آسٹریلیا کی آبائی نسل کی خاتون کے حکومت پر ‘سنگین’ نوعیت کے الزامات  

بول نیوز  |  Nov 28, 2021

آسٹریلین حکومت کے خلاف یہاں کی آبائی نسل سے تعلق رکھنے والی خاتون نے جیل میں ریمانڈ کے دوران سنگین نوعیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرادیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کی آبائی نسل سے تعلق رکھنے والی خاتون نے کینبرا کی جیل میں ریمانڈ کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آسٹریلین کیپیٹل ٹیریٹری (اے سی ٹی) حکومت کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔

رپورٹ کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے والی مقامی ’نگوناوال‘ خاتون نے عدالت میں جمع کروائی گئی دستاویز میں دعویٰ کیا کہ رواں سال جنوری میں الیگزینڈر میکونوچی اصلاحی مرکز میں پولیس افسران نے انہیں متعدد مرتبہ انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بنایا اور ان کا دعویٰ تھا کہ ان پر مبینہ طور پر جنسی حملہ بھی ہوا۔

37 سالہ متاثرہ خاتون کا دعویٰ تھا کہ گارڈز کی جانب سے ان کی زبردستی کپڑے اتار کر تلاشی لی گئی جب کہ جیل کے مرد قیدی بھی یہ منظر دیکھ رہے تھے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ اس موقع پر پولیس افسران کی ایک ٹیم کے پاس چاقو موجود تھا اور واقعے کی سی سی ٹی وی کیمرہ فوٹیج جیل کے آپریشن روم میں لائیو دیکھی گئی۔

علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ انہیں جیل کے کرائسز سپورٹ یونٹ میں منتقل کیا گیا تھا کیونکہ ’وہ میری حفاظت اور دماغی صحت کے حوالے سے فکر مند تھے‘۔

اے بی سی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق عدالتی دستاویزات، جن میں آڈیو ریکارڈنگ شامل تھی، میں برہنہ تلاشی والے واقعات کی نشاندہی ہوتی ہے۔

دوسری جانب اے سی ٹی کے انسپکٹر آف کوریکشنل سروسز نے واقعے کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد ایک رپورٹ جاری کی، جس میں کہا گیا کہ اگرچہ یہ تلاشی قانونی تھی لیکن افسران نے خاتون کے حقوق کا ’درست طریقے سے خیال‘ نہیں کیا۔

علاوہ ازیں مذکورہ جیل میں کلینک چلانے والی اور ہیلتھ سینٹر کی چیف ایگزیکٹو جولی ٹونگس نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ اس واقعے پر حکام کو جوابدہ ٹہرایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزیاں ہوئیں اور پھر بھی کچھ بھی نہیں بدلا اور کچھ بھی نہیں ہوا۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More