پاک ترک تجارتی حجم 5ارب ڈالر،مسلہ کشمیر بارے موقف پر قائم ہیں،دباﺅ کے باوجود ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی حمایت کرینگے ،طیب اردگان

روزنامہ خبریں  |  Feb 15, 2020

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان سے تجارتی حجم کو 5 اربڈالر تک لے جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا پاکستان کی ہر ممکن مدد کےلئے تیار ہیں ، میں اور عمران خان اکنامک اسٹریٹجی فریم ورک کا تاریخی معاہدہ کرنے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاک ترک بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے اور یہاں آنے پر بے حد خوشی ہوئی ہے،بہترین مہمان داری پر پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ترک صدر نے کہا کہ اعلیٰ سطح تذویراتی تعاون کونسل کا چھٹا اجلاس دونوں ملکوں کے درمیان ہو گا، توقع ہے کہ پاکستانی قیادت سے ہونے والی ملاقاتیں دوطرفہ تعلقات میں مفید ثابت ہوں گی، اعلیٰ سطح دوروں سے دوطرفہ تعاون کے لئے امکانات سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کا باہمی تجارتی حجم اپنی صلاحیت سے کہیں کم ہے، ہمیں پہلے مرحلے میں دوطرفہ تجارتی حجم کو ایک ارب ڈالر پھر 5ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتے ہیں اور ترکی نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے جبکہ ترکی کو بھی مشکل معاشی حالات کا سامنا تھا، ترکی پر سرکاری قرضہ 72فیصد تھا جسے کم کر32فیصد لائے،ترک حکومت اور عوام نے عزم و ہمت سے اپنی مشکلات پر قابو پایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ دفاعی شعبوں میں تعاون مزید مضبوط ہو رہا ہے، دونوں ملکوں میں ٹرانسپورٹیشن، صحت ، تعلیم توانائی کے شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں، ترک کمپنیاں پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں، ہیلتھ کیئر کے دنیا کے لوگ ترکی کا رخ کرتے ہیں، ترکی نے جدید ہسپتال تعمیر کئے ہیں، ہیلتھ کیئر کےلئے پاکستانی عوام ترکی آسکتے ہیں، ترک صدر نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو ترکی میں سرمایہ کاری کی بھی دعوت دی اور پاکستان کے ساتھ ٹی وی ڈرامہ انڈسٹری اور سیاحت پر مشترکہ منصوبے بنانے کا عزم کا اظہار کیا۔ ترک صدر نے کہا کہ ترک ڈرامہ سیریلز پاکستان میں بے حد مقبول ہیں ہمیں مسلم امہ کےلئے مشترکہ میڈیا پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے کشمیر پر ایک بارپھر پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے لیے کشمیر کی حیثیت وہی ہے جو چناق قلعے کی تھی۔ پاکستان میں کبھی بھی اپنے آپ کو اجنبی ملک میں محسوس نہیں کرتا، پاکستان اور ہمارا دکھ اور درد ایک ہے،پاکستان کی خوشی ہماری خوشی، اس کی کامیابی و کامرانی ہماری کامیابی اور کامرانی ہے،پاکستانی بہن بھائیو، آپ سے نہیں تو کس سے محبت کریں گے، فلسطین پر امریکی پلان امن نہیں قبضے کا منصوبہ ہے، انسداد دہشتگردی کیلئے پاکستانی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، مذاکرات کے ذریعے کشمیر کا حل چاہتے ہیں اپنے موقف پر قائم رہیں گے، ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے جمعہ کو پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔پارلیمینٹ آمد پر وزیراعظم عمران خان، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ترک صدر رجب طیب اردوان کا استقبال کیا ۔مشترکہ اجلاس میں مسلح افواج کے سربراہان، گورنر ز وزراءاعلی آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجا فاروق حیدر مہمانوں کی گیلری میں موجودتھے ۔ ترک صدر طیب اردوان نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی خدمت میں ‘سلامِ محبت’ پیش کرتا ہوں اور دونوں ممالک کی قیادت کو یکجا کرنے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سرکاری دورے پر آپ سے مخاطب ہونا مسرت اور دلی خوشی کا باعث ہے، اس مشترکہ اجلاس سے خطاب کا موقع فراہم کرنے پر میں علیحدہ علیحدہ آپ سب کا شکر گزار ہوں۔ترک صدر نے کہا کہ میرے اسلام آباد میں قدم رکھنے کے ساتھ ہی جس طریقے سے پاکستان کے عوام نے خوشی اور محبت سے استقبال کیا، میں اس پر پاکستانی قوم اور اعلیٰ حکام کا تہہ دل سے مشکور ہوں، میں یہاں پاکستان میں کبھی بھی اپنے آپ کو اجنبی ملک میں محسوس نہیں کرتا۔رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان اور ترکی کے تعلقات سب کے لیے قابل رشک ہیں، سلطنت مغلیہ کے بانی ظہیر الدین بابر نے موجودہ پاکستان سمیت تمام خطے پر تقریبا 350 سال حکومت قائم رکھی اور ہماری مشترکہ تاریخ پر ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 1915 میں جب ترک فوج چناق قلعے کا دفاع کررہی تھی تو اس محاذ سے 6 ہزار کلو میٹر دور اِس سرزمین پر ہونے والے مظاہرے اور ریلیاں ہماری تاریخ کے ناقابل فراموش صفحات پر درج ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں ہونے والے ان تاریخی جلسوں کا مرکز نگاہ چناق قلعے ہی تھا، ان جلسوں کا انتظام کرنے والے منتظمین دراصل چناق قلعے میں برسرپیکار ترک فوجیوں اور ترک قوم کی امداد کا مقصد لیے ہوئے تھے۔انھوں نے کہاکہ پاکستانی عوام کی مدد کو فراموش نہیں کرسکتے۔ پاکستان کے عوام نے اپنا پیٹ کاٹ کر جس طرح ضرورت کے وقت ترکی کی مدد کی ہم اسے کبھی فراموش نہیں کرسکتے نہ کریں گے،ہم ترکی کیلئے سجدے میں دعائیں کرنے والوں کیسے فراموش کر سکتے ہیں، پاکستان کے ساتھ تعلقات ہمیشہ قائم رہیں گے، ہمارا پاکستان کے ساتھ دل کا رشتہ ہے اور ہمارے لیے اس وقت کشمیر کی حیثیت وہی ہے جو آپ کے لیے ہے۔رجب طیب اردوان نے کہا کہ ترک تحریک آزادی کی حمایت میں پاکستانی خواتین نے اپنے زیور بیچ دیے، ہماری دوستی مفاد پر نہیں عشق و محبت پر مبنی ہے، ترکی اور پاکستان کے تعلقات ایسے ہیں جو شاید ہی دنیا میں کسی ممالک کے درمیان دیکھنا ممکن ہوں۔ پاکستان کا دکھ اور درد ہمارا دکھ اور درد ہے، پاکستان کی خوشی ہماری خوشی، اس کی کامیابی و کامرانی ہماری کامیابی اور کامرانی ہے۔ اس سوچ کے ساتھ ہم حالیہ کچھ عرصے میں پاکستان میں آنے والی قدرتی آفات، سیلاب اور زلزلے کی تباہ کاریوں کے موقع پر اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے دوڑے۔ترک صدر نے کہا کہ پاکستانی بھائیوں کی جانب سے ترکوں کی دوستی پر پختہ یقین رکھنے کا طلبگار ہوں
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More