’شوہر کی آخری نشانی دو کنگن رہبر اعلی کی یاد میں دے دیے‘: کشمیر میں ایران کے لیے عطیات کی ’ریکارڈ توڑ‘ مہم

بی بی سی اردو  |  Mar 24, 2026

BBC

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کسی بھی بچے کے لیے اُس کی سپورٹس بائی سائیکل اتنی محبوب چیز ہے کہ وہ کسی کو اسے چھونے تک نہیں دیتا۔ لیکن وادی میں عید سے ہی ایران کے لیے جاری امدادی مہم کے دوران نہ صرف مردوں نے اپنی گاڑیاں، خواتین نے اپنے زیورات بلکہ بچوں نے اپنی محبوب بائیکس بھی عطیہ کر دی ہیں۔

بڈگام کے ماگام علاقے میں امدادی مہم چلانے والے نوجوان منتظر مہدی نے بی بی سی کو بتایا کہ جن دو بچوں نے اپنی نئی بائیکس عطیہ کی ہیں، وہ سامنے نہیں آنا چاہتے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’رہبر خامنہ ای ہمارے لیے دنیا کی ہر چیز اور ہر شخص سے زیادہ محبوب ہیں۔ اس مہم کی کامیابی کی وجہ یہی ہے۔ جب ہمارے رہبر نہیں رہے تو دنیا کی کوئی بھی چیز اب ہمارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اسی لیے لوگ دل کھول کر سب کچھ ایران کے لیے دے رہے ہیں۔‘

BBCجب فاطمہ رسول نے سُنا کہ رہبرِ اعلیٰ کی یاد میں ایران کے لیے امدادی مہم شروع ہو گئی ہے تو انھوں نے شوہر کی آخری نشانی اپنے سونے کے کنگن عطیہ کر دیے

سرینگر، بڈگام ، بارہمولہ، پونچھ، راجوری، کارگل اور دوسرے قصبوں میں جاری اس امدادی مہمکے لیے کشمیر میں بیشتر شعیہ گروپ کئی ہفتوں سے سرگرم تھے۔

تاہم عید سے ایک دن قبل نئی دلی میں ایرانی سفارتخانے نے جب اپنا اکاؤنٹ نمبر بعض رضاکار تنظیموں کے ساتھ شیئر کیا تو عید کے روز نہ صرف کشمیر بلکہ پورے انڈیا میں ایران کے حق میں امدادی لہر پھیل گئی۔

’چھوٹا پختونخوا‘: انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے اُس گاؤں کا سفر جہاں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے پختون آباد ہیںوائرل کشمیری چوڑیاں جو ’کشمیری نہیں ہیں‘: ’یہ سب ٹک ٹاکرز کا کیا دھرا ہے‘خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں کشیدگی کا ایک ہفتہ کیا ظاہر کرتا ہے؟’مارخور‘ اور ’سنولیپرڈ‘: کیا نئے ہتھیاروں سے لیس سپیشل سکیورٹی یونٹ کشمیر میں جنگل وار فیئر پر قابو پا لیں گے؟’تہران میں کربلا ہوا‘

ماگام کی جامع مسجد کے منتظم میر نذیر کئی بستیوں میں جمع ہو رہے عطیات کے انچارج ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ایک خاتون کے خاوند کا 28 سال پہلے انتقال ہوا تھا۔ اب اس کے پاس خاوند کی آخری نشانی کے طور پر صرف دو کنگن تھے۔ جب انھوں نے سُنا کہ رہبرِ اعلیٰ کی یاد میں ایران کے لیے امدادی مہم شروع ہوگئی ہے تو انھوں نے سونے کے وہی کنگن عطیہ کر دیے۔‘

