کروڑوں ڈالر مالیت کی کتابیں، مسودے اور دستاویزات

وائس آف امریکہ اردو  |  May 21, 2020

واشنگٹن — 

پاکستان کے بڑے شہروں میں پرانی کتابیں فٹ پاتھ پر فروخت کی جاتی ہیں یا چھٹی والے دن ٹھیلے سج جاتے ہیں۔ چند ایک دکانیں ایسی ہوں گی جہاں صرف پرانی کتابیں دستیاب ہوں۔

لیکن، مغربی ممالک میں یہ بہت بڑا کاروبار ہے اور پرانی کتابوں کی دکانوں کے ویسے ہی سلسلے ہوتے ہیں جیسے ریسٹورنٹس یا ملبوسات کے اسٹورز کی چین ہوتی ہے۔

اردو میں قدیم مخطوطے یا مشہور لوگوں کی دستخط کی ہوئی کتابیں معمولی قیمت پر مل جاتی ہیں۔ لیکن، امریکہ یا یورپ میں ایسی کتابیں باقاعدہ نیلام کی جاتی ہیں اور بعض اوقات ان کی قیمت ہیرے جواہرات سے زیادہ ہوتی ہے۔

اب تک 13 کتابیں، مخطوطے یا دوسری دستاویزات ایسی ہیں جو ایک کروڑ ڈالر سے زیادہ میں نیلام ہوئی ہیں۔ یہ سب کئی سو سال پرانی ہیں اور خریدنے والوں نے انھیں سرمایہ کاری کی غرض سے نہیں بلکہ اپنے کتب خانے میں محفوظ کرنے کے لیے حاصل کیا۔

تاریخ میں سب سے زیادہ مہنگی فروخت ہونے والی کتاب بک آف مورمون کا مسودہ ہے جسے 1830 میں مورمون فرقے اور لیٹر ڈے سینٹ تحریک کے بانی جوزف اسمتھ نے تحریر کیا تھا۔ ستمبر 2017 میں چرچ آف جیزز کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس نے اسے ساڑھے 3 کروڑ ڈالر میں خریدا۔

جیمز اسمتھ کا دعویٰ تھا کہ انھوں نے 72 صفحات کی اس کتاب میں ان انبیا کی تحریریں جمع کی ہیں جو ہزاروں سال پہلے امریکی سرزمین پر تبلیغ کرتے تھے۔ ان کی کتاب کا یہ واحد نسخہ بچا ہے جو 1903 سے ریاست مزوری کے گرجا گھر دا انڈیپینڈنس کی ملکیت تھا۔

چین میں ساڑھے نو سو سال پہلے کے ادیب اور تاریخ داں زینگ گونگ کا ایک خط مئی 2016 میں 3 کروڑ 17 لاکھ ڈالر میں نیلام کیا گیا۔ اسے چینی ارب پتی بزنس مین اور فلم پروڈیوسر وینگ ژونگ جن نے خریدا۔

زینگ گونگ چین پر تین صدیوں تک حکمرانی کرنے والے سونگ خاندان کے عہد سے تعلق رکھتے تھے۔ اس خط کی صورت میں ان کی بس ایک ہی تحریر بچی ہے۔ یہ خط انھوں نے ایک دوست کے نام لکھا تھا۔

تیسرے نمبر پر لیونارڈو ڈ اونچی کی ذاتی نوٹ بک ہے جس میں ان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی سائنسی تحریریں موجود ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ 16ویں صدی کا مرتب مسودہ ہے۔ اتفاق سے یہ نوٹ بک ہمیشہ سے مشہور لوگوں کے قبضے میں رہی ہے۔

17ویں صدی کے اطالوی مصور گیوسیپے گیزی، فرسٹ ارل آف لیسٹر تھامس کوک اور امریکی بزنس مین ارمنڈ ہیمر کے بعد اب یہ بل گیٹس کے پاس ہے جنھوں نے اسے نومبر 1994 میں 3 کروڑ 8 لاکھ ڈالر میں خریدا تھا۔ آج کے حساب سے اس کی قیمت 5 کروڑ 31 لاکھ ڈالر بنتی ہے اور یوں یہ دنیا کا سب سے بیش قدر مسودہ ہے۔

اس فہرست میں چوتھے نمبر پر برطانوی منشور میگنا کارٹا کی 1297 میں بنائی گئی نقل بمطابق اصل ہے۔ یہ ماضی میں برطانوی نوابین اور پھر امریکہ کے آزاد صدارتی امیدوار راس پرو کے پاس رہا۔ اسے دسمبر 2007 میں امریکی ارب پتی ڈیوڈ روبنسٹین نے 2 کروڑ 13 لاکھ ڈالر میں خریدا۔ اس کی قدر اب مزید 50 لاکھ ڈالر بڑھ چکی ہے۔

مہنگے ترین مخطوطوں میں سے ایک فردوسی کا شاہنامہ بھی ہے جو 1525 سے 1535 کے درمیان تحریر کیا گیا۔ یہ باتصویر ہے اور آغا فراق نے مصوری سے اس کی رونق بڑھائی ہے۔ اسے ایران کے بادشاہ طہماسپ نے سلطنت عثمانیہ کے شاہ سلیم کو پیش کیا تھا۔ اسے اپریل 2011 میں ایک کروڑ 21 لاکھ میں نیلام کیا گیا۔

ایک ملین ڈالر سے زیادہ قدر رکھنے والی تقریباً ڈیڑھ سو کتابوں، مخطوطوں اور دستاویزات میں توریت، انجیل اور قرآن کے قدیم نسخوں کے علاوہ امریکہ میں شائع ہوئی پہلی کتاب، 17ویں صدی میں شائع شدہ شیکسپئیر کے ڈراموں کا مجموعہ، امریکہ کا اعلان آزادی، ایکٹس آف کانگریس، ابراہام لنکن کی آخری تقریر، پہلے اولمپک گیمز کا مینی فیسٹو، موزارٹ کی سمفونیز کا مسودہ اور ایپل کمپنی کے تین بانیوں کا دستخط شدہ معاہدہ بھی شامل ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More