جیمز بانڈ کی بندوق خریدناچاہتے ہیں؟ قیمت بھی جان لیں

بول نیوز  |  Jan 15, 2022

فلموں میں ہیروں کو سب سے عقلمند، بہادر اور ذہین بتایا جاتا ہے اور اکثر و بیشتر اس کے پاس ایسے آلات و ہتھیار ہوتے ہیں جن کا حقیقت سے دوردور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا، ایسی ایک فلم جیمزبانڈ جو تاریخی شہرت رکھتی ہے جس میں ہیرو کے ہاتھ میں ایک ایسی پستول ہوتی ہے جو صرف اسی سے چلتی ہے۔

اب ایک امریکی کمپنی نے جیمزبانڈ کی انوکھی بندوق کو حقیقت میں بدل دیا ہے جوصرف اپنے مالک کے ہاتھوں میں ہی چلتی ہے اور اسے اسی سال فروخت کے لئے پیش کیا جائے گا۔

برطانوی جاسوس جیمز بانڈ پربنائی جانی فلم سیریزکے بہت سارے پارٹ آچکے ہیں تاہم 2012 میں ریلیز کی جانے والی فلم ’اسکائی فال‘ میں جاسوس 007 کے پاس ایک ایسی انوکھی بندوق تھی جسے جیمز بانڈ کے علاوہ کوئی بھی چلا نہیں سکتا تھا۔

اس گن کی سب سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ یہ مالک کے انگلیوں کے نشانات پڑھ کر ان لاک ہوتی تھی، اسی سوچ کو مد نظررکھتے ہوئے امریکی کمپنی نے 9 ایم ایم اسمارٹ گن متعارف کرائی ہے جو جیمز بانڈ کی طرح مالک کے فنگر پرنٹ پر ہی کام کرے گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی اس بندوق میں فنگر پرنٹ ریڈر اور ایک نیئر فیلڈ کمیونیکشن (این ایف سی) چپ کو استعمال کیا ہے جسے ایک فون ایپ سے ایکٹیو کیا جاسکتا ہے اور ساتھ ہی ایک پن پیڈ بھی موجود ہے۔

اس حیرت انگیز گن کو مائیکرو سیکنڈز میں فنگرپرنٹ کی مدد ان لاک کیا جاسکتا ہے مگرگیلے ہاتھوں یا کسی چوٹ وغیرہ پر یہ گن ان لاک نہیں کی جاسکے گی بلکہ اس کے لئے بیک اپ میں پن پیڈ کو بھی دیا گیا ہے۔

ساتھ ہی اس میں این ایف سی سگنل بھی ایک اضافی بیک اپ کے طور پر دیا گیا ہے مگر اس کا طریقہ کار ابھی واضح نہیں کیا گیا ہے۔

ایک غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس اسمارٹ بندوق کی قیمت ڈیڑھ لاکھ روپے سے زائد ہوگی۔

واضح رہے کہ اس گن کو لوڈ سٹار نامی کمپنی نے تیار کیا ہے اور اس کی تیاری میں شامل ایک انجینئربنائی گیراتھ گلاسر کے مطابق اس بندوق کو بنانے کا خیال کسی فلم سے متاثر ہو کر نہیں آیا بلکہ بچوں کے ہاتھوں غلطی سے والدین کی بندوق چلنے کے واقعات کو پڑھ کر آیا۔

اس طرح یہ گن ایسے تمام واقعات کی روک تھام میں اہم کردار اداکرسکتی ہے جس میں خودکشی کرنے، بچوں کے ہاتھوں غلطی سے بندوق چل جانا شامل ہے جبکہ جرائم پیشہ افراد بھی اسے استعمال نہیں کر سکیں گے۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More