فاطمہ رسول نامی اس خاتون نے بتایا کہ انھیں گذشتہ برسوں کے دوران کئی مرتبہ سخت مالی مشکلات کا بھی سامنا رہا لیکن انھوں نے کنگن نہیں بیچے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اُنھوں (امریکہ و اسرائیل) نے ہمارے رہبر کو شہید کر دیا۔ میں اپنی سب سے قیمتی اورپیاری چیز دینا چاہتی تھی، اسی لیے یہ کنگن اپنے اور اپنے خاوند کی طرف سے دیے ہیں۔‘

BBCسماجی کارکنوں کے مطابق ایران کے لیے کشمیر میں جاری عوامی عطیات کی مہم نے ماضی کے سبھی ریکارڈ توڑ دیے ہیں

میر نذیر کہتے ہیں کہ واقعۂ کربلا شعیہ مسلمانوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ’جس طرح امام حسین کو اپنے اہل خانہ سمیت قتل کیا گیا تھا، اسی طرح رہبر خامنہ ای کو بھی اپنے بیوی بچوں اور معصوم نواسوں سمیت قتل کیا گیا۔ ہمارے لیے تو دراصل تہران میں کربلا 2.0 ہوا تھا۔ ایک آواز کی دیر تھی کہ لوگ اپنا سب کچھ دینے پر آمادہ ہوگئے۔‘

میرنذیر کے مطابق نئی دلّی میں ایران کے سفارتخانے نے ایک اکاؤنٹ نمبر دیا ہے، جس میں پوری وادی سے جمع ہونے والی نقدی اور عطیات کی مالیت جمع کروائی جا رہی ہے۔ ’ایسے بھی لوگ ہیں جنھوں نے اپنی قیمتی گاڑیاں، موٹرسائیکل یہاں تک کہ کچھ نے تو زمین تک عطیہ میں دے دیے۔

’کچھ لوگوں نے لاکھوں کی رقم دے کر اصرار کیا کہ ان کی شناخت ظاہر نہ کی جائے۔ ان جائیدادوں کی نیلامی سے جو رقم آئے گی وہ بھی سفارتخانے کے بینک کھاتے میں جمع کردی جائے گی۔‘

BBCکچھ بچوں نے اپنی سائیکل تک عطیہ کی’کشمیر میں عوامی عطیات کی ریکارڈ توڑ مہم‘

کالم نویس اور سماجی کارکن عبدالقیوم شاہ کہتے ہیں کہ ایران کے لیے عوامی عطیات کی جو مہم آج کل وادی میں جاری ہے اس نے ماضی کے سبھی ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’1990 میں جب ملیٹینسی شروع ہوئی تو کئی کئی ماہ تک طویل کرفیو نافذ رہتا تھا۔ کچھ رضاکاروں نے ہلالِ احمر نام سے ایک مہم شروع کی جس میں کھانے پینے کی چیزیں وادی بھر میں تقسیم کی گئیں۔ اسی طرح2005 کے زلزلے میں کپوارہ اور اُوڑی میں تباہی ہوئی، نوجوانوں نے کپڑے اور بستر ٹرکوں میں لاد کر وہاں پہنچا دیے۔

’2014 کے تباہ کن سیلاب کے دوران بھی غذائی اجناس تقسیم ہوئیں۔ لیکن یہ میں پہلی بار دیکھ رہا ہوں کہ لوگ گھروں سے گاڑیاں، واشنگ مشین، فریج، شال، قالین، قیمتی تانبے کے برتن اور جو کچھ بھی گھر میں ہے لے کر آتے ہیں اور ایران کے لیے عطیہ کر دیتے ہیں۔‘

قیوم شاہ کے مطابق ایران کے لیے جاری موجودہ امدادی لہر ’کشمیر میں عوامی عطیات کی ریکارڈ توڑ مہم‘ ہے۔

رضاکار منتظر مہدی نے بتایا کہ ایک نوجوان، جو شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتا، برسوں سے علی خامنہ ای کے ساتھ ملاقات کا اشتیاق رکھتا تھا۔

