تاریخی عمارات کو ماحولیاتی نقصانات سے بچانے کے لیے بیکٹیریا

ڈی ڈبلیو اردو  |  Jun 14, 2021

یہ ایک طے شدہ تاریخی امر ہے کہ تاریخی عمارتیں وقت کے مشکل اور آسان دونوں دور دیکھتی ہیں۔ ان کو حقیقی ماحولیاتی تبدیلیوں اور فضائی آلودگی سے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ ایک تازہ ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ صنعتی انقلاب کے بعد سے ایسی عمارات کی شکستہ حالی تیزی سے شدید ہوئی ہے۔ اب سائنسدانوں نے ان عمارات کو ماحولیاتی اثرات سے بچانے کے لیے بیکٹیریا استعمال کرنے کی ایک تکنیک ڈھونڈ نکالی ہے۔

ممُبئی کے تاریخی مکانات اپنے سابقہ مکینوں کو یاد کرتے ہیں

تاریخی عمارتیں انسانی ترقی کے باعث نقصانات کا شکار

تاریخی عمارتوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والا کیلشیم کاربونیٹ یا چونے کا پتھر ہوا میں آلودگی اور نمی سے پیدا ہونے والے تیزابی مادے سے ٹوٹنا شروع کر دیتا ہے۔ ہوا میں کارخانوں اور قدرتی ایندھن کو جلانے سے پیدا ہونے والے دھوئیں کی صورت میں فضا میں اٹھنے والے ضرر رساں مادے فضائی نمی سے اکثر نائٹرس آکسائیڈ اور سلفر ڈائی آکسائیڈ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

یہ دونوں کیمیائی مادے چونے پر بتدریج سیاہ تہہ جمانے لگتے ہیں اور اسی سیاہی سے پتھروں میں چونا بُھرنا شروع کر دیتا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیاں قدیمی تاریخی عمارتوں کے لیے موافق نہیں ہیں۔ بلند ہوتا ہوا درجہ حرارت اور نمکیات بھی ان عمارتوں کے نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان وجوہات کی بنا پر چونا تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔

بیکٹیریا کے ذریعے تحفظ

ایک سائنسی عمل کا نام 'بیکٹیریل کاربونیٹو جینیسس‘ ہے اور اس نے سائنسدانوں کو یہ راہ دکھائی ہے کہ تاریخی عمارات میں استعمال کیے گئے چونے کے پتھر کا تحفظ ممکن ہے۔ یہ طریقہ پرانی تاریخی عمارتوں پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات زائل کرنے میں انسانی کوششوں میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

دنیا الٹی پلٹی

بیکٹیریل کلچرز کی لیبارٹری تکنیک کے دوران تین مختلف اقسام کے بیکٹیریا جنم لیتے ہیں۔ لیبارٹری میں پیدا ہونے والی ان خاص بیکٹیریا کو قدیمی عمارتوں میں استعمال شدہ چونے میں انجیکشن کے ذریعے داخل کر دیا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ بیکٹیریا کو توانا بنانے کے لیے ایک محلول بھی ڈالا جاتا ہے۔

چونا یا کیلسیئم کاربونیٹ پیدا کرنے والا بیکٹیریا

اس سائنسی عمل سے بُھرتے ہوئے چونے میں بیکٹیریا کیلشیم کاربونیٹ پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں اور یوں اصلی چونے سے عمارتوں کے تحفظ کی ایک راہ اپنا لی گئی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق جھیلوں، اندرون زمین اور سمندروں میں بھی چونے کی کیمیائی ہیئت اسی نوعیت کی ہوتی ہے۔

طاقت ور طوفان سے تاج محل کے دروازوں کے دو مینار الٹ گئے

بیکٹیریا سے چونا حاصل کرنے کی تکنیک

بیکٹیریل کلچر سے چونا حاصل کرنے کی تکنیک فرانس کی وزارتِ ثقافت کی کوششوں سے آگے بڑھی ہے، اس تکنیک پر کام سن 1990 میں شروع کیا گیا تھا اور اب اس کو فرانس، پرتگال اور اسپین میں یادگاری اور تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی تجربات لاطینی امریکی ملک ہونڈوراس میں واقع قدیمی مایا تہذیب کے مرکز میں کئی کھنڈرات پر کیے گئے تھے۔

اسپین کے علاقے گریناڈا (غرناطہ) کی یونیورسٹی کے  معدنیات اور پیٹرولوجی کے پروفیسر کارلوس روڈریگیز ناوارو اس اہم سائنسی تحقیقی ٹیم کے سربراہ ہیں۔

پروفیسر ناوارو کو یقین ہے کہ بیکٹیریا تکنیک کو مستقبل میں مزید مقبولیت حاصل ہو گی اور تاریخی عمارتوں کو محفوظ بنانا ممکن ہو گا

ان کی ٹیم کی کوششوں سے قدرتی انداز میں چونے کو تیار کر کے قدیمی عمارتوں کے تحفظ کی تکنیک کو عام کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پرانے زمانے میں چونے کا استعمال خاصا زہریلا بھی ہوتا تھا لیکن پروفیسر ناوارو کا طریقہ بہت کم زہریلا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:34 تاریخی اور قدیم عمارات میں ماحول دوست ترامیم کیسے کی جائیں

بھیجیے Facebook Twitter Whatsapp Web EMail Facebook Messenger Web reddit

پیرما لنک https://p.dw.com/p/38Who

تاریخی اور قدیم عمارات میں ماحول دوست ترامیم کیسے کی جائیں

پروفیسر ناوارو کو یقین ہے کہ اس تکنیک کو مستقبل میں مزید مقبولیت حاصل ہو گی اور کئی دوسرے ممالک بھی اس ماحول دوست طریقے کا استعمال کر کے اپنے ہاں تاریخی ورثے کو محفوظ کر سکیں گے۔

تھوماس ویبر (ع ح / م م)

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More