محکمہ صحت سندھ کی کارکردگی صفر ہے،ینگ ڈاکٹرز

سماء نیوز  |  May 19, 2022

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سندھ کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت سندھ کا سالانہ بجٹ 170 ارب روپے ہے لیکن اس کے باوجود صفر ہے۔  

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے بدھ کے روز کراچی پریس کلب میں ہونے والی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم اے سندھ کے رہنماء ڈاکٹر پیر منظور علی کا کہنا تھا کہ سرکاری اسپتالوں میں ادویات سمیت کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔

ڈاکٹر منظور علی کا کہنا تھا کہ انڈس ہائی وے پر حادثے میں زیادہ اموات صرف اس وجہ سے ہوئیں کہ بروقت ایمبولینس نہیں پہنچ سکی کیونکہ ایمبولینسز ہی خراب ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت آہستہ آہستہ اسپتالوں کو  نجی شعبے کے حواے کر رہی ہے، پی پی ایچ آئی کا اب تک آڈٹ نہیں کیا گیا ، اور دوبارہ انہیں بجٹ دیا جارہا ہے۔

اس موقع پر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ کے چیئرمین ڈاکٹر عمر سلطان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں اور مریضوں  کے مسائل کے حل اور  اسپتالوں کی بہتری کے لیے جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنائی ہے کیونکہ  مالی سال ختم ہونے کو ہے اور اسپتالوں کے لیے اب  تک  ادویات خریدی نہیں گئی ہیں۔ 

ڈاکٹرعمر سلطان کا کہنا تھا کہ اسپتالوں کی مینٹیننس کا معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے، اسپتالوں کو اسٹاف کی کمی کا شدید سامنا ہے، جناح اسپتال میں گزشتہ 12 سال سے پیرا میڈیکس اور نرسز کی بھرتی نہیں کی گئی جس کے باعث 70 بستروں پر مشتمل وارڈ میں صرف 2 نرسیں مامور ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں ریڈیالوجی سروسز کے بے پناہ مسائل ہیں، مریض اور انکے تیماردار سہولیات کی کمی کی وجہ سے ڈاکٹرز سے اُلجھتے ہیں، سہولیات کی کمی کو دور کیا جائے تاکہ مریضوں اور ڈاکٹروں کا تنازع نہ ہو۔

ڈاکٹر محبوب علی نوناڑی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی پولیس سندھ پولیس ڈاکٹروں کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کا نوٹس لیں۔

سول اسپتال کے ڈاکٹر وارث جاکھرانی کا کہنا تھا کہ صوبے میں اتائیوں کی بھرمار ہے، جس کی وجہ سے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھتا ہے، اتائی سادہ لوح عوام کو بے وقوف بناکر پیسہ بھی بٹور رہے ہیں اور ان کی زندگیوں سے بھی کھیل رہے ہیں لہٰذا ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More