بھارت کی دو ریاستوں آسام اور میزورام میں سرحدی تنازع، وزیرِ اعلیٰ آسام کے خلاف مقدمہ درج

وائس آف امریکہ اردو  |  Jul 31, 2021

نئی دہلی — 

بھارت کی شمال مشرق میں دو ریاستوں آسام اور میزورام کے درمیان سرحدی تنازع طول پکڑتا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں دونوں ریاستوں کی پولیس کے درمیان جھڑپ میں آسام کے پانچ پولیس اہل کار ہلاک ہوئے تھے جس پر اب آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کے خلاف قتل اور مجرمانہ سازش کے الزامات کے تحت میزورام میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

یہ ایف آئی آر 26 جولائی کو دونوں ریاستوں کی پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے سلسلے میں درج کی گئی ہے جس میں آسام کے پانچ پولیس اہل کار اور ایک عام فرد ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق ایف آئی آر میں ریاست کے دو اعلیٰ افسران اور 200 نامعلوم افراد کا بھی ذکر ہے۔

آسام کے وزیرِ اعلیٰ نے میزورام پولیس کی اس کارروائی کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے جب کہ وہ عدالت سے آسام کے جنگلات کے علاقے کے تحفظ کی اپیل بھی کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ میزورام پولیس کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں تعاون کریں گے۔ تاہم انہوں نے سوال کیا کہ اس واقعے کی کسی آزاد ایجنسی سے تحقیقات کیوں نہیں کرائی جاتی؟

اس سے قبل 26 جولائی کے واقعے کے بعد مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے بات کی تھی اور باہمی گفت و شنید سے مسئلے کو حل کرنے پر زور دیا تھا۔

اسی درمیان آسام پولیس نے میزورام پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس سے 26 جولائی کے واقعے کی تحقیقات میں شامل ہونے کا کہا ہے۔

کچھار پولیس کی جانب سے بھیجے جانے والے نوٹس میں میزورام کے چھ پولیس اہل کاروں کے نام ہیں۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ میزورام کے پولیس اہل کار دو اگست کو کچھار پہنچیں اور تحقیقات میں شامل ہوں۔

گزشتہ برس اکتوبر اور نومبر میں بھی متنازع سرحدی علاقے میں آسام اور میزورام کے شہریوں کے درمیان دو بار تصادم ہوا تھا جس میں آٹھ افراد زخمی ہوئے تھے اور کئی جھونپڑیوں اور دکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔

دریں اثنا آسام کے وزیرِ اعلیٰ کا کہنا ہے کہ دونوں ریاستوں کے درمیان یہ طے پایا ہے کہ وہ سرحدی علاقوں سے نیم مسلح دستے ہٹا لیں گے۔

جولائی کی 26 تاریخ کو ہونے والے تشدد کے سلسلے میں میزورام کے وزیر اعلیٰ زورم تھنگا کا کہنا ہے کہ یہ تصادم اس وقت شروع ہوا جب کچھار ضلع کے ویرنگتے آٹو رکشا اسٹینڈ کے نزدیک واقع سی آر پی ایف پوسٹ میں آسام کے 200 سے زیادہ پولیس اہل کار پہنچے تھے اور انہوں نے میزورام پولیس اور مقامی لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔

صورتِ حال پر نظر رکھنے کے لیے نیم مسلح دستوں کی چھ کمپنیاں سرحدی علاقے میں تعینات کر دی گئی ہیں۔

اسی درمیان آسام حکومت نے میزورام سے آنے والی تمام گاڑیوں کی جانچ کا حکم دیا ہے جس کی میزورام انتظامیہ نے مذمت کی ہے۔

میزورام کے محکمۂ داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ حکم غیر آئینی بھی ہے اور غیر ضروری بھی۔ اس سے میزورام سے آسام جانے والے بے قصور شہریوں کو دشواری کا سامنا ہوگا۔

بیان کے مطابق اس سے قبل غیر قانونی منشیات لے کر آسام سے میزورام میں داخل ہونے والے بہت سے لوگوں کو پکڑا گیا اور گاڑیاں ضبط کی گئیں۔ البتہ کبھی بھی تمام گاڑیوں کی تلاشی نہیں لی گئی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More