امریکہ میں روس اور چین کی ویکسین کا استعمال مشکل

اردو نیوز  |  Aug 01, 2020

امریکہ میں صحت کے شعبے کے اعلیٰ ترین مشیر نے چین اور روس کی جانب سے کورونا ویکسین کی تیاری کے دوران معیار کے بارے  میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک ایسی کسی ویکیسن کو استعمال نہیں کرے گا جہاں تجربات کرنے کا نظام غیر شفاف ہو۔

خبر رساں ادارے اے ایف کے مطابق امریکہ میں متعددی امراض کے ماہر انتھونی فوچی نے امریکی کانگریس کو بتایا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ روس اور چین کسی کو بھی کورونا کی ویکسین دینے سے قبل اس کے حقیقت میں ٹیسٹ کر رہے ہوں گے۔

'ویکسین کے ٹیسٹ سے قبل ہی اس کی تقسیم کی تیاری کا دعویٰ کرنا مسائل پیدا کر سکتا ہے۔'

دنیا میں عالمی وبا کے مقابلے کے لیے ویکسین کی تیاری میں اس وقت متعدد چینی کمپنیاں سرفہرست ہیں جبکہ روس نے اپنی ویکسین کو تیار کر کے سامنے لانے کے لیے آئندہ ماہ ستمبر کی تاریخ کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ دنیا میں کورونا وائرس کے اثرات دہائیوں تک دکھائی دیں گے۔

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے چھ ماہ قبل کورونا کی وجہ گلوبل ایمرجنسی کا اعلان کرنے کے بعد دنیا میں اب تک وائرس سے چھ لاکھ 79 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ ایک کروڑ 79 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

امریکی طبی ماہر انتھونی فوچی کا خیال ہے کہ روس اور چین میں شعبہ صحت کے حوالے سے ریگولیٹری نظام مغربی ملکوں کے ملکوں کے مقابلے میں بہت زیادہ مبہم اور غیرشفاف ہے۔

اے ایف پی کے مطابق امریکی حکومت کورونا کی ویکسین کی تیاری کے لیے 'آپریشن وارپ سپیڈ' کے نام سے اپنے ایک پروگرام کے تحت دو بڑی ادویہ ساز کمپنیوں سنوفی اور جی ایس کے کو دو ارب ڈالر سے زائد کی رقم ادا کرے گی۔

کورونا کی وجہ سے دنیا میں کروڑوں افراد متاثر اور ملکوں کی معیشت پر منفی اثر پڑا ہے۔ فوٹو: اے ایف پیدوسری جانب مشرقی ایشیا کے وہ ملک جہاں ابتدائی طور پر وائرس کو کامیابی سے قابو کر لیا گیا تھا اب وہاں کورونا کی نئی لہر نے حکومتوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

جاپان کے اوکیناوا جزیرے میں عالمی وبا کی نئی لہر کے بعد ہنگامی حالت کا نفاذ کیا گیا ہے۔ اس علاقے میں امریکی فوج کا بیس بھی ہے جس پر وائرس شہری علاقوں میں منتقل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

ادھر ہانگ کانگ میں بھی کورونا کے پھیلاؤ میں دوبارہ تیزی آنے کے بعد مریضوں کے لیے نیا عارضی ہسپتال قائم کیا گیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More