’انسانی جسم میں سؤر کا دل لگانے کا تجربہ پہلے میں نے کیا تھا اور مجھے جیل بھیج دیا گیا‘

بی بی سی اردو  |  Jan 15, 2022

‘میں نے 25 سال پہلے انسان کے جسم میں ایک سؤر کا دل لگایا تھا، اس دوران میں نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر دنیا کو بتایا تھا کہ سؤر کا ہر اعضا انسانی جسم میں لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن اس وقت کسی نے میرا ساتھ نہیں دیا تھا اور یہاں کی حکومت نے مجھے جیل میں ڈال دیا تھا اور اب اتنے عرصے بعد دنیا امریکی ڈاکٹروں کی جانب سے سؤر کے دل کے انسان میں ٹرانسپلانٹ کی بات کو ایک کامیاب تجربے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ جبکہ یہ تحقیق اور تجربہ سب سے پہلے میں نے کیا تھا۔‘

71 سالہ ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر دھنی رام بروا یہ کہتے ہوئے غصے میں بار بار میز پر مکہ مارتے ہوئے چیخنا شروع کر دیتے ہیں۔

سال 2016 میں فالج کے حملے کے بعد ڈاکٹر دھنی رام بروا اب ٹھیک طرح بات نہیں کر پاتے۔ ان کی اہلیہ دلیمی بروا نے ان کے ساتھ کئی برس تک کام کیا ہے اور وہ ان کے احساسات سمجھتی ہیں۔ انھوں نے غصے کی وجہ اور ان کی تحقیق کے حوالے سے ان پر ہونے والے مظالم کی تفصیل بیان کی۔

حال ہی میں امریکہ میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سؤر کا دل ایک شخص میں ٹرانسپلانٹ کیا ہے۔ یعنی سرجری کی دنیا کی تاریخ میں پہلی بار سؤر کا دل انسان میں لگایا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف میری لینڈ میڈیکل سینٹر کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی سرجری دنیا میں پہلی بار کی گئی ہے اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈیوڈ بینیٹ نامی 57 سالہ شخص اب صحت یاب ہو رہا ہے۔

امریکی ڈاکٹروں کی جانب سے پہلی بار ایسے ٹرانسپلانٹ کے دعوے کے بارے میں پوچھتے ہی ڈاکٹر دھنی رام نے ناراضگی کا اظہار کیا۔

لیکن اگلے ہی لمحے تھوڑی سی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آخرکار میڈیکل سائنس کے ماہرین نے 25 سال بعد یہ بات مان لیا کہ سؤر کے اعضا انسانی جسم میں پیوند کیے جا سکتے ہیں۔

سؤر کا دل کسی انسان کو لگانے سے متعلق مذہبی، طبی اور حقوق کی بحث

امریکی شہری کو سؤر کا دل لگا دیا گیا، کارنامہ سرانجام دینے والی ٹیم میں پاکستانی ڈاکٹر بھی شامل

امریکہ میں ’مردہ دماغ‘ شخص میں سور کے گردے کا کامیاب ٹرانسپلانٹ

1997 میں آپریشن کے بعد جیل بھیج دیا گیا

ریاست آسام کے سونا پور علاقے میں رہنے والے ڈاکٹر دھنی رام بروا، ہارٹ سٹی اور سٹی آف ہیومن جینوم کے نام سے ایک میڈیکل انسٹی ٹیوٹ چلاتے تھے۔ ڈاکٹر باروا کے مطابق امریکی ڈاکٹروں کی جانب سے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سؤر کے دل کی پیوند کاری کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ امریکی ڈاکٹروں نے یہ کارنامہ اسی تکنیک کی بنیاد پر حاصل کیا ہے جو انہوں نے برسوں پہلے اپنی تحقیق کے ذریعے استعمال کی تھی۔

انسانی جسم میں سؤر کے دل کی پیوند کاری کے بارے میں بی بی سی سے بات چیت میں ڈاکٹر بروا نے کہا ’میں نے پہلی بار یکم جنوری 1997 کو ایک 32 سالہ شخص کے جسم میں سؤر کے دل کی پیوند کاری کی تھی۔ اس سرجری سے قبل 100 سے زائد تحقیق کی گئی تھیں اور اس بات کو یقینی بنایا گیا تھا کہ انسانی جسم سؤر کے کئی اعضا کو قبول کرتا ہے۔‘

