برطانیہ نے پاکستان سمیت دیگر ممالک کیلئے ٹریول ایڈوائزری جاری کردی

ہم نیوز  |  Jun 06, 2020

کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر برطانیہ اور برٹش ایئرویز نے پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک کو ٹریول ایڈوائزری جاری کردی ہے۔

برطانوی حکومت نے بیرون ممالک سے آنے والے مسافروں پر قرنطینہ کی شرط عائد کردی ہے۔

برطانوی حکومت اور برٹش ایئرویز کی جانب سے جاری ایڈوائزری کے مطابق 8 جون سے برطانیہ پہنچنے والے مسافروں پرقرنطینہ کی شرط عائد کردی گئی ہے۔ مسافربرطانیہ پہنچنے پراپنی رہائش گاہوں پر قرنطینہ ہوں گے۔

خیال رہے کہ برطانیہ میں دو لاکھ 83 ہزار سے زائد کورونا وائرس کے مریض ہیں اور 40 ہزار دو سو سے زائد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

برطانیہ میں کورونا ٹیسٹ اینڈ ٹریس سسٹم لاگو کردیا گیا ہے اور کورونا مریضوں سے ملاقات کرنے والوں کو آئسولیٹ کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ دنیا میں کورونا کیسز کی تعداد 68 لاکھ 68 ہزار سے زائد ہو گئی ہے اور تین لاکھ 98 ہزار 586 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جب کہ 33 لاکھ 63 ہزار سے زائد مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔

امریکہ میں 24 گھنٹوں کے دوران مزید 715 اموات ہوئی ہیں اور جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ گیارہ ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ امریکہ میں انیس لاکھ 65 ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

برازیل امریکہ کے بعد 6 لاکھ سے زائد کورونا کیسز والا دوسرا ملک بن گیا ہے اور کیسز کی تعداد 6 لاکھ 46 ہزار تک پہنچ گئی ہے جب کہ 35 ہزار سے زائد مریض ہلاک ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 

روس میں 4 لاکھ 49 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جب کہ 5 ہزار پانچ سو سے زائد اموات واقع ہوچکی ہیں۔

اٹلی میں کورونا وبا سے مزید 71 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 33 ہزار سات سو سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ دو لاکھ 34 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

فرانس میں کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 29 ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 52 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔

جرمنی میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 8 ہزار 7 سو سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ مجموعی کیسز کی تعداد ایک لاکھ 85 ہزارسے تجاوز کرگئی ہے۔

ترکی میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار چھ سو سے زائد جبکہ مجموعی کیسز کی تعداد ایک لاکھ 68 ہزار340 ہوگئی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More