نیپرا نے موسم گرما میں کراچی میں بدترین لوڈشیڈنگ پر عوامی سماعت مکمل کرلی

اب تک  |  Jul 11, 2020

اسلام آباد: (10 جولائی 2020) نیپرا نے موسم گرما میں کراچی میں بدترین لوڈشیڈنگ پر عوامی سماعت مکمل کرلی۔ کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے سسٹم کے ناقص ہونے کا اعتراف تو کرلیا مگر لوڈ شیڈنگ کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا۔

کراچی میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے معاملے پر چیئرمین نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) توصیف فاروقی کی سربراہی میں سماعت ہوئی، جس میں وائس چیئرمین، چاروں صوبوں کے ممبرز، نیپرا اور کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سمیت پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی، ممبر قومی اسمبلی آفتاب صدیقی، وزیر توانائی سندھ امتیاز شیخ تاجر اور وکلاء بھی شریک ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر نیپرا حکام نے بتایا کہ کے الیکٹرک نے نیپرا کے نوٹس پر جواب دیا ہے کہ بجلی میں کمی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ فرنس آئل کی فراہمی میں کمی ہے۔ کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مونس علوی نے بتایا کہ کے الیکٹرک کے پیداواری یونٹس کو فرنس آئل اور گیس کی فراہمی میں کمی کے باعث کراچی میں 22 جون کے بعد لوڈشیڈنگ بڑھی۔

مونس علوی نے کہا کہ پی ایس او نے وفاقی حکومت کو بروقت لکھا تھا کہ جون کی ضروریات پوری کرنے کیلئے فرنس آئل جلد درآمد کیا جائے۔ کراچی میں بجلی کی فراہمی فرنس آئل آنے تک بہتر نہیں ہوگی۔

سی ای او کے الیکٹرک نے تسلیم کیا کہ قومی گرڈ سے 730 میگا واٹ بجلی مل رہی ہے۔ اس سے زیادہ ملی تو کے الیکٹرک کا سسٹم بوجھ ہی نہیں سہہ سکے گا۔

چیئرمین نیپرا توصیف فاروقی نے کہا کہ ابھی تو کورونا کے باعث تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں۔ شادی ہال اور ہوٹلز کھلے ہوتے تو 400  میگا واٹ مزید درکار ہوتے۔ گیارہ ماہ سے گرڈ اسٹیشنز اپ گریڈ نہیں کیے گئے۔ کے الیکٹرک ذمہ داری قبول کرے یا نہ کرے لیکن وہ ہمیں ناکام کررہا ہے۔

دوران سماعت سیاسی شخصیات کاروباری افراد اور عوام نے کے الیکٹرک کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے سخت تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ لوڈشیڈنگ کے باوجود پیک اور آف پیک ٹیرف کے تضاد پر نیپرا نے اسے ختم کر کے یکساں ٹیرف کرنے کا عندیہ بھی دیا۔

چیئرمین نیپرا توصیف فاروقی نے کہا کہ نیپرا اپنا فیصلہ تمام حقائق اور تجاویز کا جائزہ لے کر سنائے گی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More