بھارت کا متنازع شہریت قانون مائیکرو سافٹ کے سی ای او بھی بول پڑے

شمع نیوز  |  Jan 14, 2020

نیویارک( آن لائن )امریکی ملٹی نیشنل کمپنی مائیکرو سافٹ کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) نے بھارت کے متنازع شہریت قانون پر خاموشی توڑتے ہوئے ہندوستانی حالات پر پہلی بار بات کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے۔مائیکرو سافٹ کے سی ای او ستیا نڈیلا جو کہ بھارتی نژاد ہیں انہوں نے متنازع شہریت قانون کے بعد بھارت میں پیدا ہونے والی صورتحال کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔ستیا نڈیلا نے نیویارک میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران معروف ویب سائٹ بزفیڈ نیوز کے ایڈیٹر ان چیف کی جانب سے کیے گئے ایک سوال پر متنازع بھارتی شہریت

قانون پر پہلی بار بات کی۔ستیا نڈیلا نے سوال کے جواب میں کہا کہ ان کے خیال میں متنازع شہریت قانون کے بعد بھارت میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ افسوس ناک ہے۔مائیکرو سافٹ کے بھارتی نژاد سی ای او نے متنازع شہریت قانون پر انتہائی مختصر بات کرتے ہوئے بھارت کی موجودہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وہاں کے حالات کو برا قرار دیا۔ستیا نڈیلا کی جانب سے دیے گئے جواب کی ٹوئٹ کیے جانے کے بعد ستیا نڈیلا کو بھارتی افراد کی جانب سے مبینہ تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا جس کے بعد مائیکرو سافٹ انڈیا کی جانب سے سی ای او کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا گیا۔مائیکرو سافٹ انڈیا کے ٹوئٹر ہینڈل پر سی ای او ستیا نڈیلا کے نام سے منصوب ایک بیان میں کہا گیا کہ ہر ملک کی طرح بھارت کو بھی اپنی سرحدی حفاظت سمیت اپنے امیگریشن قوانین بنانے کا حق ہے۔ستیا نڈیلا کے نام سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ بھارت میں ایک ایسے بنگلا دیشی مہاجر کو دیکھنا چاہتے ہیں جو وہاں آکر کسی ٹیکنالوجی ادارے کا سی ای او بنے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ امیگریشن قوانین بنانا بھارتی حکومت کا اختیار ہے اور یہی جمہوریت ہے۔ستیا نڈیلا کسی بھی بڑے ملٹی نیشنل ٹیکنالوجی ادارے کے پہلے بڑے عہدیدار ہیں جنہوں نے متنازع بھارتی شہریت قانون کے خلاف بات کی ہے۔مائیکرو سافٹ کے علاوہ گوگل کے سی ای او اور صدر سندر پچائی بھی بھارتی نژاد ہیں تاہم تاحال انہوں نے متنازع شہریت قانون پر بات نہیں کی۔‎

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More