دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 21 ہزار 293 ہو گئی

92 نیوز  |  Mar 26, 2020

روم (92 نیوز) دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 21 ہزار 293 ہو گئی۔ اٹلی میں مزید 7,503 ، اسپین میں 3,647 ، فرانس میں 1,331 اور امریکا میں مزید 1,031 مریض  جان کی بازی ہار گئے ۔

کورونا وائرس کے ہلاکت خیز وار رکے اور نہ ہی پھیلاؤ میں کمی آسکی۔ اٹلی کے بعد اسپین کی مجموعی ہلاکتیں بھی چین سے تجاوز کر گئیں ۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسپین میں 650 سے زائد کورونا متاثرین ہلاک ہو گئے جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 3600 سے تجاوز کر گئیں ۔ اسپین کی نائب وزیر اعظم  کارمائن کالوو  میں بھی  کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ۔

اسپانوی حکومت کے مطابق کارمائن کالوو کے دو بار ٹیسٹ  کیے گئے تھے  جو پازیٹو آئے اور اس وقت اُن کی حالت کافی بہتر ہے ۔

اٹلی میں کورونا وائرس مزید 683 زندگیاں نگل گیا، جس کے بعد وہاں ہلاکتوں کی تعداد 7500سے  تجاوز کرگئی جبکہ متاثرین کی کل تعداد 75 ہزار کے قریب  پہنچ گئی ۔  فرانس میں بھی حالات بدتر ہونے لگے جہاں کورونا وائرس کے باعث   مزید دو سو اکتیس افراد موت کی وادی میں چلے گئے جس کے بعد اموات کی تعداد 1330سے زائد ہوگئی ۔ جرمنی میں 206، برطانیہ میں 465 اور سوئٹزرلینڈ میں مزید 153 افراد کورونا وائرس کے باعث دم توڑ گئے ۔

دوسری جانب امریکا میں  بھی ہر گزرتے دن کیساتھ صورتحال  سنگین تر  ہوتی جارہی ہے ۔ رپورٹس کے مطابق ایک  ہی روز میں 150کے قریب  افراد  مہلک وائرس کی بھینٹ چڑھ گئے ۔ متاثرین کی تعداد  65000 سے زائد ہو گئی ہے۔

ایران میں کورونا وائرس کے مزید 143 مریضوں کے دم توڑ جانے سے مرنے والوں کی تعداد 2 ہزار 77 ہو گئی۔ زیرعلاج مریضوں کی تعداد 15 ہزار 315 ہے اور ساڑھے 9 ہزار سے زائد مریض صحتیاب ہو چکے ہیں۔

سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے کورونا وائرس کو ساری انسانیت کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا وبا سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی تعاون اور مشترکہ اقدامات بےحد ضروری ہیں۔ کسی بھی ملک کے انفرادی اقدامات ناکافی ہوں گے۔

دوسری جانب  یمن میں سعودی اتحاد نے کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے ۔ ترجمان اتحادی فوج کرنل ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ یمن میں کررونا وائرس کے پھیلاو روکنے  اور علاج کے لئے  ہر ممکن  کوشش کی جائے گی ۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More