ٹی وی سکرین پر ایک لڑکی کی انگریزی زبان میں کمنٹری کرتی آواز گونجتی ہے، ساتھ ایک لڑکے کی سسکنے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ یہ تمام منظر عوام ایک موبائل فون پر دیکھ رہے ہیں۔ اس واقعہ کو سکرین پر مکمل دکھایا تو نہیں جاتا، مگر ناظرین اس کی شدت کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔
بات ہو رہی ہے جیو ٹی وی پر نشر ہونے والے ڈرامے ’ایک اور پاکیزہ‘ کی، جس کی کہانی ایک اصلی واقعے کے گرد گھومتی ہے۔ اس ڈرامے میں ’سائبر بلئینگ‘ جیسے موضوع پر کھل کر بات بھی کی گئی ہے، اور متاثرہ افراد کو آگے کا لائحہ عمل بتانے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب پاکستانی ڈراموں میں اکثر کہانیاں گھریلو تنازعات کے گرد گھومتی ہیں، وہاں ’ایک اور پاکیزہ‘ ایک مختلف راستہ اختیار کرتا ہے۔ یہ صرف ایک کہانی نہیں بلکہ ایک سوال ہے— کیا ہم مشکل سچائیوں کو دیکھنے اور سننے کے لیے تیار ہیں؟
’ایک اور پاکیزہ‘ ناظرین میں اتنا مقبول کیوں ہو رہا ہے؟
اس ڈرامے کی کہانی پاکیزہ (سحر خان) نامی مرکزی کردار کے گرد گھومتی ہے جس کو کچھ لوگ ایک ہوٹل کے کمرے میں ہراساں کر کے اس کے دوست فراز (نمیر خان) کے ساتھ ویڈیو بناتے ہیں۔
اس ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی اس کے گھر والے دونوں کی شادی کروا دیتے ہیں لیکن ان سے قطع تعلق بھی کر لیتے ہیں، لیکن پاکیزہ ہمت نہیں ہارتی اور اپنے اور اپنے شوہر کو انصاف دلوانے کی خاطر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔
کس طرح وہ یٰسین نامی شخصکے خلاف شکایت درج کرواتی ہے جس نے یہ ویڈیو بنا کر وائرل کی تھی، اور اس کوشش میں اسے کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ سب کچھ اس ڈرامے میں دکھایا گیا ہے۔
سحر کے خاندان والے جو پہلے اس سے قطع تعلق کرلیتے ہیں، آہستہ آہستہ اس کا ساتھ دینے لگتے ہیں، جس کی وجہ سے اسے وہ حوصلہ ملتا ہے جس کی اسے ضرورت ہوتی ہے۔
ڈرامے کی کہانی چند سال قبل اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعے سے ملتی جلتی ہے جس میں عثمان مرزا نامی ایک شخص نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک نوجوان جوڑے کو پہلے ہراساں کیا، پھر زبردستی ان کی ویڈیو بنا کر وائرل کر دی تھی۔ پولیس کی تفتیش کے بعد اس شخص کو 25 سال کی سزا ہوئی اور اس وقت بھی وہ جیل میں ہے۔
رسک، ریسرچ اور حقیقت کے قریب کہانی
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں جہاں طویل عرصے سے ساس بہو کے تنازعات اور روایتی کہانیوں کا راج رہا ہے، وہیں کبھی کبھار کوئی ایسا پراجیکٹ سامنے آتا ہے جو نہ صرف اس روایت کو چیلنج کرتا ہے بلکہ ناظرین کی توجہ بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے ۔
’ایک اور پاکیزہ‘ بھی ایسا ہی ایک ڈرامہ ہے، جو سائبر کرائم، ٹراما اور انصاف تک رسائی جیسے حساس موضوعات کو ذہن میں رکھ کر بنایا گیا ہے۔
