لندن: میانمار کے سفیر پر اپنے ہی سفارتخانے کے دروازے بند، رات گاڑی میں گزاری

ہم نیوز  |  Apr 08, 2021

لندن میں میانمار کے سفیر کیوا زوار من کو نئے تعینات ہونے والے ملٹری اتاشی نے سفارتخانے سے باہر نکال دیا، جس کے بعد سفیر کو رات سڑک پر اپنی گاڑی میں گزارنا پڑی۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق سفارتخانے کے باہر اپنے ترجمان کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کیو زوار من نے کہا کہ انہیں میانمار کے نئے تعینات ہونے والے فوجی اتاشی نے عملے سمیت عمارت سے باہر نکال دیا اور انہیں بطور سفیر برطرف کردیا گیا۔

اس سے قبل کیو زوار من نے میانمار میں فوجی بغاوت پر تنقید کرتے ہوئے ملک کی معزول رہنما آنگ سان سوچی کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

کیو زوار من نے برطانیہ کی حکومت سے اپیل کی کہ وہ فوجی جنتا کے نئے تعینات کیے گئے ملٹری اتاشی کو تسلیم نہ کرے اور اسے میانمار واپس بھیجے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ فروری میں میانمار میں فوجی بغاوت ہوئی تھی، اب وہی صورحال وسطی لندن میں پیدا ہوئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سفارت خانے کے عملے کو دھمکی دی جارہی تھی کہ اگر وہ میانمار کے فوجی جنرل کے لیے کام  نہیں کریں گے تو انہیں سخت سزا دی جائے گی۔

مزید پڑھیں: 

برطانوی سکریٹری خارجہ ڈومینک راب نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ  ہم کل لندن میں میانمار کی فوجی حکومت کی غنڈہ گردی کی مذمت کرتے ہیں اور میں کیو زوار من کی ہمت پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

We condemn the bullying actions of the Myanmar military regime in London yesterday, and I pay tribute to Kyaw Zwar Minn for his courage. The UK continues to call for an end to the coup and the appalling violence, and a swift restoration of democracy

— Dominic Raab (@DominicRaab)

انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ میانمار میں فوجی بغاوت اور خوفناک تشدد کے خاتمے اور جمہوریت کی تیزی سے بحالی کا مطالبہ کرتا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب نے واقعے کی شدید مذمت کی ہے تاہم برطانیہ کی جانب سے اس حوالے سے کسی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا۔

برطانوی میڈیا کا بتانا ہےکہ واقعے کے بعد سفارتخانے کے باہر تعینات پولیس اہلکاروں نے سفارتخانے سے باہر نکالے جانے والے عملے کو عمارت میں داخل ہونے سے روک دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہےکہ انہیں اس سلسلے میں ایک نوٹیفکیشن موصول ہوا ہے جس میں میانمار حکومت کے فیصلے کو تسلیم کرنے کا کہا گیا ہے۔

واضح رہےکہ میانمار میں یکم فروری کو فوج نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور آنگ سان سوچی سمیت متعدد رہنماؤں کو گرفتار کررکھا ہے جب کہ ملک میں فوجی بغاوت کے خلاف جاری پرتشدد مظاہروں میں اب تک 600 کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More