بوئنگ کا خلائی جہاز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پہنچ گیا

ڈی ڈبلیو اردو  |  May 21, 2022

یہ اسپیس کرافٹ ممکنہ طور پر اگلے ہفتے زمین پر واپسی کی پرواز کے لیے خلائی اسٹیشن سے روانہ ہوگا

امریکی ریاست فلوریڈا میں کیپ کیناویرال اسپیس فورس بیس سے لانچ کیے جانے کے بعد CST-100 اسٹار لائنر نے تقریباﹰ چھبیس گھنٹے تک بغیر کسی پائلٹ کے سفر کیا۔ یہ خلائی طیارہ عالمی وقت کے مطابق ہفتہ رات بارہ بج کر اٹھائیس منٹ پرآئی ایس ایس  پر پہنچا تھا۔

طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کے اسپیس شپ میں تقریباﹰ 225 کلوگرام ناسا  کا کارگو اور عملے کا سامان موجود تھا۔ اس کے علاوہ 130 کلوگرام سے زیادہ بوئنگ کارگو بھی رکھا گیا تھا۔

ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ناسا کے کمرشل پروگرام پارٹنرز کے دونوں خلائی جہاز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک پہنچنے کے بعد ایک وقت میں ڈوک کیے گئے ہیں۔

اسپیس ایکس کریو ڈریگون  نامی خلائی طیارہ اپریل میں چار خلابازوں کو آئی ایس ایس تک پہنچانے کے بعد سے خلائی اسٹیشن پر ڈوک ہے۔

اسٹارلائنر کے لانچ میں تاخیر

بوئنگ کا خلائی جہاز اسٹارلائنر جولائی سن 2021 میں روانہ کیا جانا تھا لیکن اس کے لانچ سے قبل کئی مشکلات سامنے آئی تھیں۔ اس مشن کو پہلے روسی ریسرچ ماڈیول ناؤکا کی آمد کے بعد ملتوی کیا گیا اور پھر تکنیکی مسائل کی وجہ سے مزید تاخیر ہوتی گئی۔

ویڈیو دیکھیے 01:45 دنیا کا امیر ترین شخص، کون کون سی کمپنیوں کا مالک

سن 2019 میں پہلی ٹیسٹ فلائٹ کے دوران یہ اسپیس کرافٹ آئی ایس ایس تک پہنچنے میں ناکام رہا تھا۔

بوئنگ کمپنی کا ارادہ ہے کہ اسٹارلائنر کو مستقبل میں خلابازوں  کو آئی ایس ایس تک منتقل کرنے میں استعمال کیا جائے۔ اس طرح وہ اسپیس ایکس کریو ڈریگن کا متبادل بن سکتا ہے۔

اسٹارلائنر کو جزوی طور پر دوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس جدید اسپیس کرافٹ میں دوبارہ استعمال کے قابل عملے کا کیپسول اور ایک سروس ماڈیول شامل ہے جسے راکٹ کے ذریعے لانچ کیا جائے گا۔ یہ خلائی جہاز چار خلا بازوں کو اسپیس اسٹیشن تک پہنچا سکتا ہے۔

ع آ / ب ج (ڈی پی اے، اے پی، روئٹرز)

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More