شوبز ڈائری: کنگنا اب کس نئے تنازعے میں پڑ گئی ہیں اور سلمان خان نے کترینہ کیف سے دوستی کا حق کیسے ادا کیا

بی بی سی اردو  |  Dec 04, 2020

کنگنا
Facebook

اگر پروموشن کی بات کی جائِے تو کنگنا رناوت ٹوئٹر پر کس کی پروموشن کرتی رہتی ہیں اس بارے میں بہت کچھ کہا جا رہا ہے۔ فلم کوئین سے سٹار بننے والی اداکارہ کنگنا رناوت اب تنازعات کی کوئین کہلانے لگی ہیں اور اپنی اندھا دھند ٹوئٹس کے سبب پریشانیوں اور جھگڑوں میں گھرنے لگی ہیں۔

کبھی کرن جوہر تو کبھی ٹھاکرے خاندان، کبھی بالی وڈ کے خان تو کبھی عالیہ اور سارہ علی خان اب جبکہ کنگنا فلموں کے بجائے سیاست میں زیادہ دلچسپی لینے لگی ہیں تو ان کی ٹوئٹس بھی سیاسی ہونے لگی ہیں۔ پہلے انھوں نے شاہین باغ کے بارے میں ٹوئٹس کی تھی تو اب انڈیا میں جاری کسانوں کا احتجاج ان کا موضوع بحث تھا۔

اس ہفتے کنگنا نے کسانوں کے احتجاج میں شامل بھٹنڈا کی ایک بزرگ خاتون مہندر کور کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے انھیں شاہین باغ کی مشہور بلقیس دادی کی تصویر بتاتے ہوئے کہا کہ ’سو روپے لے کر شاہین باغ کی یہ دادی اب کسانوں کے احتجاج میں بھی پہنچ گئیں۔‘

ظاہر ہے تصویر شاہین باغ کی دادی کی نہیں تھی جس پر کنگنا کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا تو کرنا پڑا ہی ساتھ ہی انھیں ملنے والے لیگل نوٹس میں ایک اور کا اضافہ ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیے

’فیبیولس لائف آف بالی وڈ وائیوز‘ کے چرچے اور دپیکا کا شکریہ

بالی وڈ ڈائری: سیف علی خان طیش میں کیوں آگئے؟

کیا کامیابی شادی کی محتاج ہے؟

https://twitter.com/diljitdosanjh/status/1334148620799492096

اس سے پہلے ٹوئٹر پر ہی فرقہ وارانہ پوسٹ لگانے کے الزام میں ممبئی پولیس نے ان کے خلاف کیس درج کیا تھا اور کرناٹک پولیس نے بھی کسانوں کے احتجاج پر ان کی ایک ٹویٹ کے حوالے سے کیس درج کیا ہے اور تو اور جاوید اختر کی جانب سے بھی ان پر ہتکِ عزت کا مقدمہ درج ہے۔

بلقیس دادی کے حوالے سے کنگنا نے اپنی ٹوئٹ فوراً ڈلیٹ تو کر دی لیکن تب تک سوشل میڈیا پر بالی وڈ کی کچھ شخصیات نے جوابی کارروائی شروع کر دی تھی۔

اس ٹویٹ کے جواب میں اداکار دلجیت دوسانج نے بی بی سی کے ساتھ بزرگ خاتون مہندر کور کے انٹرویو کا لِنک شیئر کرتے ہوئے پنجابی میں لکھا کہ ’کچھ بھی بولتی رہتی ہو کیا آپ نابینا ہو یہ بلقیس دادی نہیں مہندر کور ہیں۔‘

کنگنا کا بھی اصول ہے کہ آخری تھپڑ انھی کا ہو گا، جواب میں انھوں نے دلجیت کو ’کرن جوہر کا پالتو‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ’کیا ڈرامہ لگا رکھا ہے تم لوگوں نے اسے بند کرو۔‘