ڈرامے میں مرکزی کردار سحر خان اور نمیر خان کے ساتھ ساتھ نادیہ افگن، نورالحسن، آمنہ الیاس، گوہر رشید، علی آفتاب سعید، نمرہ شاہد، حنا خواجہ بیات اور ثاقب سمیر ادا کررہے ہیں۔
بی بی سی اردو نے اس ڈرامے کے ہدایتکار کاشف نثار اور رائٹر بی گل سے گفتگو کی، جس میں انھوں نے اس پراجیکٹ کے پس منظر، تخلیقی عمل اور ناظرین کے ردعمل پر تفصیل سے بات کی۔
اس ڈرامے کی مصنف بی گل ہیں جو اس سے قبل ’ڈر سی جاتی ہے صلہ‘ اور ’رقیب سے‘ جیسے ڈراموں کی سکرپٹ لکھ چکی ہیں۔ ان دونوں ڈراموں کو کاشف نثار نے ہی ڈائریکٹ کیا تھا۔
’ایک اور پاکیزہ‘ کے لیے ان دونوں کو کشف فاؤنڈیشن ایک بار پھر ساتھ لایا ہے، اور ان ہی کے تعاون کی وجہ سے یہ ڈرامہ عورتوں کے خلاف جرائم اور انصاف تک رسائی جیسے موضوعات پر آواز اٹھا رہا ہے۔
بی گل کے مطابق ابتدا میں وہ اس خیال سے ہچکچا رہی تھیں، کیوں کہ وہ کمیشن کیا گیا کام نہیں کرتی ہیں۔
’کمیشنڈ کام میں اکثر ایک ایجنڈا ہوتا ہے، جو تخلیقی آزادی کو محدود کر سکتا ہے، لیکن جب مجھے حقائق اور تحقیق دکھائی گئی تو لگا کہ اس پر کام کرنا ضروری ہے۔‘
سائبر کرائم کو بطور موضوع منتخب کرنا بی گل کا ذاتی فیصلہ تھا، کیوں کہ ان کے خیال میں ’یہ آج کے دور میں بہت ریلیونٹ ہے اور اس پر بات ہونا ضروری ہے۔‘
اس کہانی کو حقیقت سے قریب رکھنے کے لیے بی گل نے غیرمعمولی تحقیق کی۔ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف انھوں نے عدالتوں کا دورہ کیا، بلکہ فون پر پاکیزہ بن کر وکلا سے رائے بھی لی۔
’میں عدالتوں میں گئی، وکلا سے بات کی، یہاں تک کہ خود کو متاثرہ ظاہر کر کے معلومات حاصل کیں، ایف آئی اے تک بھی اسی طرح رسائی لی۔ مجھے پہلی بار سمجھ آیا کہ ایسے کیسز میں اصل میں کیا ہوتا ہے۔‘
’کیس نمبر 9‘ اور ریپ کے مقدمات میں متاثرہ خواتین سے پریشان کُن سوالات: ’مجھ سے پوچھا گیا شلوار کس نے اُتاری اور قمیض کس نے‘ڈرامہ ’تن من نیل و نیل‘ کے شجاع اسد: ’مردوں کے ریپ پر اداکار شرمندہ ہوتے ہیں کہ میں یہ کردار کیوں کروں‘’صبا قمر نے ہامی بھری تو اندازہ ہو گیا کہ ڈرامہ ہٹ ہو گا‘: ’معمہ‘ کی کہانی خود ایک معمہ کیوں بن گئیشاہ رخ خان کی پہلی فلم جس کا پرنٹ خراب ہو گیا تھا
’ایک اور پاکیزہ‘ کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہر کردار ٹراما کو مختلف انداز میں محسوس اور ظاہر کرتا ہے۔
بی گل کہتی ہیں، ’کوئی انکار کرتا ہے، کوئی غصہ دکھاتا ہے، کوئی خاموش ہو جاتا ہے، یہ سب ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں۔ ہر انسان اپنی شخصیت اور پس منظر کے مطابق ردعمل دیتا ہے۔‘
مضبوط سکرپٹ، بہترین ہدایتکاری
کاشف نثار کا شمار اس وقت پاکستان کے بہترین ہدایتکاروں میں ہوتا ہے۔ ’انکار‘، ’کابلی پلاؤ‘، ’بریکنگ نیوز‘، ’سٹینڈ اپ گرل‘ اور ’مسز اینڈ مسٹر شمیم‘ جیسے ڈرامے بنانے والے ہدایتکار کے مطابق کسی بھی ڈرامے کی بنیاد اس کا سکرپٹ ہوتا ہے۔
