وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد چینی بارے کمیشن کی رپورٹ جاری کردی گئی

نوائے وقت  |  May 21, 2020

وفاقی کابینہ نے چینی بحران کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی رپورٹ جاری کر دی۔

یہ بات وزیر اطلاعات شبلی فراز نے جمعرات کے روزاسلام آباد میں ایک میڈیا بریفنگ کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے احتساب اور نظم ونسق میں شفافیت کا پختہ عزم کررکھا ہے۔اس موقع پر احتساب کے بارے میں وزیراعظم کے معاون خصوصی مرزا شہزاد اکبر نے کہا کہ چینی انکوائری کمیشن گزشتہ پانچ برس کے دوران چینی کی قیمت میں اضافے کی وجوہات جاننے کیلئے قائم کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کمیشن نے اپنی تفصیلی رپورٹ کا بینہ کے آج ہونے والے خصوصی اجلاس میں پیش کی۔شہزاد اکبر نے کہا کہ رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ شوگر ملز مالکان گنے کے کاشتکاروں کو امدادی قیمت سے بھی کم نرخ ادا کرتے ہیں۔اس کے علاوہ تمام شوگر ملز گنے کے وزن میں پندرہ سے تیس فیصد تک کمی کرتی ہیں۔شہزاد اکبر نے کہا کہ کمیشن نے کسانوں کو نقد رقم یا چینی کی صورت میں پیشگی ادائیگیوں کی شکل میں بے ضابطگیاں بھی پائی ہیں جو بے قاعدہ بنکنگ کے مترادف ہے۔مرزا شہزاد اکبر نے کہا کہ آج پاکستان کی تاریخ کا اہم دن ہے کیونکہ اس سے قبل کسی حکومت نے ایسا کوئی کمیشن تشکیل نہیں دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے تمام حکومتی مشیروں کو اپنے اثاثے ظاہر کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ شفافیت یقینی بنائی جاسکے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران چینی کی صنعت کو انتیس ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ٹیکس ری فنڈ حاصل کرنے کے بعد ملک کی اٹھاسی شوگر ملز کا مجموعی انکم ٹیکس دس ارب روپے تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چھ بڑے گروپوں کا شوگر انڈسٹری میں اکاون فیصد حصہ ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ای ریسلر کی لاش سمندر سے3 روز بعد برآمد

ڈبلیو ڈبلیو ای ریسلر کی لاش سمندر سے3 روز بعد برآمد

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More