معذور افراد اب اپنی سوچ استعمال کرتے ہوئے کمپیوٹر چلا سکیں گے؟

بول نیوز  |  Jul 31, 2021

کسی بیماری یا حادثے کی صورت میں شدید معذور یا اپاہج ہونے والے افراد کے لئے امید کی ایک نئی کرن سامنے آئی ہے جس میں پہلی مرتبہ ان کی حالت بہتر بنانے کے لئے ایک دماغی پیوند نصب کیا جائے گا اور اسے امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (ایف ڈی اے) نے آزمائش کی اجازت دے دی ہے۔

سنکرون نامی امریکی کمپنی نے اسے تیار کیا ہے جسے ’اسٹینٹروڈ‘ کا نام دیا گیا ہے، اس سال کے آخر میں اس انقلابی پیوند کو دماغ کے اوپر رکھا جائے گا۔

پہلے مرحلے میں اس کی اہمیت اور انسانوں کے لئے موزوں ہونے کے تمام مراحل کا بغور جائزہ لیا جائے گا، نیویارک میں واقع مشہور ماؤنٹ سینیائی اسپتال اسے چھ مریضوں پر آزمائیں گے جو شدید معذوری اور اپاہج کی زندگی گزاررہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس دوران ایلون مسک کی کمپنی نیورالنک بھی اپنی ایجاد کی منظوری کے لئے سرتوڑ کوششیں کررہی ہے لیکن سنکرون نے بظاہر میدان مارلیا ہے۔

ایف ڈی اے کا مؤقف ہے کہ کمپنی کسی طرح ثابت کرے کہ یہ جدید آلات کارآمد ہیں اور انسانوں کے لئے محفوظ یا بے ضرر ہیں ،اس دوران ایف ڈی اے کے ماہرین ہرطرح کی رہنمائی فراہم کریں گے۔

اسی ایجاد کو آسٹریلیا میں بھی چار مریضوں پر آزمایا جائے گا، اس تجربے میں دماغی کے موٹرکارٹیکس سے بعض ڈجیٹل آلات کو کنٹرول کرنے کا کام کیا جائے گا، اس طرح معذور افراد اپنی سوچ سے کمپیوٹر کنٹرول کرتے ہوئے، ای میل بھیجنے یا وصول کرنے، ٹیکسٹ بھیجنے یا وصول کرنے، آن لائن شاپنگ اور بینکنگ کے کام بھی کرسکیں گے۔

اگرچہ اس کی بہت تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں لیکن یہ طے ہے کہ تحقیقات کو ایک جرنل میں شائع کیا گیا ہے ،اسٹینٹروڈ کے مطابق اس عمل میں مریض کو کم سے کم تکلیف ہوگی۔

گردن کے نیچے خون کی ایک نالی پر اس پیوند کو نصب کیا جائے گا اور اس انقلابی ایجاد کو دماغی سگنل کی وسیع تعداد کو پکڑنے اورپڑھنے کے لئے بنایا گیا ہے، یہ خون کی نالیوں کے سکڑاؤ اور پھیلاؤ کے تحت ازخود حرکت پاتا ہے اور خون کی دیگر نالیوں کا راستہ نہیں روکتا۔

سنکرون کے سربراہ تھامس آکسلے نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کی آزمائش کے بہترین نتائج ظاہر ہوں گے اور اگلے پانچ برس تک بازار میں فروخت کے لئے پیش کردیا جائے گا۔

Adsense 300×250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More