صحت کارڈ کے ذریعے علاج فراہم کرنے والے ہسپتالوں کی تعداد2021ء میں بڑھاکر167کردی گئی ،محکمہ صحت

اے پی پی  |  Jul 31, 2021

محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے مطابق صحت کارڈآبادی کے لحاظ سے سرکاری ہسپتالوں کی تعداد1سے بڑھاکر44کردی گئی ہے ۔2017ء میں صحت کارڈ کے زریعے علاج فراہم کرنے والے فی ہسپتال میں ایوریج فیملیزصرف 22694تھیں،2021میں تعدادبڑھاکر43,052کردی گئی ،صحت کارڈ کے ذ ریعے علاج کروانے والے زیادہ ترمریض جنرل سرجری کے رپورٹ ہوءے ہیں جوکہ کل مریضوں کا 18.27فیصدہے ،صحت کارڈ سے 70فیصد مریض 5قسم کے علاج کروارہے ہیں جن پرٹوٹل خرچ کا75فیصدحصہ استعمال ہواہے ان پانچ اقسام کے علاج میں جنرل سرجری کے 18.27فیصد،ڈائلاسسزکے 15.72،جین کالوجی کے13.57فیصد،میڈیکل کے 13.19فیصداورکارڈیالوجی کے 8.52فیصدمریض شامل ہیں ،صحت کارڈ کے استعمال کی شرح 2017ء میں 2.5فیصدرہی جبکہ 2021میں 179742مریضوں نے اس سے فائدہ حاصل کیاجس پر4.538ملین روپے خرچ ہوئے جبکہ 2017ء میں 2695ملین روپے خرچ ہوئے تھے ،صحت انصاف کارڈ کے حوالے سے63فیصدمریضوں کی شکایات کاازالہ کیاجاچکاہے جبکہ 19فیصدشکایات ابھی بھی حل طلب ہے ۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ2020-2021کے سات ماہ کے دوران سرکاری اور نجی اسپتالوں میں صحت کارڈ پلس پروگرام کے تحت کم سے کم 250,439مریضوں کا مفت علاج کیا گیاجن میں زیادہ تر مریضوں نے اپنے علاج کیلئے نجی اسپتالوں کو ترجیح دی، لگ بھگ 174,388افراد نجی اسپتالوں جبکہ سرکاری اسپتالوں میں صرف76,052مریضوں کا مفت علاج کیا گیا۔ حکومت نے مختلف اسپتالوں کو 7.2ارب روپے کی رقم ادا کی ہے،خیبر پختونخوا حکومت نے گذشتہ مالی سال کے دوران اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کو13.056بلین روپے کی ادائیگی کی ہے اور معاہدے کے تحت یہ تنظیم 5.856بلین روپے کی باقی رقم ادا کرے گی۔

رواں مالی سال 2020-2021کیلئے خیبر پختونخوا کے تقریبا7.49ملین خاندانوں کیلئے23بلین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جگر کی پیوند کاری کے مفت علاج کیلئے کم از کم ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔خیبرپختونخواکے باقی حصوں کے برابر کرنے کیلئے نئے ضم ہونے والے علاقوں کے لوگوں کی صحت کی کوریج کو10ملین سے بڑھا کر72ملین کردیا گیا ہے۔

صحت سہولت پروگرام نے خیبرپختونخوا جیسے ایک چھوٹے صوبے کو کینیڈا، آسٹریلیا، جاپان اور چند یورپی ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوامحمود خان نے صحت کارڈ کو تحریک انصاف کا ایک اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے نہ صرف لوگوں کو مفت صحت کی سہولیات مہیا کی ہیں بلکہ صوبے میں غربت کو کم کرکے لوگوں کے معیار زندگی کو بھی بہتر بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخواحکومت صوبے کے عوام کو زیادہ سے زیادہ ممکنہ سہولیات کی فراہمی کیلئے بھرپور کوشش کر رہی ہے ،سابقہ صوبائی حکومت نے صوبے میں محدود پیمانے اور اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے صحت کارڈ کا پراجیکٹ شروع کیا اور اس اسکیم کے فوائد سے موجودہ خیبر پختونخواحکومت نے اس سہولت کو صوبے کی100فیصد آبادی تک بڑھا دیا۔

 