’اگر سکرپٹ مضبوط ہو تو اداکار اور ہدایتکار مل کر اسے بہتر بنا سکتے ہیں، لیکن کمزور سکرپٹ کو نہیں بچایا جا سکتا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اچھے اداکار کردار کو نئی جہت دیتے ہیں۔
’کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ کردار ہمارے ہاتھ سے نکل کر اداکار کے ساتھ آگے بڑھ جاتا ہے، اور وہ اسے ہماری توقع سے بہتر بنا دیتا ہے۔‘
حقیقت سے قریب تر کردار
اس ڈرامے میں دکھائے گئے کرداروں کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ وہ روایتی خانوں میں فٹ نہیں ہوتے۔ ایک کردار جس کو سب مکمل طور پر برا سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ اندر سے اچھا ہوتا ہے اور جسے اچھا سمجھا جا رہا ہوتا ہے، اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی مسئلہ ہوتا ہے۔
بی گل کے مطابق کرداروں کا ’مکمل بلیک یا وائٹ‘ نہ ہونا ہی انھیں حقیقت سے قریب تر بناتا ہے۔
’حقیقی زندگی میں بھی لوگ مکمل اچھے یا برے نہیں ہوتے۔ حالات کے ساتھ وہ بدلتے ہیں، اور میں نے اس ڈرامے میں وہی دکھانے کی کوشش کی ہے۔‘
حساس موضوع، ناظرین کا ردِعمل اور انڈسٹری کی ذمہ داری
سائبر کرائم جیسے موضوع کو پیش کرتے ہوئے ایک بڑا چیلنج اسے ناظرین کے لیے قابلِ قبول بنانا تھا۔
بی گل بتاتی ہیں کہ انھوں نے اور ڈائریکٹر کاشف نثار نے یہ طریقہ اپنایا کہ ’واقعہ دکھایا بھی جائے اور نہ بھی دکھایا جائے۔ مطلب کہ ناظر سمجھ جائے، لیکن اسے براہ راست دکھانے کی ضرورت نہ ہو۔‘
ادھر کاشف نثار کے لیے ناظرین کا ردعمل کسی حد تک حیران کن رہا۔
’یہ ایک مشکل اور ڈارک موضوع تھا، اور ہمیں لگا تھا کہ شاید لوگ اسے آسانی سے قبول نہ کریں۔ لیکن جس طرح لوگوں نے اس کی باریکیوں کو سمجھا، وہ ہمارے لیے سرپرائزتھا۔‘
دونوں فنکار اس بات پر متفق ہیں کہ معاشرتی مسائل پر کام کرنا صرف این جی اوز کی ذمہ داری نہیں ہونی چاہیے۔
بی گل کہتی ہیں کہ ایسے موضوعات کو سامنے لانے کی ذمہ داری چینلز اور پروڈیوسرز پر بھی عائد ہوتی ہے۔
’اگر چینلز اور پروڈیوسرز ایسے موضوعات کو اٹھانے میں پہل کریں تو این جی او کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔‘
کورٹ روم ڈرامہ: ایک مشکل صنف
حال ہی میں پاکستانی ٹی وی ڈراموں میں عدالتی کارروائیاں دکھا کر ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن سوائے ’کیس نمبر 9‘ کے، کوئی بھی کورٹ روم ڈرامہ اس کیٹگری کے ساتھ انصاف نہیں کرسکا۔
کاشف نثار کی نظر میں پاکستان میں معیاری عدالتی ڈراموں کی کمی کی بنیادی وجہ تربیت کی کمی ہے۔
’ہمارے ہاں نہ لکھنے والوں کو اس صنف کی ٹریننگ ہے اور نہ ہدایتکاروں کو۔ اس کے لیے ریسرچ اور محنت درکار ہوتی ہے، جو اکثر نہیں کی جاتی۔‘
بار بار ایک جیسے اداکار کیوں؟
