پاکستان میں بندش، ٹک ٹاک انتظامیہ کا موقف سامنے آگیا

ہم نیوز  |  Oct 17, 2020

اسلام آباد: ویڈیو شیئرنگ چینی ایپ ٹک ٹاک کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے حکام سے ایپ کی بحالی کے لیے مذاکرات جاری ہیں، امید کرتے ہیں کہ پاکستان کے پرجوش صارفین جلد ٹک ٹاک دوبارہ استعمال کرسکیں گے۔

مزید پڑھیں: 

ٹک ٹاک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے پاکستان میں ٹک ٹاک بند ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران مواد کی نگرانی کے لیے سنجیدہ کوششیں کیں۔ واد کی بہتر نگرانی کیلئے مقامی زبانوں میں ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔

ٹک ٹاک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران مواد کی نگرانی کیلئے سنجیدہ کوششیں کیں۔ حکومت پاکستان کی طرف سے سوالوں کے حل کیلئے کوششیں کیں۔سروس کی بندش کے بعد پی ٹی اے کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں۔

ٹک ٹاک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ  پاکستان کے قوانین کی پاسداری کیلئے پی ٹی اے کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔ ان تمام کوششوں کے باوجود پاکستان میں ہماری سروس بند ہے۔ امید ہے حکومت پاکستان ہمیں بہترین ماحول میں کام کرنے کا موقع دے گی۔

ٹک ٹاک انتظامیہ نے کہا ہے کہ اگر ٹک ٹاک پاکستان میں بحال ہوئی تو ہم مزید وسائل بروئے کار لائیں گے۔ ٹک ٹاک نے صارفین کو انٹرٹینمنٹ کے ساتھ بزنس کے مواقع دیے۔

خیال رہے کہ  ٹک ٹاک پرپابندی کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ بتایا جائے کہ کیوں نہ ایپ پر پابندی کا پی ٹی اے  کا فیصلہ معطل کر دیا جائے۔

مزید پڑھیں: 

ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق درخواست پر سماعت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے تین صفحات پر مشتمل  تحریری حکم نامہ جاری کیا تھا۔

تحریری حکم نامے میں عدالت نے حکم دیا تھا کہ پی ٹی اے آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کیلئے سینئر افسر مقرر کرے۔ بتایا جائے کیوں نہ عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی پر کارروائی کا آغاز کیا جائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری حکم نامے میں کہا تھا کہ درخواست گزار کے وکیل نے جو سوالات اٹھائے ہیں وہ توجہ طلب ہیں۔ درخواست سماعت کیلئے منظور کی جاتی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اور سابق وزیر اطلاعات کو عدالتی معاونین مقرر کیا ہے۔

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More