وزیراعظم کی عوام سے ٹیلی فون پر براہ راست گفتگو

بول نیوز  |  May 11, 2021

وزیراعظم عمران خان نے عوام کے ساتھ ٹیلی فون پر براہ راست گفتگو کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا عوام کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطہ کرتے ہوئے  کہنا تھا کہ کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے ایس او پیز پر عمل کریں۔

وزیراعظم کا کہنا تھاکہ ایس او پیز میں سب سے اہم ہے کہ آپ ماسک پہنیں، وزیراعظم نے کہا کہ ماسک پہن کر 50 فیصد تک کورونا کا پھیلاؤ کم کیا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ عوام اپنے آپ کو اور اپنے بزرگوں کو بچائیں، اپنی قوم کوبچائیں اور ماسک پہنیں تاکہ ہمیں لاک ڈاؤن نہ کرنا پڑے۔

ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ ایک ہزار ارب ڈالرغریب ممالک سے ہرسال چوری ہوکر باہر جاتاہے،، قوم تباہ تب ہوتی ہے جب اس میں انصاف دینے کی اخلاقی جرات ختم ہو جاتی ہے، ملک تباہ تب ہوتے ہیں جب طاقتور چوری کرتےہیں اورپیسا ملک سے باہر بھیجتےہیں،  ۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تاریخ میں جو قوم اوپر گئی ہے وہ قانون کی بالادستی لے کر آئے تھے

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت عدلیہ کے نظام میں کوئی مداخلت نہیں کرتی کیونکہ ہم قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، ہم اسٹیٹس کو اور مافیاز سے لڑ رہےہیں، قوم میرے ساتھ کھڑی ہو، آپ لوگوں کو مافیازسے جیت کر دکھاؤں گا۔

مقبوضہ کشمیر سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں اور مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے، 5 اگست کے اقدامات واپس لینے تک پاکستان بھارت سے کوئی بات نہیں کرےگا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے سفارتی عملے نے بہترین کام کیا ہے، خاص کر کشمیر کے معاملے میں، شکایات کے ازالے کے لیے اب سفارتخانوں میں بھی پورٹل بنانے کا کہا ہے، وزیر خارجہ کے ماتحت ایک آدمی اس پورٹل پر نظر رکھے گا، قونصلیٹ سروس کو بہتر بنانا ہے، سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے بھی سفارتخانے کام کریں گے۔

شہری مسائل پر وزیراعظم نے مؤقف کیا کہ  پانی کا مسئلہ سارے بڑے شہروں میں چند برسوں میں شروع ہونے والا ہے اور کراچی میں بے ہنگم آبادی کے سبب پانی کا مسئلہ شروع ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ماسٹر پلان بنائے ہیں، شہروں کو ہائی رائز تعمیرات کی اجازت دے رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ کبھی کسی کو این آر او نہیں دوں گا، مجھے کوئی ڈر نہیں، مجے صرف خوف خدا ہے، اللہ کو جواب دہ ہوں، یہاں لوگ جیلوں میں سڑرہے ہیں اور ہم انہیں چھوڑ دیں۔

جہانگیر ترین اور شوگر مافیا سے متعلق سوال پر کہا کہ بڑے ڈاکو یعنی ملک کے سربراہ جب چوری کرتے ہیں تو ہم قوم کو تباہ کردیتے ہیں، شہباز شریف باہر بھاگنے کی کوشش کررہے ہیں، ان پر ایک کیس 700 ارب کی منی لانڈرنگ کا ہے، اس کے علاوہ اور کیسز ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کو واضح کہا ہے، وہ کہہ رہے ہیں ان سے نا انصافی ہوئی ہے، میں نے نا انصافی کسی سے نہیں کی، میرے جو مخالفین ہیں ان سے بھی نا انصافی نہیں کی، کوئی بتادے میں نے جھوٹا کیس بنایا، جب مخالف سے نا انصاف نہیں کی تو جہانگیر ترین سے کیسے کروں گا، وعدہ ہے جنہوں نے چینی مہنگی کرکے عوام کو تکلیف پہنچائی، حکومت بھی چلی جائے لیکن ان کو این آر او نہیں دوں گا، وعدہ ہے، مافیاز سے کوئی رعایت نہیں ہوگی لیکن نا انصافی بھی نہیں ہوگی۔

وزیراعظم نے وزراء کی کارکردگی سے متعلق سوال پر کہا کہ ضروری نہیں ٹیم کا ہر کھلاڑی سپر اسٹار ہو، وزراء بہت اچھا کام کررہے ہیں اور جو اچھا کام نہیں کرے گا وہ  گھر جائے گا۔

پاک بھارت تعلقات سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں اور مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے، 5 اگست کے اقدامات واپس لینے تک پاکستان بھارت سے کوئی بات نہیں کرےگا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے سفارتی عملے نے بہترین کام کیا ہے، خاص کر کشمیر کے معاملے میں، شکایات کے ازالے کے لیے اب سفارتخانوں میں بھی پورٹل بنانے کا کہا ہے، وزیر خارجہ کے ماتحت ایک آدمی اس پورٹل پر نظر رکھے گا، قونصلیٹ سروس کو بہتر بنانا ہے، سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے بھی سفارتخانے کام کریں گے۔

--> Double Click 970 x 90
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More