‘یہ ایک کامیاب سرجری کا نتیجہ تھا کہ دل کی پیوند کاری کے بعد مریض 7 دن تک زندہ رہا۔ لیکن مریض کو متعدد انفیکشن ہونے کے سبب اس کی جان نہیں بچائی جا سکی۔ درحقیقت مریض کے دل کے نچلے چیمبر میں سوراخ تھا جسے وینٹریکولر سیپٹل ڈیفیکٹ کہا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے مریض کو کئی طرح کے انفیکشن ہو گئے تھے۔‘

ڈاکٹر دھنی رام بروا نے ہانگ کانگ کے ایک سرجن ڈاکٹر جوناتھن ہو کی شنگ کے ساتھ مل کر سونا پور میں اپنے ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں یہ سرجری کی تھی۔

تقریباً 15 گھنٹے کی اس سرجری میں ڈاکٹر بروا نے سؤر کا دل اور پھیپھڑے اس مریض میں لگائے تھے۔ لیکن مریض کی موت کے بعد اس ٹرانسپلانٹ پر بڑا تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔

مقامی میڈیا میں اس واقعے کی خبر پھیلنے کے بعد، دونوں ڈاکٹروں کو مجرمانہ قتل اور انسانی اعضا کی پیوند کاری ایکٹ 1994 کے تحت گرفتار کر لیا گیا تھا۔

سکاٹ لینڈ کے رائل کالج آف گلاسگو سے کارڈیو سرجری کی تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹر دھنی رام اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں ‘آج پوری دنیا میں پگ ہارٹ ٹرانسپلانٹ کی دھوم مچی ہوئی ہے لیکن مجھے اس وقت جیل میں ڈال دیا گیا تھا اور انسٹی ٹیوٹ میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ 40 دن جیل میں رہنا پڑا، حکومت یا میڈیکل کے شعبے میں کام کرنے والے کسی شخص نے میری مدد نہیں کی تھی اور آج بھی میرے خلاف وہ کیس چل رہا ہے۔‘

نئی نئی ادویات تیار کرنے کا دعویٰ

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر دھنی رام کہتے ہیں ‘میں نے گلاسگو میں کارڈیو سرجری کرنے کے بعد برطانیہ، ابوظہبی سمیت کئی ممالک میں کام کیا۔ میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے کہنے پر اپنے ملک واپس آیا۔ لیکن اس دوران یہاں کی حکومت نے میرے ساتھ بہت برا کیا، جیل سے باہر آنے کے بعد میں نے اپنی تحقیق جاری رکھی۔ اب تک میں نے 23 ایسی دوائیں ایجاد کی ہیں جو دل، ایچ آئی وی، ذیابیطس جیسی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔‘

ڈاکٹر دھنی رام کا دعویٰ ہے کہ ان کی بنائی ہوئی ایک ایسی دوا ہے جس کے انجکشن سے اب دل کے مریض کو کسی قسم کی سرجری کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘میں نے دل کی جو دوائی تیار کی ہے اس سے انسان کے جسم میں سؤر کا دل لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ دوا انجیکشن کی صورت میں تیار کی گئی ہے، جس سے دل کے مریض کو ہارٹ ٹرانسپلانٹ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اور نہ ہی کسی بھی قسم کی دوسری سرجری کی ضرورت ہوگی۔‘

تاہم، جب ڈاکٹر دھنی رام سے ان ایجاد شدہ دوائیوں کے کلینیکل ٹرائل اور متعلقہ ہیلتھ ایجنسیوں سے منظوری حاصل کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس بارے میں زیادہ کچھ نہیں بتایا۔

