ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان کی نیوزی لینڈ پر فتح پر سمیع چوہدری کا تجزیہ: جو تضحیک کا جواب دینے کا 'دن' تھا

بی بی سی اردو  |  Oct 26, 2021

حارث
Getty Images

چونکہ کھیل اور کھلاڑی پبلک پراپرٹی سمجھے جاتے ہیں لہٰذا ان پر تنقید و تنقیص کو بھی ایک جمہوری حق مانا جاتا ہے۔ لیکن مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب تنقید اپنے منطقی ضوابط اور اخلاقی قیود پھلانگ کر ’تضحیک‘ اور بعض اوقات ’تذلیل‘ تک جا پہنچتی ہے۔

حارث رؤف وہ ٹیلنٹ ہیں کہ جسے ہمارے اردو محاورے میں ’گدڑی کا لعل‘ کہا جا سکتا ہے۔ جس طرح کی فاسٹ ٹریک انٹری ان کو قومی ٹیم میں ملی ہے، یہ کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

لاہور قلندرز والوں نے ’گدڑی‘ جھاڑی اور ’لعل‘ نکل آیا۔ پیچھے کوئی فرسٹ کلاس کرکٹ کا بیک گراؤنڈ نہیں تھا، ایج گروپ کرکٹ کے کوئی ریکارڈز نہیں تھے لیکن عاقب جاوید کی نظر ان پر جم گئی۔ بگ بیش جیسی کوالٹی کرکٹ میں پہلے ہی چانس پر ایسی شہ سرخیاں جنم دینے کے بعد قومی ٹیم کے دروازے گویا ’اچانک‘ کھل گئے۔

لیکن پاکستانی شائقین کا المیہ ہے کہ انھیں چند ایک خوش نصیبوں کے سوا لگ بھگ سبھی کرکٹرز کی یادگار پرفارمنسز زیادہ دن یاد نہیں رہتیں۔ ایک بری اننگز، ایک خراب سپیل کافی ہوتا ہے کہ ’ہیرو‘ پلک جھپکتے ’زیرو‘ ہو جاتا ہے۔

حارث رؤف اوائل میں قومی ٹیم میں وہ کارکردگی نہ دکھا پائے جو ان سے متوقع تھی۔ شائقین جلد ہی بگ بیش کو بھول گئے اور پھر حارث رؤف کے میمز بننے لگے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کی بھد اڑائی جانے لگی اور ’تجزیہ کار‘ بھی ان سے نالاں دکھائی دینے لگے۔

حارث
Getty Images

وسیم اکرم نے اس سارے عمل کو اس قریب سے دیکھا کہ وہ بھی کہنے پر مجبور ہو گئے کہ یہ تنقید نہیں، تمسخر ہے۔ اور قومی سطح کے پرفارمرز کے ساتھ یہ رویہ ناقابلِ برداشت ہے۔

حارث رؤف پر گویا یہ فرض ہو چلا تھا کہ وہ اپنی ہستی کا ثبوت لے کر آئیں۔

سو، جہاں سبھی نگاہیں شاہین شاہ آفریدی پر مرکوز تھیں، راہول اور شرما کو پھینکی گئی گیندوں کا تذکرہ ہو رہا تھا، وہاں اچانک سے حارث رؤف سرک کر سامنے آئے اور دفعتاً جانِ محفل بن گئے۔ گویا میلہ لوٹ لیا۔

شارجہ کی وکٹ کا عمومی تاثر ہمیشہ بیٹنگ فرینڈلی رہا ہے اور افغانستان بمقابلہ سکاٹ لینڈ میچ میں بھی گماں یہی گزرا کہ یہاں مقابلے تیز اور ہائی سکورنگ ہوں گے۔ لیکن نیوزی لینڈ کے خلاف اس میچ میں وکٹ گویا ابوظہبی کے سے تاثر میں بھیگی نظر آئی۔

گیند کا رویّہ ایسا تھا کہ جیسے ٹی ٹونٹی کا پاور پلے نہ ہو، ٹیسٹ میچ کی تیسری شام ہو۔ وکٹ میں سوئنگ بھی نہیں تھی لیکن شاٹ ٹائم کرنا بھی دشوار تھا۔ یہ عجیب مخمصہ تھا۔

حارث
Getty Images

اسی مخمصے میں ڈوبے گپٹل نے شاہین شاہ آفریدی کو محتاط سے انداز میں کھیلا۔ بجا طور پر کہا جائے تو انھیں بھرپور عزت دی اور ان کے ٹیلنٹ کی قدر کی۔ لیکن جونہی حارث رؤف اٹیک میں آئے، گپٹل نے بازو کھولنے کی کوشش کی۔

اور حارث رؤف نے انھیں سر جھٹکنے پر مجبور کر دیا۔

دھیرے دھیرے انھوں نے کیوی اننگز کو بیک فٹ پر دھکیلنا شروع کیا۔ اگرچہ کچھ عرصہ پہلے تک، سلو ڈلیوری ان کا مضبوط ہتھیار نہیں تھی مگر حالیہ کچھ عرصے میں یہ ان کا سب سے طاقت ور ہتھیار بنتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ: کیا ʹموقع موقعʹ کے بعد اب بات ʹبدلہ بدلہʹ کی ہے؟

اور پھر ’نارمل‘ کرکٹ نے ’صفر‘ کو توڑ دیا

پاکستان کی انڈیا کو شکست: ’انوشکا آپ نے آج کوہلی کو ڈانٹنا نہیں‘

پاکستان کے ہاتھوں شکست پر اکشے ’پنوتی‘ اور شامی ’غدار‘ کیوں ہو گئے؟

ٹی ٹونٹی کرکٹ میں سلو ڈلیوری ایک نہایت اہم تزویراتی چال ہے۔ 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینکنے والا بولر اگر بلے باز کو ہتھ چھٹ ہوتا دیکھ کر اچانک اپنی لینتھ کھینچ کر رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ تک گرا دے تو چھکے کے ارادے سے گھمایا گیا بلا عموماً واپس سر پر دے مارنے کی خواہش ہونے لگتی ہے۔

حارث رؤف کی سلو ڈلیوری کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ’سلو‘ نہیں ہے۔ وہ اوسطاً 145 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینکتے ہیں اور جب ان کی 130 کلومیٹر فی گھنٹہ ’سلو‘ ڈلیوری ایک لینتھ سے بلے باز کے سامنے اٹھتی ہے تو وہ اس امید پر پورے زور سے بلا گھما دیتا ہے کہ پیسر ہے، کہیں بھی پڑ گئی، نکل جائے گی۔

حارث
Getty Images

اور حارث کے کرئیر کے اوائل میں ایسا ہوا بھی بہت ہے۔

مگر شارجہ کی اس شام حارث رؤف ہمیں بالکل مختلف بولر دکھائی دیے۔ انھوں نے کیوی بلے بازوں کے ذہن بخوبی پڑھے اور ان کے سامنے وہ سوال داغے جن کا انھیں جواب دینا ہی پڑا، بھلے وہ غلط جواب ہی کیوں نہ تھے۔

ہر تضحیک کا جواب دینے کا ایک دن ہوتا ہے۔ اور حارث نے وہ دن چنا جو ان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے بھی ایک 'تضحیک' کا جواب دینے کا دن تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More