اُس نے اس ارادے سے ایک مہنگی موٹر سائیکل خریدی تھی کہ اسی پر سوار ہو کر تہران جائے گا۔ ’کل ہی اُس لڑکے نے اپنی وہی بائیک عطیہ کر دی۔‘

کشمیریوں کی طرف سے عطیات کے مناظر کو اپنے ایکس ہینڈل پر شیئر کرتے ہوئے انڈیا میں ایران کے سفارتخانے نے لکھا کہ ’ہمارے دل شکریہ کے جذبات سے لبریز ہیں اور ہم خلوص کے ساتھ رحم دل کشمیریوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

’مہربانی کے ان جذبات کو ایران کبھی نہیں بھولے گا۔ شکریہ انڈیا!‘

’کشمیر چھوٹا ایران ہے‘

قابل ذکر ہے ایران اور کشمیر کے درمیان مذہبی، تمدنی اور ثقافتی تعلقات کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔

کالم نگار قیوم شاہ کہتے ہیں کہ ’یہاں اسلام عرب سے نہیں، ایران سے آیا تھا۔ کشمیرمیں ایران اور وسط ایشیا سے آئے 800 سے زیادہ سادات کے مزار ہیں اور یہاں کے لوگوں کو ان درگاہوں کے ساتھ گہری عقیدت ہے۔

’شعر و ادب، موسیقی، فن تعمیر، فنون لطیفہ یہاں تک کہ دستکاریاں تک کشمیر میں ایران سے ہی درآمد ہوئی ہیں۔‘

قیوم مزید کہتے ہیں کہ علامہ اقبال کی شاعری میں کشمیر کو ’ایرانِ صغیر‘ یعنی چھوٹا ایران کہا گیا ہے۔ ان کہنا ہے کہ ’کشمیر میں سینکڑوں برس تک سرکاری زبان بھی فارسی رہی ہے اور فارسی زبان میں کشمیری شعر و ادب کا نادر سرمایہ اس وقت کشمیر اور ایران میں موجود ہے۔‘

BBC

واضح رہے کہ سترہویں صدی کے عالمی شہرت یافتہ صوفی دانشور مُلّا طاہر غنی عرف غنی کشمیری وادی کے پہلے فارسی شاعر ہیں جو ایران سمیت پورے مشرق وسطیٰ میں مشہور ہوئے تھے۔

ایران کے ادبی حلقوں کی طرف سے بار بار دعوت دیے جانے کے باوجود جب وہ تہران نہیں گئے تو اُس وقت کے مشہور ایرانی شاعر صائب تبریزی صرف غنی کشمیری سے ملاقات کے لیے طویل سفر کر کے وادی آئے تھے۔

ثقافتی امور اور قدیم تاریخ کے ماہر محمد سلیم بیگ کا کہنا ہے کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر ایران کے تمدنی منظرنامہ کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہاں کی تاریخی جامع مسجد کا ڈیزائن بھی ایک ایرانی انجینیئر صدرالدین خراسانی نے ہی بنایا تھا۔

’خطاطی، پیپرماشی، سوزن کاری، قالین بافی، شال بافی وغیرہ یہ سب تو ایران سے ہی آیا ہے۔ اس لیے ایران کے لیے امدادی مہم میں کشمیریوں کی اس قدر سنجیدگیکوئی غیر فطری بات نہیں۔ اس کا ایک وسیع پس منظر ہے۔‘

امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کی خبریں: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟’چھوٹا پختونخوا‘: انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے اُس گاؤں کا سفر جہاں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے پختون آباد ہیںوائرل کشمیری چوڑیاں جو ’کشمیری نہیں ہیں‘: ’یہ سب ٹک ٹاکرز کا کیا دھرا ہے‘خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں کشیدگی کا ایک ہفتہ کیا ظاہر کرتا ہے؟’مارخور‘ اور ’سنولیپرڈ‘: کیا نئے ہتھیاروں سے لیس سپیشل سکیورٹی یونٹ کشمیر میں جنگل وار فیئر پر قابو پا لیں گے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More