ڈاکٹر دھنی رام کے ساتھ طویل عرصے تک کام کرنے والی ڈاکٹر گیتا کہتی ہیں ‘یہ ادویات طویل عرصے کی تحقیق کے بعد تیار کی گئی ہیں۔ اس کے لیے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ سمیت دیگر ایجنسیوں سے رابطہ کرنا پڑتا ہے، لیکن یہ ایک طویل عمل کا حصہ ہے جس کے بعد اجازت دی جاتی ہے۔ ہم نے کورونا ویکسین بھی تیار کی تھی اور آئی سی ایم آر کو لکھا تھا لیکن ہمیں اجازت نہیں ملی اور انتظار کرنے کے لیے کہا گیا۔‘

ممبئی کے بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کرنے والی ڈاکٹر گیتا کہتی ہیں ‘ڈاکٹر دھنی رام نے ایچ آئی وی کی دوا بھی تیار کی ہے جس میں مریض کو 10 دن کا کورس کرنا پڑتا ہے۔ مریض کو روزانہ ایک انجکشن دیا جاتا ہے۔ جس کے بعد کوئی شخص ایچ آئی وی کی دوا لیے بغیر معمول کی زندگی گزار سکتا ہے۔ 25 فیصد کیسز میں علاج کے بعد مریض کی ایچ آئی وی ٹیسٹ کی رپورٹ منفی آتی ہے۔‘

ڈاکٹر دھنی رام اور ان کی ٹیم اپنے درجنوں مریضوں کے نام گنواتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی دوائیاں کھانے کے بعد آج ملک اور بیرون ملک کے بہت سے مریض مکمل طور پر صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔

دعؤوں پر سوالات

ڈاکٹر بروا کے دعووں پر اب بھی پہلے کی طرح سوال اٹھائے جاتے ہیں۔

آسام میں مقیم ایچ آئی وی ایڈز کارکن جہنبی گوسوامی نے الزام لگایا ہے کہ ڈاکٹر دھنی رام بروا کے ایچ آئی وی کے انجیکشن لینے کے بعد ریاست میں چار لوگوں کی موت ہوئی ہے۔

جہنبی گوسوامی کہتی ہیں ‘میں ڈاکٹر دھنی رام بروا کی تحقیق پر سوال نہیں اٹھانا چاہتی لیکن ہم نے ان سے کئی بار کہا کہ آپ اپنی ایچ آئی وی کی دوائی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو بھیج دیں۔ آئی سی ایم آر سے اجازت لیں لیکن وہ کسی کی نہیں سنتے۔ ایڈز کنٹرول سوسائٹی کی جانب سے آسام حکومت پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ ڈاکٹر دھنی رام کی طرف سے بنائی گئی ایچ آئی وی کی دوا کی تحقیقات کرے۔‘

‘ان کا ایچ آیی وی کا انجیکشن لینے کے بعد نوگاؤں میں ایک مریض کی موت ہوگئی۔ معاشی طور پر پسماندہ اور غریب لوگ، خاص طور پر ایڈز سے اپنے رشتے داروں کی موت کے بعد، اس معاملے کو زیادہ آگے نہیں بڑھاتے۔ انہیں معاشرے کی طرف سے امتیازی سلوک کا خوف ہوتا ہے۔‘

کتوں کی سیکورٹی کے درمیان تحقیق

سونا پور میں واقع ڈاکٹر دھنی رام بروا ہارٹ سٹی اور سٹی آف ہیومن جینوم کے باہر کسی بھی قسم کا کوئی سائن بورڈ نہیں ہے۔

لمبی اور بلند چار دیواری میں گھری پہاڑی پر واقع اس ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں ڈاکٹر دھنی رام کی اجازت کے بغیر کوئی بھی داخل نہیں ہو سکتا۔

ان کے اس ادارے میں 200 سے زائد آوارہ کتے ہیں جو کسی اجنبی کو داخل نہیں ہونے دیتے۔

تاہم ان سے کتوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ڈاکٹر دھنی رام مسکراتے ہوئے کہتے ہیں ‘میں میڈیکل سائنس کی دنیا میں مسلسل نئی تحقیق کر رہا ہوں، لیکن ہمیں حکومت کی جانب سے کوئی تحفظ نہیں دیا گیا، اب صرف یہی کتے میری حفاظت کرتے ہیں۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More