سانحہ کارساز کو 13 برس بیت گئے

بول نیوز  |  Oct 18, 2020

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں، سانحہ کارساز کو 13 برس بیت گئے، قاتل کون تھا، تفتیش میں آج تک کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔

آج سانحہ کارساز کو 13 برس مکمل ہو گئے ہیں، تاہم تباہ کن دھماکوں کے ذمہ داران کو نہیں پکڑا جا سکا، سانحے میں ملوث افراد کا کوئی سراغ نہ مل سکا ہے۔

آج سے13سال قبل 18 اکتوبر 2007 کو پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیربھٹو کی وطن واپسی پر ہونے والے دھماکوں میں 177 افراد جاں بحق ہو گئے جن میں نجی ٹی وی کے کیمرہ مین بھی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے چل بسےتھے۔

سانحے کے متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں،پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم کا اعزاز پانے والی محترمہ بے نظیر بھٹو آٹھ سال کی جلا وطنی ختم کر کے 18 اکتوبر 2007 کو کراچی ائیر پورٹ پہنچیں تو ان کا فقید المثال استقبال ہوا۔

عوام کا ایک جم غفیر محترمہ کے استقبال کے لیے موجود تھا، بے نظیر بھٹو کو پلان کے تحت کراچی ائیر پورٹ سے بلاول ہاؤس جانا تھا لیکن جیالوں کے ٹھاٹھے مارتے سمندر نے مختصر سے فاصلے کو انتہائی طویل بنا دیا۔

پی پی کے جیالے ملک بھر سے سابق وزیرِ اعظم کی وطن واپسی پر ان کا استقبال کرنے کراچی پہنچے تھے، بے نظیر بھٹو کا قافلہ شاہراہ فیصل پر کارساز کے مقام پر پہنچا تو ایک زور دار دھماکا ہوا  حکومتی اداروں نے سانحے میں القاعدہ چیف فاہد محمد علی مسلم اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر بیت اللہ محسود کو ملوث قرار دیا جو بعد میں ڈرون حملوں میں مارا گیا۔

سانحے پر تھانہ بہادرآباد میں 2 مقدمات درج ہوئے۔ ایک مقدمہ سرکار کی مدعیت اور دوسرا خود بے نظیر بھٹو کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

سرکار کی مدعیت میں درج ہونے والا مقدمہ سی آئی ڈی منتقل ہونے کے بعد اے کلاس کرکے بند جبکہ بے نظیر بھٹو کی مدعیت میں درج ہوے والے مقدمے کو سی کلاس کردیا گیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More