دوسری جانب وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبے میں صحت سہولیات کو بڑھانے کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی تجدید کاری کے منصوبے پر مقررہ ٹائم لائن کے مطابق عملی پیشرفت یقینی بنانے کی ضروری اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ آئندہ دو سالوں میں صوبے کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی تجدید کاری کا عمل ہر لحاظ سے مکمل کرلیا جائے۔ ا نہوں نے اس مقصد کیلئے منصوبے کے پہلے مرحلے میں شامل ہسپتالوں پر طے شدہ ٹائم لائن کے مطابق عملی کام کا اجراکرنے جبکہ نومبر تک تمام پیکجز کی ڈیزائننگ کا عمل مکمل کرنے اور ٹینڈر ڈاکومنٹس کی تیاری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ عوامی فلاح کے اس منصوبے کو تیز رفتاری سے مکمل کیا جا سکے۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق صوبے کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی تجدید کاری کے منصوبے کے تحت آئندہ دو سالوں میں صوبے کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی ری ویمپنگ کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ منصوبے کا کل تخمینہ لاگت 14.9 ارب روپے ، تمام ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کے چار مختلف فیزز بنائے گئے ہیں۔بندوبستی اضلاع کے25 ہسپتالوں پر مشتمل پہلے تین فیز ز کو سات پیکجز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں چارسدہ، ایبٹ آباد، ہری پور اور کرک کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کے علاوہ مولوی جی ہسپتال پشاور اور نصیر للہ بابر ہسپتال پشاور شامل ہیں جن کودو پیکجز میں تقسیم کیا گیا ہے۔

وزیراعلی نے پہلے فیز میں شامل ہسپتالوں پر عملی کام کا بروقت اجرا کرنے جبکہ دیگر پیکجز کی ٹینڈر دستاویزات ، ڈیزائننگ اور پی سی ونز سمیت دیگر تمام ضروری لوازمات آئندہ نومبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلی نے کہاکہ صوبائی حکومت عوام کو ان کی دہلیز پر صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے کیلئے اس منصوبے کو آئندہ دوسالوں کے اندر بہر صورت مکمل دیکھنا چاہتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس مقصد کیلئے محکمہ صحت سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنی ذمہ داریاں بروقت ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے جس کی تکمیل سے صوبے کے دور دراز علاقوں کے عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کو مقامی سطح پر یقینی بنانے اور صوبے کے تدریسی ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت میں صحت کارڈ پروگرام کے تحت یکم فروری2016سے30جون2021تک مجموعی طور پر478,973مریضوں کا مفت علاج کیا گیا اور حکومت نے سرکاری اور نجی اسپتالوں کو11807,23ملین روپے کی ادائیگی کی۔ لگ بھگ329,821مریض نجی اسپتالوںجبکہ 149,152مریض علاج کیلئے سرکاری اسپتالوں میں گئے ۔

نجی اسپتالوں نے8,408ملین روپے جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں3,399.03ملین روپے چارج کئے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ خیبر پختونخوا اپنے تمام شہریوں کیلئے مفت صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے31جنوری 2021کو پہلا صوبہ بن گیا کیونکہ یہاں کی پوری آبادی ملک کے 500سرکاری اور نجی اسپتالوں میں مفت علاج معالجے کے قابل تھی۔صحت کارڈ کی انفرادیت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں قومی شناختی کارڈ پر ملک بھر میں مفت علاج کروا سکتا ہے۔مسابقتی بولی لگانے کے عمل کے بعد اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کا انتخاب کیا گیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے6نومبر2020کو مالاکنڈ ڈویژن میں ہیلتھ کیئر پروگرام کے پہلے مرحلے کا افتتاح کیا۔ پہلے مرحلے میں چترال ، مالاکنڈ ، سوات ، اپر دیر ، اور لوئر دیر کے پانچ اضلاع کے ہر خاندان کوسالانہ 10لاکھ روپے تک مفت صحت کی سہولیات مہیا گئی تاہم نومبر 2020کے دوسرے مرحلے میں شانگلہ ، کوہستان ، بٹگرام ، مانسہرہ ، تورغر اور ایبٹ آباد کے اضلاع کو صحت کارڈ پروگرام میں شامل کیا گیا۔اسی طرح جنوری 2021کے آخر تک تیسرا مرحلہ میں ہری پور ، بونیر ، صوابی ، مردان ، نوشہرہ ، چارسدہ ، پشاور ، کوہاٹ ، ہنگو ، کرک ، بنوں ، لکی مروت ، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کوصحت سہولت کارڈ پروگرام میں شامل کیا گیا جب صوبے کی پوری آبادی نے مفت صحت کی سہولیات حاصل کیں۔

سوات سے تعلق رکھنے والے فرہادکاکہناہے کہ آج غریبوں کیلئے سرکاری ہسپتالوںمیں نجی ہسپتالوں کے برابروالی سہولیات مل رہی ہے جن کاساراکریڈٹ پاکستان تحریک انصاف اوروزیراعظم عمران خان کوجاتاہے ،خیبرپختونخوا کے مستقل رہائشی ہسپتالوں میں صرف قومی شناختی کارڈ دکھاکرصحت کی مفت سہولیات سے مستفیدہورہے ہیں ۔

