فضائی اڈے کی حساس معلومات ’پاکستانی خفیہ سروس کو دینے‘ کا الزام، انڈین فضائیہ کا سویلین اہلکار گرفتار

بی بی سی اردو  |  Mar 24, 2026

Getty Images

انڈیا کی پولیس نے آسام کے فضائی اڈے پر تعینات فضائیہ کے ایک اہلکار سومیت کمار کو پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ دوسری طرف دِلی کے نواحی شہر غازی آباد میں چھ نوعمر بچوں سمیت 18 نوجوانوں کو پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

تفتیشی اہلکاروں نے بتایا ہے کہ فضائیہ کے اس اہلکار نے تفتیش کے دوران یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر 2023 سے پاکستان کی خفیہ سروس کے اہلکاروں سے رابطے میں تھے اور پیسے کے عوض خفیہ معلومات فراہم کرتے تھے۔

راجستھان کی خفیہ پولیس کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پرفل کمار نے بتایا ہے کہ ملزم کو راجستھان اور فضائیہ کی خفیہ پولیس کے مشترکہ آپریشن میں گرفتار کیا گیا۔

تاحال پاکستان کی جانب سے ان گرفتاریوں اور جاسوسی کے الزامات پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔

فضائیہ کے اہلکار پر پیسوں کے بدلے خفیہ معلومات دینے کا الزام

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق 36 سالہ سومیت کمار آسام کے ڈیبرو گڑھ میں چابوا کے فضائی اڈے پر ملٹی ٹاسکنگ سٹاف کے طور پر تعینات تھے۔ ان کا تعلق اتر پردیش سے ہے۔

انھیں چابوا فضائی اڈے سے گرفتار کیا گیا اور مزید تفتیش کے لیے جے پور کے مرکزی تفتیشی مرکز لایا گیا۔

جنوری میں راجستھان پولیس نے جیسلمیر سے جھبرا رام نامی مشتبہ شخص کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

حکام کے مطابق جھبرا سے مزید پوچھ گچھ اور تفتیش کے دوران پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے کے معاملے میں سومیت کمار کا نام سامنے آیا اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی تھی۔

پولیس کے مطابق وہ اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر مبینہ طور پر فضائی اڈے کے بارے میں معلومات جمع کر کے پاکستان کے خفیہ ایجنٹوں کو بھیجتے تھے اور اس کے بدلے انھیں پیسے ملتے تھے۔

’روسی ایجنٹ‘ کو حساس معلومات دینے پر وزارتِ دفاعی پیداوار کے چار سول ملازمین کو سزائیں: ’گرفتاری کے وقت چار ہزار ڈالر برآمد ہوئے‘انڈین کسان پاکستان کی سرحد پر لگی باڑ سے پریشان: میری، میرے ٹریکٹر یہاں تک کہ روٹی سبزی کی بھی چیکنگ ہوتی ہے‘چین برطانیہ سمیت دنیا بھر میں کیسے جاسوسی نیٹ ورکس چلا رہا ہے؟ماتا ہری: مشہور جاسوسہ جنھوں نے سزائے موت سے قبل آنکھوں پر پٹی بندھوانے سے انکار کیا

پی ٹی آئی نے اے ڈی جی پرفل کمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ سومیت کمار 2023 سے پاکستان کی خفیہ سروس سے رابطے میں تھے۔ ان کے مطابق سومیت نے پاکستان کے خفیہ ایجنٹوں کو مبینہ طور پر فضائی اڈے پر نصب ساز و سامان، جنگی جہازوں کی لوکیشن، میزائل سسٹم اور فضائی عملے وغیرہ کے بارے میں حساس معلومات فراہم کی ہیں۔

پولیس کے مطابق وہ یہ معلومات ’سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے بھیجا کرتے تھے۔‘

سومیت کمار کے خلاف سرکاری رازداری قانون اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ان سے مختلف ایجنسیوں کے اہلکار پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔

نئی دہلی کے قریب 18 نوجوانوں کی گرفتاری

ادھر دِلی کے نواحی شہر غازی آباد میں انڈین پولیس نے چھ نوعمر بچوں سمیت 18 نوجوانوں کو پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

ان نوجوانوں پر الزام ہے کہ وہ شہر کے اہم مقامات، ریلوے سٹیشنز اور فوجی چھاؤنیوں وغیرہ کی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر غیر ملکی ہینڈلرز کو بھیج رہے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ سبھی ایک نیٹ ورک کے تحت کام کر رہے تھے اور اس کے لیے انھیں پیسے ملتے تھے۔ ملزموں میں دو لڑکیاں بھی شامل ہیں۔

