جوہری مذاکرات سے قبل ایرانی وفد کی چینی اور روسی سفارت کاروں سے ملاقاتیں

بول نیوز  |  Nov 28, 2021

امریکہ اور دیگر ممالک کی وجہ سے 5 ماہ تک تعطل کا شکار رہنے والے ایران کے جوہری مذاکرات کا جلد آغاز ہونے جارہا ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ایران کو جوہری طاقت کے حصول سے روکنے کے لیے عالمی طاقتوں کے پاس آپشنز محدود ہوجائیں گے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران سے متعلق جوہری مذاکرات سے قبل آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایران کے وفد نے چینی اور روسی سفارت کاروں سے مختلف نوعیت کی ملاقاتیں کی ہیں۔

رپورٹ میں ایران کی نیوز ایجنسی کے حوالے سے بتایا گیا کہ ’ایرانی وفد کی قیادت علی باقری نے کی اور یہ اسے وقت میں ہوئیں جب ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پائے گئے 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع ہونے جا رہے ہیں’۔

واضح رہے کہ کچھ روز قبل ہی اقوام متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے متنبہ کیا تھا کہ ایران اپنے جوہری ذخیرے میں اضافہ کر رہا ہے۔

آئی اے ای اے نے 17 نومبر کو اپنی خفیہ سہ ماہی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انتہائی افزودہ شدہ یورینیم کے ذخیرے میں مزید اضافہ کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق انتہائی افزودہ شدہ یورینیم کو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں تہران کے جوہری پروگرام کو روکنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

یاد رہے کہ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات پیر کو آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں شروع ہونے جا رہے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی طرف سے معطل کیے گئے مذاکرات پانچ ماہ کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوں گے جن میں بڑی طاقتیں بھی شرکت کریں گی۔

خیال رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں عالمی ایٹمی معاہدے سے الگ ہو کر ایران پر وہ پابندیاں دوبارہ عائد کر دی تھیں جو معاہدے کی شرائط کے تحت اٹھائی جا چکی تھیں۔

بعد ازاں امریکہ کے موجودہ صدر جو بائیڈن متعدد مرتبہ یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ ایران کی طرف سے معاہدے کی اصل شرائط پر واپسی کی صورت میں معاہدہ بحال کرنے کے خواہاں ہیں۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More