راوی سٹی منصوبہ لاہور کی ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے اہم ہے، وزیراعظم

بول نیوز  |  Feb 25, 2021

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ راوی سٹی منصوبہ لاہور کی رہائشی و  دیگر ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے نہایت اہم منصوبہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس کے دوران لاہور میں سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے قیام اور راوی سٹی منصوبے کا جائزہ لیا گیا جبکہ وزیرِاعظم کو والٹن لاہور میں قائم ہونے والے سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے قیام کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ کے دوران کہا گیا کہ لاہوروالٹن میں تربیتی پروازوں کے لئے استعمال ہونے والا ائیرپورٹ ہوائی پروازوں  کے لئے غیر محفوظ بن چکا ہے جبکہ آبادی کے تحفظ کے لئے تربیتی پروازوں کے لئے استعمال ہونے والے  ائیرپورٹ کو محفوظ مقام پر شفٹ کرنا نہایت ضروری ہے جس پر وزیرِ اعظم نے اس امر پر نہایت تشویش کا اظہار کیا۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ گذشتہ چند سالوں میں آبادی کی وجہ سے  اس ائیر پورٹ پر دو تین حادثے رونما ہو چکے ہیں لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

بریفنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ  کے قیام کے بعد اربوں روپے کی مالیت کی اس زمین کو بھرپور معاشی سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا جا سکے گا۔

وزیرِ اعظم کو روای سٹی منصوبے پر اب تک پیش رفت پر بھی تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہا گیا کہ مجوزہ راوی سٹی میں ماحولیات  پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جبکہ راوی سٹی میں زراعت و کاشتکاری کے جدید طریقہ کار ورٹیکل فارمنگ کو فروغ دیا جائے گا اور نہ صرف پیداواری اضافہ ممکن ہوگا بلکہ زمین کا بھرپور استعمال بھی میسر آئے گا۔

 بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ مجوزہ روای سٹی تک آسان رسائی کے لئے لاہور موٹر وے سے 20 کلومیٹر طویل سڑک تعمیر کی جائے گی اور یہاں کے رہائشیوں کو شہر تک آسان رسائی ممکن بنائی جا سکے گی۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ راوی سٹی منصوبے پر پیش رفت کے حوالے سے انہیں مسلسل آگاہ رکھا جائے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے مزید کہا کہ راوی سٹی منصوبہ لاہور کی رہائشی و  دیگر ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے نہایت اہم منصوبہ ہے، اس سے لاہور شہر اور  ملک بھر کے عوام کے لئے معاشی سرگرمیوں کے  بے شمار مواقع پیدا ہوں گے۔

-->
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More