موسمی طوفان نے تباہی مچادی ، 70ہلاکتیں ۔۔ کون کون سے علاقے کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا؟جانیےتفصیل

روزنامہ اوصاف  |  Feb 23, 2021

امریکا کے صدر جو بائیڈن نے طوفان سے متاثرہ ریاست ٹیکساس کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔ ٹیکساس میں تباہ کن طوفان سے ہلاکتوں کی تعداد 70 تک پہنچ گئی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا کے چوتھے بڑے شہر ہیوسٹن میں اس وقت پلمبروں کی شدید قلت ہے۔ سخت ترین سردی اور برفانی طوفان کے باعث پائیپوں میں جمع جانے والا پانی بھی لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔شدید برفانی طوفان کے باعث ٹیکساس میں کئی ملین افراد پانی اور بجلی سے محرومہیں۔ بجلی سے چلنے والے ہيٹنگ سسٹم نہ ہونے سے کئی افراد بستروں ميں ہی ہلاک ہوگئے۔ تیل اور گیس پیدا کرنے والی امریکی ریاست ٹیکساس میں لاکھوں لوگ بجلی سے محروم ہیں جب کہ ریاست کی آدھی سے زائد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔برفانی طوفان اور شدید سرد موسم کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں کرونا وبا سے بچاؤ کیلئے جاری ویکسی نیشن مہم بھی متاثر ہو رہی ہے۔ طوفان کے باعث اب تک 2 ہزار سے زائد کرونا ویکسی نیشن سینٹرز بند ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے 60 لاکھ افراد تک ویکسین کی خوراکیں پہنچانے کا عمل تعطل کا شکار ہے۔رواں ماہ کے آغاز میں اوسطً 15 لاکھ کرونا ویکسین کی خوراکیں ٹیکساس پہنچائی جاتی تھیں۔ تاہم گزشتہ ہفتے کے اعدادوشمار کے مطابق ویکسین سپلائی میں کمی دیکھی گئی ہے۔رواں ماہ 14 تاریخ سے شروع ہونے والے طوفان سے ریاست اوکلاہوما، آرکنساس اور ٹیکساس میں شدید موسم کی وجہ سے کئی علاقے بجلی سے محروم ہیں۔ امریکا کی فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کے حکام کا کہنا ہے کہ صدر بائیڈن کی جانب سے ٹیکساس کو آفت زدہ قرار دیے جانے کے بعد ریاست کے شہریوں کیلئے اضافی فنڈنگ کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔حکام کے مطابق صدر بائیڈن کے اعلان کردہ فنڈز ٹیکساس میں عارضی گھروں کی تعمیر، قرضوں کی فراہمی اور گھروں کی مرمت کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکساس کے ری پبلکن گورنر گریگ ایبٹ کے ساتھ شہریوں کو امداد فراہم کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ اس سے قبل وفاقی ایمرجنسی ایجنسیز نے پانی کے ٹریٹمنٹ پلانٹس، اسپتالوں اور نرسنگ ہومز کے لیے جنریٹرز فراہم کیے تھے۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More