فلپائن میں آتش فشاں پھٹنےکاخدشہ ،وارننگ جاری

بول نیوز  |  Jan 13, 2020

فلپائن کے دارالحکومت منیلا کے قریب ٹال آتش فشاں فعال ہوگیاہے ۔حکومت  کی جانب سےوارننگ جاری کردی گئی ہے۔آتش فشاں منیلا سے 70 کلومیٹر (45 میل) جنوب میں واقع ہے۔

فلپائن کے دارالحکومت منیلا کے  قریب آتش فشاں سے اخراج کے باعث منیلا ایئرپورٹ کی 240 پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں اور10 ہزار افراد عارضی کیمپوں میں منتقل کردیئے گئے ہیں۔

لاوا کےاخراج  کی  وجہ سے آتش فشاں کے قریب کاعلاقہ مسلسل زلزلے کے جھٹکوں کی زدپر ہے، دھویں کےساتھ بجلی بھی کڑک رہی ہے۔ اس  صورتحال کے  پیش ِ نظراسکول اور سرکاری دفاتربھی بند کردیئےگئےہیں۔

فلپائن کےانسٹی ٹیوٹ آف آتش فشانی اور زلزلیات (فیوولکس) کاکہنا ہےکہ ٹا ل آتش فشاں میں  شدت  آگئی ہےجومقامی وقت کےمطابق 02:49  سے 04.28 منٹ میں لاواپھٹ کر باہر  آسکتاہے۔ فی الحال  بجلی کی گرج چمک کےساتھ ساتھ کمزورطاقت کےلاوےکااخراج  جاری ہے۔

اس کےعلاوہ حکام نےآتش فشاں پھٹنے کےبعدسونامی کی بھی پیش گوئی کی ہے جو لاوا  پھٹنےکے بعد ملبے کے بچنے کے سبب ہوسکتی ہے۔

ٹال،فلپائن کادوسراسب سے زیادہ فعال جبکہ دنیاکےسب سےچھوٹےآتش فشاں میں سےایک ہے۔

فلپائن میں پچھلے 450 سالوں میں کم از کم 34 آتش فشاں پھٹنےکا واقعہ ریکارڈہوئےہیں۔

لاواکیاہے؟لاوا دراصل پگھلی ہوئی چٹانیں ہوتی ہیں جس کا درجۂ حرارت 1200 ڈگری سیلسیئس تک ہوتا ہے اور یہ اپنی زد میں آنے والی ہر چیز کو ملیامیٹ کرتا ہوا چلتا ہے۔ لیکن اس کے بہنے کی رفتار بہت سست ہوتی ہے اور لوگ با آسانی  بچ سکتے ہیں۔

زیادہ خطرناک آتش فشاں کے دہانے سے نکلنے والی گیسیں ہوتی ہیں۔

اس سے بھی زیادہ ہلاکت خیز آتش فشاں سے نکلنے والا مادہ ہوتا ہے جسے ‘پائروکلاسٹک فلو’ کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل گیس، راکھ اور کیچڑ کا ملغوبہ ہے جو عام طور مخروطی پہاڑوں سے خارج ہوتا ہے اور کسی برفانی تودے کی طرح تیزی سے بہتا ہوا آس پاس کے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

پائروکلاسٹک فلو کا درجۂ حرارت 700 سیلسیئس تک پہنچ جاتا ہے۔

گزشتہ 500 برسوں میں اس سے ایک لاکھ 20 ہزار ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

سنہ 1979 میں اطالوی شہرپومپئے کی تباہی کا سبب بھی یہی پائرکلاسٹک فلوتھا۔

آتش فشاں سےبہہ نکلنے والے کیچڑ کو ’لاہار‘ کہا جاتا ہے جو چٹانوں، درختوں اور مکانوں کو اپنی لپیٹ میں لےکربہنا شروع کر دیتا ہے۔

1985 میں کولمبیا میں لاہارنے 25 ہزارلوگوں کوہلاک کردیاتھا۔

ماضی میں ایسے بڑے واقعات کے بعد قحط اور وبائیں پھیلتی رہی ہیں کیوں کہ گیسیں فضا میں شامل ہو کر موسمیاتی تبدیلیوں کا باعث بن سکتی ہیں۔

تاہم حالیہ برسوں میں سائنس کی ترقی کے باعث آتش فشاں سے ہونے والی تباہی کو بڑی حد تک روکنا ممکن ہو گیا ہے۔

  

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More