ایک کروڑ کھرب ڈالر کے خزانے سے مالا مال سیارچہ

سماء نیوز  |  Oct 29, 2020

مریخ اور مشتری کے درمیان ایک ایسا سیارچہ گردش کررہا ہے جو مکمل طور پر نکل اور لوہے کا بنا ہوا ہے، ماہرین نے اس کی مالیت کا تخمینہ ایک کروڑ کھرب ڈالر لگایا گیا ہے۔

کے مطابق پلینٹری سائنس جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ غیر معمولی خزانے سے مالا مال (16) سائیکی نامی سیارچے کا قطر 225 کلومیٹر کے لگ بھگ ہے، جو تقریباً لاہور سے راولپنڈی کے فاصلے کے برابر بنتا ہے۔

ماہرین نے سیارچے پر موجود دھات کا تخمینہ ایک کروڑ کھرب ڈالر لگایا گیا ہے، یہ رقم اتنی بڑی ہے جس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے، یہ دنیا کی کل سالانہ پیداوار جی ڈی پی کا ایک لاکھ 25 ہزار گنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اکثر سیارچے چٹانوں یا برف پر مشتمل ہوتے ہیں، لیکن (16) سائیکی اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ تقریباً مکمل طور پر دھاتی ہے۔

تحقیق کی شریک مصنفہ ڈاکٹر ٹریسی بیکر کا کہنا ہے کہ ہم نے دھات سے بنے شہاب ثاقب دیکھ رکھے ہیں، لیکن سائیکی اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ ممکنہ طور پر لوہے اور نکل پر مشتمل ہے، یہ سیارہ بنتے بنتے رہ گیا کیوں کہ کوئی اور سیارچہ اس سے ٹکرا گیا۔

سائنسدانوں نے بالائے بنفشی شعاعوں (الٹرا وائلٹ ریز) کی مدد سے اس سیارچے کی ساخت کا مطالعہ کیا، ہر عنصر یا مرکب خاص انداز سے روشنی جذب کرتا ہے، اس لئے خلائی اجسام سے آنیوالی روشنی کا اسپیکٹرومیٹر کی مدد سے مشاہدہ کرکے یہ پتہ چلایا جاسکتا ہے کہ اس کی ساخت میں کون سے عناصر شامل ہیں۔

امریکی خلائی ادارہ ناسا ایک خلائی جہاز تیار کررہا ہے جو 2022ء میں اس سیارچے کے سفر پر روانہ ہوگا تاہم اس کا مقصد صرف سیارچے کا مطالعہ کرنا ہے، اس سیارچے کا زمین سے فاصلہ تقریباً 30 کروڑ کلو میٹر ہے، یعنی زمین اور سورج کے فاصلے کا دو گنا ہے۔ ناسا کا خلائی مشن چار برس کے سفر کے بعد (16) سائیکی تک پہنچے گا۔

اس خلائی جہاز پر کئی آلات نصب ہیں جو سیارچے کی خصوصیات، تشکیل اور مقناطیسیت کا مطالعہ کریں گے، اس مشن کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ سیارے کیسے تشکیل پاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق عام طور پر سیاروں کے وسط میں دھاتی مرکز ہوتا ہے، زمین کے بیچوں بیچ بھی لوہے کا گولہ ہے جس کا قطر 1220 کلومیٹر ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ (16) سائیکی بھی سیارہ بننے کے سفر پر روانہ تھا لیکن کسی اور سیارچے یا سیارے سے زبردست تصادم کے نتیجے میں اس کی سطح کی تہیں اڑ گئیں اور صرف دھاتی مرکز ہی باقی رہ گیا۔

(16) سائیکی پر پائی جانے والی نکل بے حد قیمتی دھات ہے۔ اس سے کئی قسم کے بھرت (alloy) بنتے ہیں اور یہ سٹین لیس اسٹیل کی تیاری میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ جدید بیٹریوں کی تیاری میں نکل بے حد اہم ہے، اور خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں میں اس کی بے حد ڈیمانڈ ہے کیونکہ یہ لیتھیم کی بیٹریوں سے بہتر کارکردگی پیش کرتی ہے۔

دھاتیں، تہذیب کا پہیہ

انسانی تہذیب کی تمام تر ترقی دھاتوں کی مرہونِ منت ہے۔ سب سے پہلے مشرقِ وسطیٰ کے علاقے میں آج سے 10 تا 7 ہزار سال پہلے تانبہ دریافت ہوا جس سے انسانی تاریخ میں پہلی بار دھاتی اوزار اور ہتھیار تیار کئے گئے، ورنہ اس سے پہلے انسان لاکھوں برس تک اوزار بنانے کیلئے پتھر، لکڑی اور ہڈیوں تک محدود تھا۔

اس کے بعد جست اور پھر لوہا دریافت ہوا، جو انسانی تاریخ کا ایک اور اہم موڑ ہے۔ 18ویں صدی میں یورپ میں آنیوالے صنعتی انقلاب سے بڑے پیمانے پر دھاتوں کا استعمال شروع ہوا، جس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

تاہم مسئلہ یہ ہے کہ یہ ساری دھاتیں زمین کی سطح پر محدود مقدار میں موجود ہیں اور جلد یا بدیر وہ دن آئے گا جب دنیا میں ان کی قلت واقع ہو جائے گی۔ اسی لئے ماہرین ایک عرصے سے خلاء میں کان کنی کے منصوبے بنارہے ہیں۔

تاہم ایسا کرنا آسان نہیں ہے، کیونکہ فی الوقت خلا کا سفر بے حد مشکل، لمبا، وقت طلب اور مہنگا ہے۔ ابھی تک چاند سے چند پتھر لانے کے علاوہ انسان کسی اور سیارے یا سیارچے سے کوئی مواد زمین پر نہیں لاسکا۔

خلائی خزانہ کس کی ملکیت ہوگا؟ 

سوال یہ ہے کہ اگر مستقبل میں کسی ملک کے پاس سیارچوں پر کان کنی کی ٹیکنالوجی آگئی تو ان معدنیات کا مالک کون ہوگا؟۔ اس وقت خلاء میں کان کنی کیلئے قواعد و ضوابط موجود نہیں ہیں۔

آرٹیمس نامی ایک بین الاقوامی معاہدہ 1967 میں طے پایا تھا جس کے تحت خلاء اور خلائی اجسام ساری دنیا کی مشترکہ ملکیت ہیں۔ تاحال اس معاہدے پر امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، جاپان، لکسمبرگ اور عرب امارات نے دستخط کر رکھے ہیں، تاہم روس نے اسے یہ کہہ کر مسترد کردیا ہے کہ اس کا جھکاؤ امریکا کی جانب ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی سال اپریل میں ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیئے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا خلاء میں تجارتی بنیادوں پر کان کنی کرتا ہے تو یہ قانونی ہوگی۔ ناسا پہلے ہی سے چاند پر کان کنی کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے اور گزشتہ ہفتے چاند پر پانی کی موجودگی کی خبر نے اس منصوبے کو مزید تقویت بخشی ہے کیونکہ اس طرح کسی مشن کو زمین سے پانی ساتھ لے جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More