Getty Images
انڈین حکومت نے گذشتہ دنوں پہلی بار باضابطہ طور پر اُن چھ فوجی اہلکاروں کے نام ظاہر کیے ہیں جو مئی 2025 میں پاکستان کے ساتھ ہونے والی فضائی جھڑپوں کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔
انڈیا نے اس کارروائی کو سرکاری سطح پر ’آپریشن سندور‘ جبکہ پاکستان نے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کا نام دیا تھا۔
تقریباً ایک سال کی تاخیر کے بعد ہلاک ہونے والے انڈین فوجیوں کے نام سامنے لانے پر انڈیا کی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس عمل کو ’عوام کو گمراہ کرنے‘ اور ’فوج کے مورال کو گرانے‘ کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے جبکہ انڈین وزارت دفاع کی جانب سے اس معاملے پر وضاحت بھی جاری کی گئی ہے۔
سوموار (29 جون) کو کانگریس پارٹی کے رہنما ہری پرساد نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔
انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں واضح طور پر کہا تھا کہ آپریشن سندور کے دوران انڈین فوج کو کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر اتنی قومی اہمیت کے معاملے پر پارلیمنٹ کو گمراہ کیا گیا تو اس کی جوابدہی سے بچا نہیں جا سکتا۔ راج ناتھ سنگھ کو پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔‘
یاد رہے کہ حالیہ تنقید کے بعد وزارت دفاع کی جانب سے وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے پارلیمان میں دیے گئے بیان کی غلط تشریح کی گئی۔
واضح رہے 28 جولائی 2025 کو پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران لوک سبھا میں آپریشن سندور پر بحث کے دوران وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپوزیشن سے کہا تھا ’اگر آپ سوال پوچھنا چاہتے ہیں تو پوچھیں کہ کیا اس آپریشن میں ہمارے بہادر سپاہیوں کو کوئی نقصان پہنچا، اس کا جواب نہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ وزیر دفاع کے مکمل بیان کو نظر انداز کیا گیا اور یہ بیان آپریشن سندور میں انڈین پائلٹس ہلاک ہونے کی خبروں کے ردعمل میں دیا گیا تھا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ چاہے انڈین طیاروں کو گرائے جانے سے متعلق پاکستانی دعوے ہوں یا اس آپریشن میں ہونے والا جانی و انفراسٹرکچر کا نقصان، انڈین حکام نے شروع ہی سے اس معاملے پر واضح تفصیلات پیش نہیں کیں اور اس ضمن میں تصدیق کا عمل کافی سست رہا۔
’سٹریٹیجک سے زیادہ سیاسی‘
بی بی سی اُردو نے اس معاملے سے متعلق دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی سے بات کی اور ان سے پوچھا کہ آیا انڈین حکومت کی جانب سے واضح معلومات سامنے لانے میں تاخیر کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟
راہل بیدی کے مطابق ’یہ اس حکومت کی اپنی سیاسی حکمت عملی ہے، نہ کہ کوئی سٹریٹیجک حکمت عملی۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے بھی متعدد مواقع پر لڑاکا جہاز گرائے جانے کی بات کی گئی لیکن اس پر بھی انڈین حکومت کی جانب سے نہ تو تردید پیش کی گئی اور نہ ہی تصدیق۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل چین کے ساتھ وادی گلوان میں ہونے والے تصادم میں بھی حکومت نے یہ موقف اپنایا تھا کہ ’نہ کوئی آیا اور نہ کوئی گیا ہے۔‘ اُس تصادم میں بھی مرنے والے انڈین فوجیوں کی تعداد کی فوری تصدیق نہیں کی گئی تھی۔
انھوں نے کہا کہ اس نوعیت کا رویہ اپنانے سے بظاہر حکومت پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے اور ساتھ ساتھ فوج کی ساکھ بھی مجروح ہوتی ہے کیونکہ ہماری فوج کا موٹو ’ستیہ میو جیتے‘ (سچ کی جیت ہوتی ہے) ہے اور بالآخر سچ سامنے آ گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران کتنے جہاز گرے کئی مہینوں تک اس کا سرکاری سطح پر کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ ’حالانکہ انڈیا کو رفال جہاز دینے والی فرانسیسی کمپنی ڈسالٹ ایوی ایشن کے سی ای او نے بھی ایک رفال کے گرنے کی بات کو تسلیم کیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سچ جاننے کا حق عوام اور فوج دونوں کو ہے۔ مرنے والوں کا ذکر کیا گيا لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ وہ آپریشن سندور میں مارے گئے۔ یہ بات کافی پریشان کُن اور افسوسناک ہے، کہیں نہ کہیں تو چیزیں کمپرومائزڈ نظر آتی ہیں۔‘
یاد رہے کہ رواں ماہ (جون 2026) کے آغاز پر انڈین فوج نے آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے رائفل مین سنیل کمار کو بعد از مرگ ویر چکرا سے نوازا تھا اور انڈین حکومت کی طرف سے اُس وقت جاری کردہ فہرست میں سنیل کمار کا ’ڈیٹ آف ایکٹ‘ 10 مئی 2025 لکھا گیا تھا، تاہم یہ مکمل طور پر واضح نہیں کیا گیا تھا کہ وہ آپریشن سندور کے دوران ہلاک ہوئے۔