سلمان خان
Getty Images

سلمان خان کی کترینہ کیف سے دوستی یا نئی فلم کی پروموشن؟

بالی وڈ کے سپر سٹار سلمان خان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دوستی اور دشمنی دونوں ہی دل سے نبھاتے ہیں جس کی کئیمثالیں موجود ہیں اور بات جب ان کی سب سے عزیز دوست کہلائی جانے والی کترینہ کیف کی ہو تو معاملہ کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو جاتا ہے۔

کترینہ کیف کافی عرصے بعد اپنی بہن ایزابیل کو بالی وڈ میں لانچ کرنے یا کروانے کی کوشش میں اس وقت کامیاب ہوئیں جب سلمان نے ایزابیل کو اپنے بہنوئی جی آیوش شرما کے ساتھ فلم ’کواتھا‘ میں لانچ کرنے کا اعلان کیا۔

اس ہفتے ایزابیل کا میوزک ویڈیو ’ماشا اللہ‘ لانچ ہوا ہے سلمان نے انسٹا گرام پر ان کی اس ویڈیو کو پروموٹ کرتے ہوئے لکھا ’ارے واہ ایزابیل بہت پیارا گانا ہے اور آپ بھی بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔‘

اب اسے سلمان کی کترینہ سے دوستی کہا جائے یا ایزا بیل کے ساتھ آنے والی ان کی فلم کی پروموشن؟

یوگی ادتیہ ناتھ
Getty Images

وزیر اعلیٰیوگی ادتیہ ناتھ فلمی دنیا میں ملاقاتیں کیوں کر رہے ہیں؟

ادھر ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ ریاست میں بالی وڈ کی طرز پر انڈسٹری بنانے کی کوششوں میں ممبئی پہنچے ہوئے ہیں جہاں انھوں نے اداکار اکشے کمار سے ملاقات کی۔

ان کی 50 سے زائد اداکاروں ، فلم سازوں اور ہدایت کاروں سے ملاقات طے ہے۔ جہاں تک اکشے کا تعلق ہے تو لگتا ہے مودی جی کی طرح یوگی جی بھی ان کے مداح ہیں اب اگر ان کے پاس انڈیا کے بجائِے کینیڈا کا پاسپورٹ ہے تو کیا ہوا۔

بہرحال ممبئی آنے کا ان کا ارادہ دلی کے نزدیک شہر نوائیڈہ کو انڈیا کا سب سے بڑا اور جدید فلمی شہر بنانا ہے اور اسی بارے میں وہ فلمی ہستوں سے تبادلہ خیال کرنا چاہتے ہیں۔ خبروں کے مطابق وزیر اعلیٰ یوگی نے اکشے کمار کے علاوہ فلسماز سبھاش گھئی، بونی کپور، ٹی سیریز کے بھوشن کمار، زی سٹوڈیو کے جتن سیٹھی سے بھی ملاقات کی ہے۔ لیکن سلمان خان، شاہ رخ خان یا امیتابھ بچن نے ان سے ملاقات نہیں کی ہے۔

آل انڈیا سینما ورکرز ایسوسی ایشن کے سربراہ سریش شام لال گپتا کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کامیاب نہیں ہو سکے گا کیونکہ اس میں سب سے بڑا مسئلہ سکیورٹی کا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ریاست اترپردیش میں امن و امان کی جو صورتِ حال ہے ایسے میں کیا امیتابھ بچن، عامر خان، شاہ رخ یا سلمان خان جیسے بڑے اداکار وہاں جائیں گے اور خواتین کے تحفظ کے حوالے سے بھی یو پی کے حالات خراب ہیں۔‘

تاہم کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ ملک کے بیشتر چینلوں کو کنٹرول کرنے کے بعد اب حکومت کی نظریں بالی وڈ پر ہیں جو ابھی تک ایک بڑی سیکولر طاقت بن کر کھڑی ہے اور انڈسٹری میں بی جے پی حکومت کے کچھ مہرے بری طرح فلاپ رہے ہیں۔

یوں بھی فن اور ادب کسی بھی معاشرے کا نہ صرف آئینہ ہوتے ہیں بلکہ اس کی تشکیل و تربیت میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اپنے انداز کے ایک نئے انڈیا کی تشکیل میں بی جے پی کو اس کی اشد ضرورت ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More