہ قائمہ کمیٹی میں طلبدماغ کو مفلوج کرنے والا آئس کا نشہ: ’مجھے اپنی بیوی پر ہی شک ہو گیا کہ مخالفین نے اُسے مجھے مارنے کے لیے بھیجا ہے‘بیوی کی گاڑی میں بھنگ چھپا کر انھیں سزائے موت دلوانے کی کوشش جسے ایک کیمرے نے بے نقاب کیاکیم سیکس: ’جنسی لذت کے لیے آئس کا نشہ کرنے سے لطف تو دوبالا ہوا لیکن ہم تیزی سے کمزور پڑنے لگے‘’جورڈن گینگ‘: لاہور پولیس نے منشیات ’چاکلیٹ میں ملا کر‘ بیچنے والے گروہ کو کیسے پکڑا؟’غریبوں کی کوکین‘: بشار الاسد کے بعد اب شام کی 5.6 ارب ڈالر کی ’منشیات کی سلطنت‘ کا کیا بنے گا؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More