کیا ایران میں شادی کی تقریب سے کورونا وائرس پھیلا؟

اردو نیوز  |  Jun 06, 2020

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایک شادی کی تقریب کی وجہ سے ایران میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں دوبارہ اضافہ ہوا، تاہم وبا کی دوسری لہر کے حوالے سے وارننگ کے باوجود انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ معیشت کو کھولے کے بغیر ملک کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

عرب نیوز کے مطابق سنیچر کو ایرانی صدر نے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ ’ایک مقام پر کورونا متاثرین کی تعداد میں ایک شادی کی تقریب کی وجہ سے اضافہ ہوا جس سے لوگوں اور طبی عملے کے لیے مسائل پیدا ہوئے، اور ملکی معیشت اور نظام صحت کو نقصان پہنچا۔‘

تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ تقریب کب اور کہاں منعقد ہوئی؟

مزید پڑھیںکورونا کا جغرافیہ تیزی سے بدل رہا ہےNode ID: 483041ٹرمپ کے بیانات نہ ہٹانے پر فیس بُک ملازمین میں بے چینیNode ID: 483401انڈیا میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد اٹلی سے بھی زیادہ Node ID: 483411

 

ایران نے اپریل کے وسط سے لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی کی ہے جس کے بعد حالیہ دنوں میں متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ جمعرات کو 35 سو سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جو ایران میں وبا پھوٹنے سے لے کر اب تک سب سے بڑی تعداد ہے۔

ایران میں کورونا وائرس سے آٹھ ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ 67 ہزار سے زائد متاثرین ہیں۔

ایران میں محکمہ صحت کے حکام وبا کی دوسری لہر کے بارے میں خبردار کرتے رہے ہیں، لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نئے کیسز میں اضافے کی وجہ زیادہ ٹیسٹنگ ہو سکتی ہے۔

ان حکام میں سے ایک نے بتایا کہ تہران میں سامنے آنے والے 70 فیصد متاثرین وہ تھے جنہوں نے حالیہ دنوں میں تہران سے باہر سفر کیا تھا۔

ایران میں یونیورسٹیز کو ساڑھے تین ماہ کے بعد سنیچر کو کھول دیا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)ایرانی صدر نے کہا کہ ’ان حالات میں ہمارے پاس کوئی اور چوائس نہیں ہے، کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ ہم نے کام کرنا ہے، ہماری فیکٹریوں کو متحرک ہونا ہے، ہماری دکانوں کو کھلنا ہے، اور ملک میں نقل و حرکت کو جاری رکھنا ہے کیونکہ یہ ضروری ہے۔‘

 واضح رہے کہ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق یونیورسٹیز کو ساڑھے تین ماہ کے بعد سنیچر کو کھول دیا گیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More