جام کمال حکومت اور بلوچستان کے حالات

سماء نیوز  |  Apr 15, 2021

جام کمال کی حکومت انحصار پر کھڑی ہے، ورگرنہ ان میں اتنا کمال نہیں کہ چند دن بھی اپنی حکومت کا تحفظ کرسکیں۔ بلوچستان عوامی پارٹی میں شامل بھانت بھانت کے لوگ اپنی اپنی ترجیحات کے تحت وابستہ ہیں۔ اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی اور ایک دو دوسری جماعتوں کے ارکان بھی حلقہ انتخاب، جماعتی مفادات کو مقدم سمجھتے ہیں۔

جام کمال کی ذات میں کئی خصوصیات اور کئی خوبیاں موجود ہیں، اپنی جماعت اور اتحادیوں کو بے شک ساتھ لے کر چلیں، مگر جہاں صاف صاف اصول و میرٹ کی پامالی ہو تو مصلحتوں کے اسیر نہ بنیں، اپنی نیک نامی کسی کیلئے داﺅ پر نہ لگائیں، سول بیورو کریسی میں خامیاں ہوں گی مگر زیر عتاب اسے بھی رکھا گیا ہے، حکومت کسی کو عہدے پر ٹکنے نہیں دیتی۔ ظاہر ہے اس میں جام کمال کی منشاء بھی ہوتی ہے۔

پارٹی و اراکین اسمبلی اور اتحادیوں کے مطالبے کو خاطر میں لایا جاتا ہے، کچھ عرصہ قبل جام کمال نے اپنی انا کے تحت ایڈیشنل چیف سیکریٹری عبدالرحمان بزدار کو عہدے سے ہٹایا، عبدالصبور کاکڑ کو اس عہدے پر بٹھایا، جب اس نے بعض وزراء کے دیئے گئے منصوبوں کے ریویژن یعنی دوبارہ ٹینڈر کرنے کے احکامات نہ مانے تو دو ماہ کے اندر ہی منصب سے ہٹادیا۔

صوبائی حکومت کا یہ طرز عمل اب عام ہے، سول بیورو کریسی کی تضحیک جیسے اپنا حق سمجھتے ہیں، چنانچہ وزیراعلیٰ کارکردگی اور صوبے کی بہبود پر توجہ دیں، جن کی بے جا فرمائشیں مانی جاتی ہیں، وہ قبلہ تبدیل کرنے میں مہارت رکھنے والے لوگ ہیں۔

جام کمال مشکلات سے خود کو نکالنے کا ہنر سمجھیں، اس میں انہیں دھکیلنے والے ان کی اپنی صفوں میں موجود ہیں، ملازمین کا دھرنا کم الجھا ہوا معاملہ ہر گز نہ تھا، لہٰذا ملازمین کا مسئلہ عدالت عالیہ میں جانے سے پہلے سلجھاتے تو اچھا ہوتا۔ جام کمال خان اگر کہتے ہیں کہ اس نے اپنی ڈھائی سال کی حکومت میں 17 ہزار 985 لوگوں کو مختلف محکموں میں ملازمتیں دی ہیں، تو یہ اچھی بات ہے، صوبے کی ترقی اور عوام کی بہبود کے اقدامات پوشیدہ نہیں رہے گا۔ گرینڈ الائنس کا 29 مارچ سے 9 اپریل تک کا طویل دھرنا جام حکومت کے اعصاب پر کم بھاری نہ تھا۔ اب درمیان میں عدالت عالیہ بلوچستان آچکی ہے، جس کی ہدایت دھرنا مؤخر ہوا ہے، یعنی اگر بات نہ بنی تو پھر سے سڑکوں پر ڈیرے ڈالے جاسکتے ہیں۔

عدالت سے وکلاء نے رجوع کیا، جن کی درخواست کی سماعت چیف جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس کامران مندوخیل نے کی۔ عدالت میں 9اپریل کو گرینڈ الائنس اور سرکاری نمائندے پیش ہوئے، حکومتی سطح پر دو کمیٹیاں تشکیل دی جاچکی ہیں، سیکریٹریز پر مشتمل کمیٹی ملازمین کے ساتھ مذاکرات کرے گی، عدالت کو پوری صورتحال سے آگاہ کیا جاتا رہے گا، ملازمین کے جائز مسائل کے حل ہوں گے تو فائدہ ان سے وابستہ لاکھوں عوام کا بھلا ہوگا۔

کیس کی 12اپریل کی سماعت میں حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ گرینڈ الائنس اور حکومتی کمیٹی کے درمیان 19 نکات میں سے 9 نکات پر اتفاق ہوگیا ہے۔ گرینڈ الائنس میں شامل ملازمین تنظیموں کا پہلا مطالبہ تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ ہے۔ عدالت نے حکومتی کمیٹی اور گرینڈ الائنس کے درمیان طے پانے والے نکات کا نوٹیفکیشن اگلی سماعت پر طلب کیا۔

عدالت نے ملازمین کی تنخواہوں میں پائے جانیوالے فرق پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، گورنر ہاﺅس، وزیراعلیٰ ہاﺅس اور سول سیکرٹریٹ سمیت اضافی الاﺅنسز حاصل کرنیوالے 4 محکموں کے ملازمین اور بلوچستان میں خدمات دینے والے دیگر صوبوں کے افسران کو اضافی مراعات دینے کی تفصیل بھی مانگ لی ہے۔ گویا اب معاملہ عدالت کے ذریعے حل کی طرف جائے گا۔

جام کمال کے پیش نظر کوئلے کی صنعت کی مشکلات بھی رہنی چاہئے، کوئٹہ، کچھی، ہرنائی وغیرہ میں کوئلہکان مالکان اور مزدور گو نا گوں مسائل سے دو چار ہیں۔

مالکان کہتے ہیں کہ سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر مزدور کام پر نہیں آتے، شدت پسندوں کی الگ الگ تنظیمیں ان سے فی ٹن بھتہ وصول کرتی ہیں جبکہ سیکیورٹی کے نام پر ایف سی کو بھی رقم کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ مگر باوجود ان کا کاروبار شدید بحران سے دو چار ہے، شدت پسند تنظیمیں بھتہ یا جبری ٹیکس کھلے عام وصول کرتی ہیں۔

کوئلہ کانکنی بلوچستان کی اہم صنعتوں میں سے ایک ہے، ہزاروں افراد کا براہ راست اور لاکھوں افراد کا بالواسطہ روزگار کا ذریعہ ہے، حکومت کو چاہیے کہ یا تو وہ کوئلہ کی صنعت شدت پسندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں یا ان کے تحفظ اور کاروبار کی بحالی کیلئے پورا ماحول فراہم کریں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More