فرہادکاکہناہے کہ میری چھوٹی بہن بیمارتھی جب ہم اسے ہسپتال لے کرگئے توصرف شناختی کارڈ دکھانے پرصحت انصاف کارڈ کے زریعے ہماراساراعلاج بالکل مفت ہوا۔ان کاکہناہے کہ میری بہن کودوماہ سے گلے میں دردکی تکلیف تھی جب انہیں ہم ہسپتال لے گئے وہاں پرپورے چیک اپ ہونے کے بعد ڈاکٹرنے بتایاکہ آپ کی بہن کو ٹانسلزہے ان کاآپریشن کرناضروری ہے توہم نے ڈاکٹرسے پوچھاکہ آپ کا آپریشن فیس کتنی ہوگی توانہوں نے بتایاکہ آپ اپنے والدکاشناختی کارڈ دیدیں ،تھوڑی دیربعدڈاکٹرنے بتایاکہ آپ کے والد کے شناختی کارڈ نمبرکااندراج پہلے سے صحت انصاف کارڈ میں ہوچکاہے جس میں سے دس لاکھ روپے کے اخراجات موجودہ خیبرپختونخوا حکومت پوری کریگی اورپی ٹی آئی حکومت کی طرف سے ادائیگی ہوگی جس کی وجہ سے میری بہن کے ٹانسلزکاآپریشن بالکل مفت ہوااورہسپتال کی جانب سے ایک ہفتے کی مفت ادویات بھی فراہم کی گئی ۔

انہوں نے کہاکہ اللہ تعالی وزیراعظم عمران خان کوکامیاب کرے کیونکہ ان ہی کی بدولت ہماراخاندان کسی غیراوردوسرے کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بچ گیا۔کرک سے تعلق رکھنے والے عمرخطاب کاکہناہے کہ جنوری 2021 کے دوران راولپنڈی میں مجھے دل کی تکلیف شروع ہوئی جب پتہ چلاکہ دل میں سوراخ ہے جن کے آپریشن کرنے پر5لاکھ کاخرچہ آئیگااورآپریشن ناگزیرتھاتومجھے کسی نے بتایاکہ پشاورمیں دل کے مریضوں کے ہسپتال موجودہے ۔پشاورانسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں سرجن طارق کے پاس گیاجنہوں نےمیراصحت انصاف کارڈ کے زریعے مفت علاج کروایاحالانکہ میرے پاس کارڈ موجود نہیں تھاکہ وہاں کے ڈاکٹروں نے بتایاکہ شناختی کارڈ ہی آپ کاصحت انصاف کارڈ ہے ۔

سوات سے تعلق رکھنے والے عالم خان کاکہناہے کہ مجھے دل کی بیماری لاحق تھی میراسیدوشریف ہسپتال آناجانالگارہتاتووہاں پرڈاکٹروں نے مجھے بتایاکہ آپ کاعلاج پشاورانسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں صحت انصاف کارڈ کے زریعے بالکل مفت ہوسکتاہے ،آج اسی انسٹیٹیوٹ میں میرے ایک شناختی کارڈ پربالکل مفت علاج ہورہاہے جبکہ میں پرائیویٹ ہسپتالوں میں چارپانچ لاکھ کے خرچے سے بچ گیاجوکہ صرف اورصرف صحت انصاف کارڈ کے بدولت ممکن ہوا۔انہوں نے خیبرپختونخوا کے عوام پرزوردیاکہ شناختی کارڈ ہی آپ کاصحت انصاف کارڈ ہے اس سے آپ کامفت علاج ہوگا۔

ہنگوکے رسول گل کاکہناہے کہ 15مئی کومجھے ہارٹ اٹیک ہوامجھے کوہاٹ کے ہسپتال لے جایاگیاجہاں سے مجھے پشاورانسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ریفرکیاگیا۔انہوں نے کہاکہ پشاورانسٹٹیوٹ آف کارڈ یالوجی میں میرے ساتھ صحت انصاف کارڈ نہ ہونے کے باوجود صرف ایک شناختی کارڈ کے ذریعے میراعلاج کرایاگیاکیونکہ مجھے ڈاکٹروں نے بتایاکہ شناختی کارڈ ہی آپ کاصحت انصاف کارڈ ہے جس سے خیبرپختونخوا حکومت دس لاکھ روپے تک اخراجات برداشت کررہی ہے ۔ایبٹ آبادسے تعلق رکھنے والے چن زیب کاکہناہے کہ مجھے دل میں شدیدنوعیت کے تکلیف شروع ہوئی۔ میں ایبٹ آبادسے سیدھاپشاورانسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں اپنے علاج کیلئے آیا۔انہوں نے کہاکہ لوگ اپنے علاج کیلئے مکان ،زیوراورجائیدادوغیرہ فروخت کرتے ہیں لیکن یہاں حیرت انگیزطورپرمیرے اپنے شناختی کارڈ پربالکل مفت علاج ہورہاہے ۔انہوں نےکہاکہ شناختی کارڈ ہی میراصحت انصاف کارڈ ہے جس سے میرے دل کامفت ہورہاہے ۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More