خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن، کابل میں افغان خواتین کا احتجاج

اردو نیوز  |  Nov 24, 2022

خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقعے پر افغانستان کے دارالحکومت کابل میں کچھ خواتین نے اپنے حقوق کے حق میں احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ان کے حقوق کو تسلیم کیا جائے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو ہونے والے مظاہرے میں خواتین نے فارسی زبان میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں سے ایک پر لکھا تھا ’ہم آخر تک اپنے حقوق کے لیے لڑیں گے ہم سرنڈر نہیں کریں گے۔‘

گزشتہ برس اگست میں طالبان کے کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے افغان خواتین کو عوامی مقامات سے دور رکھا گیا ہے تاہم اب بھی کم تعداد میں خواتین باہر نکلتی ہیں اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی نظر آتی ہیں۔

طالبان کے دور اقتدار میں جب بھی خواتین نے سڑکوں پر نکل کر مظاہرہ کیا، تو اسے زبردستی ختم کروایا گیا بلکہ کبھی تو مظاہرین پر تشدد بھی ہوا۔

کابل میں آج جمعرات کو ہونے والے مظاہرے میں بھی طالبان جنگجو احتجاج کرنے والی خواتین کی نگرانی کر رہے تھے جبکہ انٹیلی جنس کی گاڑیاں بھی موجود تھیں۔

طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد سے زیادہ تر خواتین یا تو اپنی سرکاری نوکری کھو چکی ہیں اور جنہیں گھر رہنے پر مجبور کیا گیا ہے انہیں بھی انتہائی کم معاوضہ دیا جاتا ہے۔

طالبان نے خواتین کو محرم کے بغیر سفر کی اجازت نہیں دی ہوئی اور گھر سے باہر نکلنے کے لیے خود کو چادر میں ڈھانپنا یا برقع پہننا لازمی قرار دیا ہے۔

رواں ماہ طالبان نے خواتین کے تفریحی مقامات (پارکس) اور جِمز جانے پر بھی پابندی عائد کی تھی۔

لڑکیوں کے سیکندڑی سکول جانے پر عائد پابندی عالمی سطح پر تنقید کے بعد اب تک نہیں اٹھائی گئی۔

خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن ہر سال 25 نومبر کو منایا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد اب بھی دنیا میں انسانی حقوق کی سب سے زیادہ ہونے والی خلاف ورزی ہے۔ اس تشدد سے ہر تین میں سے ایک خاتون متاثر ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More