'اسرائیلی فلسطینی ہونا امریکہ میں سیاہ فام ہونے جیسا ہے'

وائس آف امریکہ اردو  |  Jun 29, 2020

واشنگٹن — یہ کہنا ہے عرب اسرائیلی سوشل میڈیا سٹار نُصیر یاسین کا، جنہیں دنیا 'ناس ڈیلی' کے نام سے جانتی ہے۔ وہ وائس آف امریکہ کی فائزہ بخاری سے بذریعہ سکائپ بات چیت کر رہے تھے۔

نصیر اسرائیل میں مقیم ایک فلسطینی گھرانے میں پیدا ہوئے،اور پھر وہیں پلے بڑھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب اسرائیلی شناخت فلسطینی عرب شناخت سے مختلف ہے۔

پھر وہ ہوا جو اکثر تخلیق کاروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ نو سے پانچ کی دفتری جاب سے اکتاہٹ! جاب چھوڑ دی۔ کیمرہ تھاما اور دنیا کی سیر کو نکل گئے۔ یہیں سے ان کے نئے کیریئر کا آغاز ہوا۔ قسمت کی دیوی مہربان ہوئی اور وہ ایک کامیاب سوشل میڈیا سٹار بن گئے۔ آج انٹرنیٹ پر اُن کے ڈھائی کروڑ کے لگ بھگ فالوورز ہیں۔

میں نے ان سے پوچھا کہ آخر وہ ہر ویڈیو میں ایک ہی ڈیزائن کی ٹی شرٹس کیوں پہنتے ہیں، کیا فیس بک کے خالق مائیک زکربرگ سے متاثر ہیں؟ (مائیک ہمیشہ گرے رنگ کی سادہ ٹی شرٹس پہنچے ہیں)۔

کہنے لگے یہ مجھے باقی ماندہ زندگی کی یاد دہانی کراتی ہے۔ سادہ حساب ہے، دیکھیئے امریکہ میں اوسط عمر 76 سال ہے۔ 28 سال ان کی عمر۔۔یعنی انہوں نے اپنی 36 فیصد زندگی گزار لی، یہی نمبر ان کی ٹی شرٹ پر لکھا ہے۔

سوشل میڈیا پر کامیابی کیلئے ان کی نصیحت کہ اِس کام کو پیسے یا شہرت کی بجائے تخلیقی حس کی آسودگی کیلئے کیا جائے۔ نصیر کے مطابق ان کی ایک ویڈیو کم از کم تین افراد کی مدد سے تقریباً 13 گھنٹوں میں تیار ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر نام کمانے کے نو آموز خواہش مندوں کیلئے ان کا مشورہ ہے کہ ویڈیو کے مواد کے مطابق پلیٹ فارم کا انتخاب کریں۔

شٹ ڈاون کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ویسے تو یہ بہت بھیانک چیز ہے، لیکن اس کے کچھ فائدے بھی ہیں۔ جیسے اس کی وجہ سے اپنے کام اور مصنوعات کو بہتر بنانے پر توجہ کا زیادہ وقت ملا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دنیا کو انٹرنیٹ کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔

پاکستانی فینز کے ذکر پر انہوں نے کہا کہ کاش وہ پاکستان میں داخل ہو سکتے، لیکن ان کے اسرائیلی پاسپورٹ پر ایسا ممکن نہیں۔ تاہم وہ پاکستان جا کر اپنے پرستاروں سے ملنے کا کوئی راستہ ڈھونڈنا چاہتے ہیں۔

نصیر اپنی اسرائیلی نژاد امریکی پارٹنر الین کے ساتھ سنگاپور میں رہتے ہیں۔ وہ بھی سوشل میڈیا سٹار ہیں، اور ناس ڈیلی کی اکثر ویڈیوز میں دونوں ساتھ نظر آتے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More