BBC
ایران اور امریکہ کے تعلقات گذشتہ کئی دہائیوں کے سب سے پیچیدہ تعطل کا شکار ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد دس ہفتے سے زائد عرصہ گزرنے اور ایک نازک جنگ بندی کے باوجود دونوں فریق اب بھی پاکستان جیسے ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تجاویز اور جوابی تجاویز کے اس تبادلے کے دوران پانچ بنیادی نکات ایسے ہیں جو ایران اور امریکہ کے درمیان اہم اختلافی مسائل کے طور پر برقرار ہیں: یورینیم افزودگی کا پروگرام، ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کا مستقبل، آبنائے ہرمز کا کنٹرول اور آمدورفت کی مکمل بحالی، خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کی سرگرمیاں اور بیلسٹک میزائل پروگرام۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے حالیہ امریکی تجویز کے جواب کو ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
اطلاعات کے مطابق واشنگٹن کے 14 نکاتی منصوبے میں یورینیم افزودگی روکنا، ایران کے 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کرنا یا مکمل طور پر اسے (پرامن مقاصد تک) محدود کرنا اور آبنائے ہرمز کو غیر مشروط طور پر کھولنا شامل ہے۔
اس منصوبے میں 30 دن کی ایک مدت بھی رکھی گئی ہے تاکہ دیگر مسائل، جیسے خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروپوں اور میزائل پروگرام، پر بات چیت کی راہ ہموار کی جا سکے۔
دوسری جانب ایران ان تجاویز کو قبول کرنا ایک ایسی جنگ میں ہتھیار ڈالنے کے مترادف سمجھتا ہے جس کے بارے میں اس کا مؤقف ہے کہ وہ میدان جنگ میں دنیا کی دو بڑی فوجی طاقتوں کے مقابلے میں ہارا نہیں۔ اسی لیے ایران رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اطلاعات کے مطابق اپنے جواب میں فوری جنگ بندی (بشمول لبنان)، پابندیوں کے مکمل خاتمے، ہرجانے کی ادائیگی، آبنائے ہرمز پر خودمختاری کے اعتراف اور ہنگامی نوعیت کے امور کو جوہری مذاکرات سے الگ رکھنے پر زور دے رہا ہے۔
ایران نے جواباً یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ وہ اپنے افزودہ یورینیم کے کچھ حصے کو کم کرنے یا کسی تیسرے ملک کو منتقل کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم مکمل منتقلی کو مسترد کرتے ہوئے ’پرامن افزودگی کے حق‘ پر زور دیا ہے۔
ان پانچ بڑے اختلافی نکات پر جاری تعطل نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ عالمی توانائی کے تحفظ، تیل کی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کے استحکام پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔
یورینیم کی افزودگی کا پروگرامEPA
یورینیم کی افزودگی ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں اختلاف کے سب سے اہم اور قدیم نکات میں سے ایک ہے کیونکہ واشنگٹن کے نقطۂ نظر سے یہ اس سوال سے جڑا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کی تکنیکی صلاحیت سے کتنی دوری پر ہے۔
قدرتی یورینیم اکیلے زیادہ مؤثر نہیں ہوتا۔ افزودگی کے عمل میں یورینیم کے توانائی بردار حصے (آئسوٹوپ 235) کی مقدار بڑھائی جاتی ہے تاکہ اسے ایسے ایندھن میں تبدیل کیا جا سکے جو جوہری ری ایکٹرز میں استعمال ہو سکے۔ تاہم، جیسے جیسے یورینیم کی افزودگی کا تناسب بڑھتا ہے، اس کے عسکری استعمال کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے تحت پرامن مقاصد، جیسے توانائی پیداوار، تحقیق اور طبی ضروریات کے لیے افزودگی کے اپنے حق پر زور دیتا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ اور اسرائیل اس پروگرام کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کے پردے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
عام طور پر تین سے پانچ فیصد تک افزودگی بجلی گھروں کے لیے استعمال ہوتی ہے جبکہ 20 فیصد افزودہ یورینیم تحقیقاتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے تاہم اس سطح سے زیادہ افزودگی ہتھیاروں کے درجے کے یورینیم کی طرف راستہ ہموار کرتی ہے۔ تکنیکی طور پر 60 فیصد افزودہ یورینیم 90 فیصد تک پہنچنے کے لیے بہت کم فاصلہ رکھتا ہے، جو جوہری بم بنانے کے لیے درکار سطح ہے۔
