کیا ویڈیو گیمز کھیلنا واقعی نقصان دہ ہے؟ نئی تحقیق نے سب کے ہوش اڑادیئے

بول نیوز  |  Feb 23, 2021

ویڈیو گیمز کھیلنے اور اس کے اثرات کے حوالے سے نئی تحقیق سامنے آگئی ہے۔

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ لڑکوں کا ویڈیو گیمز کھیلنا ان کے لیے نقصان دہ ہے اور ذہنی و جسمانی صحت کے لیے مضر ہے تاہم اس سے متعلق نئی تحقیق نے ان خیالات کو غلط ثابت کردیا۔

حال ہی میں برطانیہ میں ایک تحقیق کی گئی ہے جس سے علم ہوا ہے کہ 11 سال کی عمر میں ویڈیو گیمز کھیلنے کے عادی لڑکوں میں آنے والے برسوں میں ڈپریشن کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

اس حوالے سے لندن کالج یونیورسٹی کی تحقیق میں کہا گیا کہ جو لڑکیاں اپنا زیادہ وقت سوشل میڈیا پر گزارتی ہیں، ان میں ذہنی تناو کی علامات ظاہر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

دونوں باتوں کو یکجا کرکے دیکھا جائے تو نتائج سے علم ہوتا ہے کہ اسکرین کے سامنے گزارے جانے والا وقت کس طرح بچوں کی ذہنی صحت پر مثبت یا منفی انداز سے اثرات کا حامل ہوسکتے ہیں۔

نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسکرینوں سے ہمیں مختلف اقسام کی سرگرمیوں کا حصہ بننے کا موقع ملتا ہے، اس حوالے سے گائیڈ لائنز یہ مدنظر رکھ کر مرتب کرنی چاہیئے کہ مختلف سرگرمیاں کس حد تک ذہنی صحت پر اثرات مرتب کرتی ہیں۔

ماہرین کا کہناہے کہ یہ بات تصدیق سے نہیں کہی جاسکتی تاہم گیمز کھیلنے سے ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے، حالیہ نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گیمز کھیلنا نقصان دہ عادت نہیں بلکہ اس کے کچھ فوائد بھی موجود ہیں  جو کہ بالخصوص وبا کے دوران مشاہدے میں آئے۔

اس تحقیق میں 11 ہزار سے زائد بچوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا تھا جن پر 2000 سے 2002 کے درمیان ایک تحقیق کی گئی تھی۔

ان بچوں سے سوشل میڈیا، ویڈیو گیمز کھیلنے یا انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے سوالات پوچھے گئے تھے جبکہ 14 سال کی عمر میں ان میں ذہنی تناو کی علامات کو جاننے کی بھی کوشش کی گئی۔

حال ہی میں حاصل کیے گئے نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لڑکے زیادہ ویڈیو گیمز کھیلنے کے عادی ہوتے ہیں ان میں اگلے 3 برسوں میں ڈپریشن کی علامات کا خطرہ 24 فیصد تک کم ہوتا ہے۔

دوسری جانب جو لڑکیاں 11 سال کی عمر میں اپنا زیادہ وقت سوشل میڈیا پر گزارتی ہیں، ان میں 3 سال بعد ڈپریشن کی علامات کا خطرہ 13 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

-->
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More