غازی آباد کے ڈپٹی پولیس کمشنر دھول جیسوال نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’پولیس کو 14 نومبر کو یہ اطلاع ملی تھی کہ کچھ مشتبہ نوجوان مختلف اہم مقامات، حساس اداروں اور ریلوے سٹیشن وغیرہ کی جی پی ایس لوکیشن، فوٹوگراف اور ویڈیوز غیر ملکی نمبروں پر بھیج رہے ہیں۔‘

’پولیس نے کوشامبی پولیس سٹیشن میں دفعہ 76/2026 کے تحت ایک کیس درج کیا ہے اور اسی روز کچھ گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ اس کے بعد تفتیش جاری رہی۔ اب تک اس معاملے میں 18 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔‘

غازی آباد پولیس کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے ہینڈلرز پاکستان اور دوسرے ممالک میں مقیم ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ مبینہ طور پر جاسوسی نیٹ ورک کا یہ کام دو برس سے چل رہا تھا۔ یہ گروپ ٹیکنالوجی کی سمجھ رکھنے والے ایسے نوجوانوں کو انسٹاگرام کے توسط سے بھرتی کرتا تھا جنھیں پیسے کی بہت ضرورت ہوتی تھی۔

جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں 20 برس کے نوشاد علی کو اس نیٹ ورک کا سرغنہ بتایا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں سہیل ملک، 28 سال کی میرا، 25 سال کی مہک، 19 سال کے پروین، 21 برس کے راج والمیکی، 20 برس کے شیو والمیکی، 23 برس کے شیو گنگوار، 20 برس کے گنیش، 18 برس کے وویک، 22 برس کے گگن کمار پرجا پتی اور 26 برس کے درگیش نشاد اور سمیر شامل ہیں۔

’سولر سے چلنے والے سی سی ٹی وی کیمرے‘

تفتیش کاروں کے مطابق نوشاد علی جاسوسی کے اس نیٹ ورک میں سوشل میڈیا کے ذریعے شامل ہوا تھا اور وہ فوٹو، ویڈیو اور اہم تنصیبات کی جی پی ایس لوکیشن وغیرہ پاکستانی اور دوسرے غیر ملکی ہینڈلرز کو بھیجتا تھا۔

ڈپٹی پولیس کمشنر دھول جیسوال نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’نوشاد علی نے اس مقصد کے لیے پلے سٹور سے ایک ایپ انسٹال کر رکھی تھی جس پر کام کرنے میں وہ مہارت رکھتا تھا۔ اس سوشل میڈیا گروپ کے ذریعے وہ میرا سے رابطے میں آیا جو اس گروپ کا حصہ بن گئیں۔‘

غازی آباد کے ایڈیشنل پولیس کمشنر راج کرن نیر نے ابتدائی گرفتاریوں کے بعد بتایا تھا کہ یہ اس وقت گرفتار ہوئے جب کوشامبی پولیس سٹیشن کو یہ اطلاع ملی کہ بعض مشتبہ نوجوان ریلوے سٹیشنوں، اہم مقامات اور سکیورٹی فورسز کی لوکیشن کی ویڈیو اور تصاویر بنا رہے ہیں اور انھیں غیر ملکی نمبروں پر بھیج رہے ہیں۔ ملزموں کی گرفتاری کے بعد ان موبائلز سے حساس نوعیت کی تنصیبات اور اہم مقامات اور فوجی چھاؤنیوں وغیرہ کی لوکیشن اور ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں۔

پولیس نے مزید بتایا کہ ملزموں نے دِلی چھاؤنی ریلوے سٹیشن اور سونی پت ریلوے سٹیشن پر شمسی توانائی سے چلنے والے سم کے ذریعے فعال سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے تھے۔ ان سے آنے والی ویڈیو کی فیڈ واٹس ایپ کے ذریعے شیئر کی جاتی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اس طرح کے کیمرے کم از کم 50 مقامات پر نصب کرنے والے تھے۔ انھیں تمام معلومات فراہم کرنے کے لیے پیسے ملتے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی گہرائی سے چھان بین کر رہی ہے اور ابھی مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

’روسی ایجنٹ‘ کو حساس معلومات دینے پر وزارتِ دفاعی پیداوار کے چار سول ملازمین کو سزائیں: ’گرفتاری کے وقت چار ہزار ڈالر برآمد ہوئے‘انڈین کسان پاکستان کی سرحد پر لگی باڑ سے پریشان: میری، میرے ٹریکٹر یہاں تک کہ روٹی سبزی کی بھی چیکنگ ہوتی ہے‘’پاکستانی اکاؤنٹس‘ کی فیس بُک ریکویسٹ اور نوکری کی پیشکش: براہموس میزائل کا نوجوان انڈین انجینیئر ’ہنی ٹریپ‘ کیس میں بریچین برطانیہ سمیت دنیا بھر میں کیسے جاسوسی نیٹ ورکس چلا رہا ہے؟ماتا ہری: مشہور جاسوسہ جنھوں نے سزائے موت سے قبل آنکھوں پر پٹی بندھوانے سے انکار کیا
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More