’کووڈ ویکسین بنانے والی کمپنیاں فی سیکنڈ ایک ہزار ڈالر کما رہی ہیں‘

بول نیوز  |  Nov 27, 2021

کووڈ ویکسین کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے مہم چلانے والی تنظیموں کے اتحاد پیپلز ویکسین الائنس (پی وی اے) نے اپنے تازہ ترین تجزیے میں بتایا ہے کہ کووڈ-19 کی ویکسین تیار کرنے والی صرف تین کمپنیاں فائزر، بایو این ٹیک اورموڈرنا اپنی ویکسین امیر ملکوں کو فروخت کرکے مجموعی طورپر فی منٹ 65 ہزار ڈالر کمارہی ہیں جبکہ دنیا کے غریب ترین ملکوں میں بیشتر افراد اب تک ویکسین سے محروم ہیں۔

پی وی اے کے مطابق یہ تجزیہ کمپنیوں کی طرف سے جاری کردہ رپورٹوں پر مبنی ہے۔

پی وی اے کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کو اربوں ڈالرز کی پبلک فنڈنگ ملنے کے باوجود انہوں نے ویکسین تیار کرنے کا فارمولہ، تکنیک اور دیگر معلومات غریب ملکوں کی کمپنیوں کو دینے سے انکار کردیا ہے۔ حالانکہ” غریب ملکوں کے ساتھ تعاون کرکے لاکھوں جانیں بچائی جاسکتی تھیں۔”

پی وی اے کے اندازے کے مطابق مذکورہ تینوں کمپنیاں اس سال  34 ارب ڈالر کا منافع کمائیں گی جوکہ فی سیکنڈ 1000ڈالر، فی منٹ 65 ہزار ڈالر اور یومیہ 93.5 ملین ڈالر کے قریب بنتا ہے۔

پی وی اے افریقا اور افریقن الائنس کی کوارڈینیٹر مازا صیوم کہتی ہیں، “یہ انتہائی شرمناک ہے کہ صرف چند ایک کمپنیاں ہر گھنٹے لاکھوں ڈالر منافع کما رہی ہیں جبکہ کم آمدن والے ملکوں کے صرف دو فیصد لوگوں کو ہی پوری طرح ویکسین میسر ہوسکی ہے۔”

انہوں نے کہا، “فائزر، بایو این ٹیک اور موڈرنا  نے اپنی اجارہ داری کا استعمال کرتے ہوئے دولت مند حکومتوں سے انتہائی منفعت بخش معاہدے کیے اور کم آمدنی والے ملکوں کو بے یار و مدد گار چھوڑ دیا۔”

پی وی اے کا کہنا ہے کہ فائزر اور بایو این ٹیک نے اپنی مجموعی سپلائی کے ایک فیصد سے بھی کم جبکہ موڈرنا نے صرف 0.2 فیصد ویکسین کم آمدن والے ملکوں کو سپلائی کیا۔

کم آمدن والے 98 فیصد افراد کو ابھی تک ویکسین کے دونوں ڈوز نہیں لگائے جاسکے ہیں۔

پی وی اے کا کہنا ہے کہ 8ارب ڈالر سے بھی زیادہ سرکاری فنڈ حاصل کرنے کے باوجود فائزر، بایو این ٹیک اور  موڈرنا  نے ویکسین ٹیکنالوجی کم اور درمیانی آمدنی والے ملکوں کو منتقل کرنے کی عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) کی درخواست ٹھکرا دی جبکہ ٹیکنالوجی منتقل کرنے سے عالمی سپلائی میں اضافہ اور قیمتوں میں کمی ہوسکتی تھی جس سے لاکھوں زندگیاں بچائی جاسکتی تھیں۔

پی وی اے ایک طویل عرصے سے یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ ویکسین کوپیٹنٹ سے آزاد ہونا چاہیئے۔ اس اتحاد میں آکسفیم، یو این ایڈس اور افریقن الائنس سمیت تقریباً80اراکین شامل ہیں۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More