کاشف نثار پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ ان کےڈراموں کی کہانی زیادہ تر اندرونِ لاہور کے گرد گھومتی ہے، اور ان کے ڈراموں میں نور الحسن، نادیہ افگن، اور ثاقب سمیر جیسے اداکار بار بار نظر آتے ہیں۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’جب کوئی اداکار کردار میں پوری طرح سرمایہ کاری کرتا ہے تو اس کے ساتھ دوبارہ کام کرنے میں انھیں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی۔‘
سوشل میڈیا سٹارز کی کاسٹنگ
ایک ٹرینڈ جو اس وقت پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری میں کافی چل رہا ہے، وہ ہے سوشل میڈیا سٹارز کو ڈراموں میں کاسٹ کرنے کا۔
میرب اعوان کی ’میری زندگی ہے تو‘ میں مہمان اداکاری ہو یا علی آفتاب سعید کی ’ایک اور پاکیزہ‘ میں کاسٹنگ، کاشف نثار کی اس بارے میں رائے مختلف ہے۔
’علی آفتاب سعید کو ’ایک اور پاکیزہ‘ میں بطور اداکار کاسٹ کیا گیا ہے، بطور سوشل میڈیا سٹار نہیں۔ میرا ماننا ہے کہ اگر کسی بھی سوشل میڈیا سٹار میں صلاحیت ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ صرف مقبولیت کی بنیاد پر کاسٹنگ زیادہ دیر نہیں چلتی، لانگ فارمیٹ میں اصل صلاحیت سامنے آ جاتی ہے۔‘
نیٹ فلکس تک کا سفر اور تخلیقی آزادی کی اہمیت
بین الاقوامی پلیٹ فارمز کے حوالے سے کاشف نثار کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ابھی مزید تیاری کی ضرورت ہے۔
’ہم تقریباً 15 سے 20 سال پیچھے ہیں، جب انڈیا او ٹی ٹی پلیٹ فارم کے لیے خود کو تیار کررہا تھا تو ہم نے اس وقت اسے سنجیدہ نہیں لیا، ہمیں کہانی سنانا تو آتا ہے، لیکن انٹرنیشنل لیول پر آنے کے لیے ہمیں تکنینی شعبوں میں بہتری کی ضرورت ہے۔‘
بی گل کے مطابق ’ایک اور پاکیزہ‘ کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ تخلیقی آزادی بھی ہے۔
’جب رائٹر کو یقین ہو کہ ہدایتکار اس کے وژن کو سمجھے گا، تو وہ بہتر لکھتا ہے، یہ اعتماد بہت ضروری ہے۔ً
ادھر کاشف نثار کا کہنا تھا کہ یہ ڈراما کسی بھی سیٹلائٹ ٹی وی چینل کے لیے ان کا آخری ڈرامہ ہوسکتا ہے، کیوں کہ اس کے بعد وہ ڈیجیٹل کی طرف جانا چاہ رہے ہیں۔
’سیٹلائٹ میں جو کریٹیو پارٹنرز ہیں جیسے لکھاری، ہدایتکار، اداکار اور موسیقار وغیرہ انھیں کو ان کا وہ شئیر نہیں ملتا جس کے وہ حقدار ہیں۔ اسی وجہ سے اب میں ایک ڈرامہ چینل کی تیاری کررہا ہوں جو صرف ڈیجیٹل عوام کے لیے ہوگا، اور جس میں مختلف موضوعات پر ڈرامے بنائے جائیں گے۔‘
بُلّھا: شان کی پنجابی فلم میں 12 سال بعد واپسی، ’سرحدوں کے محافظ ابھی تک صرف جنگی ساز و سامان پر بھروسہ کرتے ہیں‘ ’اب پاکستان کا مستقبل ہندوستان طے کرے گا‘: دھورندھر 2 کا ٹریلر اور سنجے دت کی سوشل میڈیا پوسٹ پر تنقیدبالی وڈ میں غصّیل ہیروز کی واپسی: امیتابھ بچن سے رنویر سنگھ تک ’اینگری ینگ مین‘ کا دور ختم ہونے والا نہیں’شوبز سے پہلے والے نعمان اعجاز کو کہوں گا اس میدان میں نہ آنا‘امی بمقابلہ ممی: ’پامال‘ اور ’جمع تقسیم‘ ڈراموں میں ماؤں کے مختلف کرداروں پر بحث’میڈیا کے پاس اتنا وقت نہیں کہ خبر کی تصدیق کر سکے‘: دھرمیندر کی موت کی جھوٹی خبریں اور معروف شخصیات کے تعزیتی بیانات