عراقی صحافی شدید زخمی حالت میں ہسپتال داخل، مظاہرے پھر شروع ہو گئے

وائس آف امریکہ اردو  |  May 10, 2021

ویب ڈیسک — 

عراق میں ایک نمایاں حکومت مخالف سرگرم کارکن کے قتل کے بعد، پیر کے روز ڈاکٹروں نے بتایا کہ ایک عراقی صحافی کو سر میں گولیاں ماری گئیں اور وہ اب انتہائی نگہداشت میں ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادرے اے ایف پی کے مطابق، سرکاری بد عنوانی کے خلاف سرگرم کارکن ایہاب الوزنی کو اتوار کے روز کربلا میں گولیاں ماری گئی تھیں جس کے بعد احتجاجی تحریک کے حامی سڑکوں پر نکل آئے اور ایسی قتل و غارت اور سرکاری بے حسی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

وزنی، شیعہ زیارتوں کیلئے معروف شہر کربلا میں مظاہروں کی قیادت کر رہے تھے، جہاں ایران نواز مسلح گروپوں کا راج ہے۔

الوزنی کو ہفتے کی رات ان کے گھر کے باہر موٹر سائیکل سواروں نے سائلینسر لگے پستول سے گولیاں ماری تھیں۔ یہ حملہ نگرانی کیلئے لگائے گئے کیمروں پر بھی ریکارڈ ہوا ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور کارکنوں نے ان کے ہلاکت کی تصدیق کر دی تھی۔

الوزنی کی ہلاکت کے کچھ ہی دیر بعد، ایک صحافی احمد حسن کو بھی زخمی حالت میں ہسپتال لایا گیا جہاں ان کی حالت نازک ہونے کے باعث انہیں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔ ایک ڈاکٹر نے اے ایف پی کو بتایا کہ احمد حسن کے سر میں دو اور کندھے پر ایک گولی لگی ہے۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ جنوبی عراق کے شہر دیوانیہ میں احمد کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ گھر میں داخل ہونے کیلئے اپنی گاڑی سے باہر نکلے تھے۔

وزنی کی ہلاکت کے نتیجے میں کربلا، ناصریہ اور دیوانیہ میں مظاہرے شروع ہو گئے جن میں لوگ خون ریزی اور وسیع پیمانے پر پھیلی کرپشن کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

حکومت مخالف مظاہروں سے پیدا ہونے والی عراق کی کمیونسٹ پارٹی اور قوم پرست البیعت الوطنی جماعت کا کہنا ہے کہ وہ احتجاجاً اس سال اکتوبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کا بائکاٹ کریں گے۔

مردہ خانے کے باہر جہاں ابتدائی طور پر وزنی کی میت رکھی گئی تھی، ایک ویڈیو ریکارڈنگ میں ان کے ایک ساتھ کارکن نے وزنی کی ہلاکت کا الزام ایران نواز گروپوں پر عائد کیا ہے۔

سرگرم کارکن کا کہنا تھا کہ "ایرانی ملیشیاؤں نے ایہاب الوزنی کو قتل کیا ہے۔" تاہم انہوں نے اپنا نام نہیں بتایا۔

اتوار کے روز وزنی کے جنازے میں شریک سینکڑوں سوگواران نعرے لگا رہے تھے، 'ایران نکل جاؤ' اور 'ہم لوگ حکومت کو گرتا دیکھنا چاہتے ہیں'۔ جنازے میں عراقی پرچموں کی بہار نظر آ رہی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ وزنی کو ہلاک کرنے والے دہشت گردوں کو ڈھونڈنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

شیعہ لیڈر امر الحقی سمیت سیاستدانوں نے ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

قبل ازیں دسمبر سن 2019 میں بھی وزنی ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچے تھے، جب موٹر سائیکل پر سوار مسلح حملہ آوروں نے سائلینسر لگے پستولوں سے ان پر گولیاں چلائی تھیں، جس میں ان کے ساتھ کام کرنے والے سرگرم کارکن فہیم التائی ہلاک ہو گئے تھے۔ الوزنی فہیم کو گھر چھوڑنے آئے تھے جب دونوں پر حملہ کیا گیا۔

عراقی حکومت کی مبینہ بد عنوانیوں اور نا اہلی کے خلاف اکتوبر سن 2019 میں قومی سطح پر چلنے والی احتجاجی تحریک میں دونوں سرگرم کارکن اہم ترین کردار ادا کر رہے تھے۔ اس تحریک میں اب تک چھ سو کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔

کارکنوں اور اقوام متحدہ نے بارہا ان ہلاکتوں کا الزام "ملیشیاؤں" پر عائد کیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More