عثمان کاکڑ کی موت کی تحقیقات کرنے والا عدالتی کمیشن کیوں ختم کیا گیا؟

وائس آف امریکہ اردو  |  Aug 09, 2021

کوئٹہ — 

بلوچستان کی حکومت کی جانب سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق سینیٹر عثمان کاکڑ کی موت کے اسباب جاننے کے لیے قائم کیا گیا عدالتی کمیشن بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ختم کر دیا گیا ہے۔

بلوچستان کے محکمۂ داخلہ نے رواں برس یکم جولائی کو عثمان کاکڑ کی موت کی تحقیقات کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس نعیم اختر افغان اور نذیر احمد لانگو کی سربراہی میں دو رُکنی عدالتی کمیشن قائم کیا تھا۔

ایک ماہ کا عرصہ پورا ہونے پر عدالتی کمیشن نے اتوار کو اپنی رپورٹ جاری کی تھی۔

کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایک ماہ کے دوران کوئی بھی گواہی اور بیان قلم بند کرانے کے لیے کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بیانات اور گواہ نہ آنے کی وجہ سے کمیشن کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔

سابق سینیٹر عثمان کاکڑ رواں برس 17 جون کو کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ پر مبینہ طور پر سر پر چوٹ لگنے سے بے ہوش ہو گئے تھے۔

بعدازاں انہیں علاج کے لیے کراچی لے جایا گیا جہاں 21 جون کو انتقال کر گئے تھے۔

عثمان کاکڑ کے قریبی رشتے داروں اور پارٹی رہنماؤں نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی موت طبعی نہیں کیوں کہ انہیں کوئی مہلک بیماری لاحق نہیں تھی۔

Direct link240p | 5.7MB360p | 9.9MB480p | 18.7MB720p | 29.9MB1080p | 53.5MB

کراچی کے جناح اسپتال میں عثمان کاکڑ کی پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق لاش پر کسی تشدد یا جسمانی زخم کے نشانات نہیں تھے اور موت برین ہیمرج سے ہوئی۔

اس سے قبل پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ایک مرکزی رہنما رضا محمد رضا نے کارکنوں سے سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں خدشے کا اظہار کیا تھا کہ عثمان کاکڑ پر حملہ ہوا ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

عثمان کاکڑ کے اہل خانہ کیا چاہتے ہیں؟

جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں شواہد پیش کرنے کے لیے کسی کے پیش نہ ہونے سے متعلق وائس آف امریکہ نے عثمان کاکڑ کے بیٹے خوشحال خان کاکڑ سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے شروع دن ہی سے اس کمیشن کی مخالفت کی تھی۔

انہوں نےدعوی کیا کہ حکومت کے پاس کمیشن بنانے کا اختیار ہی نہیں تھا۔ ایڈوکیٹ جنرل کو اتنا بھی پتا نہیں ہے کہ حکومت نہ بینچ تشکیل دے سکتی ہے نہ ہی ان کے پاس کمیشن کے لیے نام دینے کے اختیارات موجود ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے بدنیتی کی بنیاد پر اپنی جانب سے نام دیے جسے ہم ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

SEE ALSO:'عثمان کاکڑ خوف کے دور میں انسانی حقوق پر بولنے والے چند افراد میں سے ایک تھے'

خوشحال خان نے کہا کہ ہمارا شروع دن سے مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں اس واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیشن صاف اور شفاف انداز میں اس واقعے کی تحقییقات کرے اور تحقیقاتی رپورٹ کو عام کیا جائے۔

انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ عثمان کاکڑ کی موت ایک سانحہ ہے اور اس کی تحقیقات کے لیے اقوامِ متحدہ کمیشن بنائے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے قائد محمود خان اچکزئی نے سات اگست کو کوئٹہ کے سائنس کالج میں عثمان کاکڑ کے چہلم کے موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عثمان خان کاکڑ کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ایک جمہوری پاکستان کے لیے آواز بلند کرتے تھے۔

بلوچستان حکومت کا مؤقف

وزیرِ داخلہ بلوچستان ضیا اللہ لانگو نے گزشتہ دنوں اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایک عدالتی کمیشن بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا ہے۔

ایڈوب فلیش پلیئر حاصل کیجئےEmbedshareبلوچستان میں خبر بنانے والوں کو خود خبر بن جانے کا ڈرEmbedshareThe code has been copied to your clipboard.widthpxheightpxفیس بک پر شیئر کیجئیے ٹوئٹر پر شیئر کیجئیے The URL has been copied to your clipboardNo media source currently available

0:000:01:480:00Direct link240p | 5.1MB360p | 7.9MB480p | 12.2MB720p | 29.1MB1080p | 39.0MB

انہوں نے خطاب میں کہا کہ ہم نے سابق سینیٹر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما عثمان کاکڑ کی ہلاکت پر لواحقین کے مطالبے پر عدالتی کمیشن قائم کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اخبارات میں اشتہارات د یے گئے تھے کہ اگر کسی کے پاس اس واقعے سے متعلق شواہد موجود ہیں تو وہ کمیشن کے روبرو پیش کیے جائیں۔

ضیا اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ عثمان کاکڑ کے اہلِ خانہ اور جماعت نے اس کمیشن کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہیں کیا۔ اس لیے عدالتی کمیشن کو ختم کر دیا گیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More