Getty Images
انڈیا میں دفاعی امور پر لکھنے والے ایک صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں ابتدا ہی سے زیادہ شفافیت عوامی اعتماد کو مضبوط بنا سکتی تھی۔ ’ایسا نہیں کہ انڈیا نے اس بارے میں معلومات فراہم نہیں کیں لیکن یہ بھی واضح ہے کہ پورا سچ نہیں بتایا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جو معلومات دوسرے ذرائع سے بتدریج سامنے آئیں وہ حکومت بھی بتا سکتی تھی۔‘
انڈیا مئی 2025 کی لڑائی میں پاکستانی کارروائی میں ہونے والا نقصان تسلیم کرنے سے گریزاں کیوں؟لڑاکا طیاروں اور میزائلوں کے نئے آرڈر: 2025 میں انڈیا اور پاکستان کے دفاعی اخراجات کتنے بڑھے؟’آپریشن سندور‘ کا باعث بننے والا پہلگام واقعہ، ایک سال بعد سیاحتی مقام پر ’زندگی پہلے جیسی نہیں رہی‘
ان کے مطابق گذشتہ سال 11 مئی کی ڈی جی ایم او کی بریفنگ میں ہلاکتوں کا ذکر ہوا لیکن نام ظاہر نہیں کیے گئے۔
ان کے مطابق مرنے والوں کی سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کی گئیں جبکہ اعلیٰ حکام نے اُن کے گھروں میں جا کر تعزیت بھی کی، لیکن اس کا ذکر عوامی سطح پر نہیں کیا گیا۔
ان کے مطابق یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ یہ سب کرنے کا مقصد کیا تھا۔
’پارلیمان کے ذریعے ملک کو بتایا جانا چاہیے‘
سکیورٹی اور سٹریٹجک امور پر نظر رکھنے والے انڈین بحریہ کے سابق اہلکار سی ادے بھاسکر نے کہا کہ جہاں تک یہ سوال ہے کہ کیا شروع ہی سے زیادہ شفافیت عوامی اعتماد کو مضبوط اور اپوزیشن کی تنقید کا جواب ہو سکتی تھی، تو اس کا جواب ’ہاں‘ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’انڈین حکومت نے بظاہر نقصانات کے بارے میں کوئی بھی تفصیلات شیئر نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس بات کو یہ کہہ کر درست ٹھہرایا جا سکتا ہے کہ جب کوئی آپریشن جاری ہو، تو ضروری نہیں کہ تمام آپریشنل ڈیٹا ظاہر کیا جائے جس سے سٹریٹجک یا ٹیکٹیکل صورتحال کے حوالے سے جاری معاملات پر کوئی آنچ آئے۔‘
’لیکن ہمارے سامنے ایسی صورتحال آئی جہاں لڑائی ختم ہونے کے بعد، نقصانات کا پہلا تذکرہ سنگاپور میں سی ڈی ایس کی طرف سے کیا گیا۔ اس وقت، خود میں نے بھی اس بارے میں لکھا تھا، اور بہت سے دوسرے لوگوں نے بھی لکھا تھا، کہ یہ زیادہ مناسب ہوتا اگر اس قسم کی معلومات پارلیمان میں شیئر کی جاتیں۔ کیونکہ کسی بھی جمہوریت میں، پارلیمان ہی وہ فورم ہوتا ہے جسے سب سے پہلے مطلع کیا جانا چاہیے اور پارلیمان کے ذریعے پورے ملک کو۔‘
بھاسکر نے مزید کہا کہ ’اگر ایسا ہوتا تو یہ انڈیا کے جمہوری تشخص کو مزید نکھارتا، عوامی اعتماد کو مضبوط کرتا، اپوزیشن کی تنقید کا جواب بنتا اور بالواسطہ انداز میں مسلح افواج کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنتا۔‘
کیا نقصانات کا بتدریج انکشاف کوئی سٹریٹجک انتخاب تھا، یا اس کے ذریعے معلومات کا ایک خلا (انفارمیشن ویکیوم) پیدا ہوا؟ اس کا جواب دیتے ہوئے ادے بھاسکر نے کہا کہ ’معلومات کو ظاہر نہ کرنے کا فیصلہ سٹریٹجک سے زیادہ ایک سیاسی انتخاب تھا۔‘
’میرے خیال میں مودی حکومت نے پبلک میں کسی بھی ناکامی یا دھچکے کو تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا۔ ہم نے یہ گلوان میں دیکھا اور اب ہم یہ آپریشن سندور میں دیکھ رہے ہیں۔ تو یہ سٹریٹجک انتخاب سے زیادہ ایک سیاسی انتخاب نظر آتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس وجہ سے جو صورتحال پیدا ہوئی تو انڈین عوام نے بیرونی ذرائع سے رجوع کیا۔ ’خاص طور پر یورپ اور امریکہ کی ویب سائٹس اس (معلومات کے) خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہی تھیں اور واضح طور پر، پاکستان کی طرف سے بھی اس چیز کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔‘
’آپریشن سندور‘ کا باعث بننے والا پہلگام واقعہ، ایک سال بعد سیاحتی مقام پر ’زندگی پہلے جیسی نہیں رہی‘انڈیا مئی 2025 کی لڑائی میں پاکستانی کارروائی میں ہونے والا نقصان تسلیم کرنے سے گریزاں کیوں؟’آپریشن ابھی بند نہیں ہوا‘: پہلگام حملے کی برسی سے قبل انڈین وزیر دفاع کی دھمکی اور خواجہ آصف کا جواب’آپریشن سندور‘ میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے نام سامنے آنے کے بعد انڈیا میں تنازع، وزارتِ دفاع کو راج ناتھ سنگھ کے بیان کی وضاحت کیوں جاری کرنا پڑی؟’سب کا مالک ایک ہے‘: انڈین آرمی چیف کے ’نماز کے وقت‘ پاکستان میں حملے سے گریز کے بیان پر تنقید