بھارت: بنارس کی مسجد کا تنازع، کیا بابری مسجد کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے؟

وائس آف امریکہ اردو  |  Apr 16, 2021

بھارت کی ریاست اُتر پردیش کے شہر بنارس کی ایک ماتحت عدالت نے گزشتہ ہفتے اپنے ایک فیصلے میں محکمۂ آثار قدیمہ کو گیان واپی مسجد کا سروے کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم سنی وقف بورڈ نے عدالت کے اس فیصلے کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ ​

آٹھ اپریل کو دیے جانے والے ماتحت عدالت کے فیصلے کے بعد وشوا ناتھ مندر اور گیان واپی مسجد کا تنازع ایک بار پھر بھارت میں موضوعِ بحث بن گیا ہے جب کہ مسلم تنظیموں نے مسجد کے مستقبل سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے کہ بھارت کی سپریم کورٹ نے گزشتہ برس بابری مسجد کے تنازع کا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی زمین پر مندر تعمیر کرنے کی اجازت دی تھی جب کہ مسجد کے لیے متبادل جگہ فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر مسلم تنظیموں نے غصے کا اظہار کیا تھا۔ اور اب ایک مرتبہ پھر بھارت میں گیان واپی مسجد سے متعلق عدالتی احکامات کے بعد مسجد اور مندر کے تنازع پر دوبارہ بحث چھڑ گئی ہے۔

اپریل 1984 میں بھارت کے مختلف علاقوں سے 558 ہندو مذہبی رہنماؤں نے تنظیم وشیوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے ساتھ مل کر دہلی میں پہلی ’دھرم سنسد‘ یا مذہبی پارلیمنٹ منعقد کی تھی۔

بھارتی اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ کے مطابق اس مذہبی پارلیمنٹ کی بنیادی قرارادوں میں بنارس (وارانسی)، متھرا اور ایودھیا کے ہندو مذہبی مقامات کی 'واپسی' کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

SEE ALSO:بھارت میں مسجد اور مندر کی جگہ پر ایک اور تنازعاُتر پردیش کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد کے بارے میں یہ دعویٰ تھا کہ یہ ہندو دیوتا 'رام' کی جائے پیدائش پر موجود عبادت گاہ کو منہدم کر کے بنائی گئی ہے۔

اسی طرح کرشن مندر کے ساتھ شاہی عید گاہ اور وشوا ناتھ مندر کے احاطے سے جڑی 'گیان واپی' مسجد کے بارے میں بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسلمانوں کی عبادت گاہیں ہندوؤں کے مقدس مقامات کی زمین پر بنائی گئی ہیں۔

وشوا ہندو پریشد اور دیگر ہندو گروہوں کی جانب سے گیان واپی مسجد اور شاہی عید گاہ کا معاملہ اٹھایا جاتا رہا ہے جب کہ بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کا مطالبہ کرنے والوں کا دعویٰ تھا کہ پورے بھارت میں ایسی تین ہزار مساجد ہیں جو مندروں کی جگہ پر بنائی گئی ہیں۔

سن 1990 کی دہائی میں جہاں ایودھیا کی رام جنم بھومی اور بابری مسجد کا تنازع عروج پر تھا تو دوسری جانب گیان واپی مسجد اور شاہی عید گاہ کی جگہ دوبارہ حاصل کرنے کا مطالبہ بھی زور پکڑنے لگا تھا۔​

مبصرین کے مطابق مذکورہ تحریک کے بعد یہ نعرہ بھی سامنے آیا 'ایودھیا تو صرف جھانکی(جھلکی) ہے، کاشی متھرا باقی ہے۔'

اس کے علاوہ سروے میں بنائی جانے والی کمیٹی میں ترجیحی بنیاد پر دو 'اقلیتی' ارکان کو بھی شامل کرنے کا کہا گیا ہے۔

گیان واپی مسجد کی انتظامی کمیٹی 'انجمن انتظامیہ مسجد' نے وجے شنکر رستوگی کی درخواست کی مخالفت کی ہے جب کہ یوپی سنی وقف بورڈ نے عدالتی فیصلے کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین ظفر فاروقی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بنارس کی ماتحت عدالت کا فیصلہ 'پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991' کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ہمارے نزدیک اس مسجد کی حیثیت واضح ہے اور اس پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاسکتا۔

کاشی وشوا ناتھ کوریڈور کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے؟بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی بنارس سے لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے مارچ 2019 میں گنگا کے کنارے سے کاشی وشوا ناتھ مندر تک 'کوریڈور' بنانے کے منصوبے کا افتتاح کیا تھا۔

اس منصوبے کے مطابق راہداری مکمل ہونے سے گنگا کے گھاٹ سے مندر واضح دیکھا جاسکے گا۔

بھارتی ویب سائٹ ’دی پرنٹ‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق منصوبے کے افتتاح سے قبل یوپی میں یوگی ادیتیہ ناتھ کی حکومت کی جانب سے 2017 میں اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے اقدامات شروع کر دیے گئے تھے جس کے باعث گیان واپی مسجد پر تنازع نے شدت اختیار کرلی تھی۔

سال 2018 میں راہداری منصوبے کے ایک ٹھیکے دار نے گیان واپی مسجد کے گیٹ نمبر چار کے پاس ایک چبوترا منہدم کر دیا تھا جس پر مسلمانوں نے احتجاج کیا تھا۔

احتجاج کے بعد حکام نے فسادات کے خدشے کے پیشِ نظر چبوترے پر سنی وقف بورڈ کی ملکیت بحال کر دی تھی تاہم اس واقعے کے بعد مسجد کی انتظامی کمیٹی نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق اس واقعے کے بعد گیان واپی کی انجمن انتظامیہ مسجد کے جوائنٹ سیکریٹری نے کہا تھا کہ ’گیان واپی مسجد کا انجام بھی بابری مسجد جیسا ہوسکتا ہے۔‘

ماہرین قانون کی رائےدہلی میں وائس آف امریکہ کے نمائندے سہیل انجم سے بات کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ایک سینئر وکیل اے رحمان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ "پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991" کے مطابق 1947 میں جو عبادت گاہ (بابری مسجد کو چھوڑ کر) جس حالت میں تھی وہ اسی حالت میں رہے گی۔ اس پر کوئی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا اور اگر کہیں کوئی دعویٰ ہے تو وہ خود بخود کالعدم ہو جائے گا۔

ان کے بقول بنارس کی عدالت سے گیان واپی مسجد کے آرکیالوجیکل سروے کرانے کا حکم اس قانون کے خلاف ہے اور سپریم کورٹ نے بابری مسجد مقدمے میں جو فیصلہ سنایا تھا یہ اس کی بھی نفی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More