گذشتہ موسم گرما میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے وقت تک ایران 60 فیصد افزودگی کی سطح تک پہنچ چکا تھا، جس کا شہری استعمال بہت محدود ہے اور امریکی و اسرائیلی حکام کے مطابق اس سے ایران کے ’نیوکلیئر بریک آؤٹ‘ کا وقت چند ہفتوں تک محدود ہو گیا تھا۔ اسی دوران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ تہران نے ہزاروں جدید سینٹری فیوجز نصب کر لیے ہیں اور خاطر خواہ ذخائر جمع کر لیے ہیں۔
نطنز، فردو اور اصفہان کی تنصیبات پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد افزودگی کی سرگرمیاں عملاً رک گئیں اور کئی آلات کو شدید نقصان پہنچا۔
جنگ کے خاتمے کے لیے حالیہ مذاکرات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے طویل مدت کے لیے ایران میں افزودگی مکمل طور پر روکنے کا مطالبہ کیا (اطلاعات کے مطابق 20 سال یا مستقل طور پر) اور اس بات پر زور دیا کہ ’ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہیے۔‘
دوسری جانب تہران عارضی پابندیوں، افزودگی کی سطح کم کرنے اور پرامن مقاصد کے لیے بین الاقوامی نگرانی قبول کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے، تاہم وہ پروگرام کی مکمل بندش یا اس کی سرگرمیوں کو بیرون ملک منتقل کرنے کو اپنی خودمختاری کے خلاف سمجھتے ہوئے مسترد کرتا ہے۔
یہ خلیج دراصل گہرے تاریخی عدم اعتماد کی بنیاد پر قائم ہے: مغرب ایران کی ماضی میں خفیہ سرگرمیوں پر شک کرتا ہے جبکہ ایران ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) سے امریکی انخلا اور حالیہ جنگوں کو واشنگٹن پر عدم اعتماد کی وجوہات قرار دیتا ہے۔
ایران کے پاس افزودہ یورینیم کے ذخائر
دوسرا بڑا اختلافی نکتہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کے ذخائر کا مستقبل ہے۔ 12 روزہ جنگ سے قبل بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود تھا۔
یہ سطح ہتھیار بنانے کے معیار کے قریب سمجھی جاتی ہے اور ماہرین کے مطابق اگر اسے مزید افزودہ کیا جائے تو یہ کئی جوہری ہتھیاروں کے لیے درکار مواد فراہم کر سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران کے سٹریٹجک یورینیم ذخائر کا ایک بڑا حصہ اصفہان کے جوہری کمپلیکس میں زیرِ زمین تنصیبات اور گہری سرنگوں میں محفوظ ہے۔ انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق افزودہ یورینیم کا کچھ حصہ تباہ شدہ سرنگوں کے ملبے تلے بھی دب چکا ہے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رفال گروسی نے کہا ہے کہ نگرانی کے آلات تک رسائی نہ ہونے اور جنگی حالات کے باعث ادارے کے پاس تنازع شروع ہونے کے بعد سے ان ذخائر کی مقدار یا موجودہ حالت کی تصدیق کرنے کی عملی صلاحیت تقریباً موجود نہیں رہی۔
امریکہ اور اسرائیل ان ذخائر کو سب سے بڑا باقی ماندہ خطرہ قرار دیتے ہیں کیونکہ اگر یہ مقدار ضائع ہو جائے تو ایران کے لیے اپنی جوہری صلاحیت کو دوبارہ بحال کرنا ایک طویل عمل ہوگا اور اس کا ’نیوکلیئر بریک آؤٹ‘ وقت نمایاں طور پر بڑھ جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ امریکہ ان ذخائر کو ’کسی بھی شکل میں‘ حاصل کرے گا۔ اطلاعات کے مطابق امریکی تجاویز میں یہ شامل ہے کہ یہ مواد مکمل طور پر امریکہ یا کسی تیسرے ملک کے حوالے کر دیا جائے، اسے مکمل طور پر کمزور کیا جائے، یا ایران کی سرزمین سے مکمل طور پر ہٹا دیا جائے۔
دوسری جانب تہران نے اپنے تمام افزودہ یورینیم کے ذخائر حوالے کرنے سے انکار کیا تاہم وال سٹریٹ جرنل کے مطابق اپنے حالیہ جواب میں ایران نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ وہ اپنے ذخائر کے ایک حصے کو کم درجے تک لے آئے اور کچھ مقدار کسی تیسرے ملک کو منتقل کر دے، بشرطیکہ مذاکرات ناکام ہونے یا امریکہ کے دوبارہ معاہدے سے الگ ہونے کی صورت میں یہ مواد ایران کو واپس کر دیا جائے۔
آبنائے ہرمز
آبنائے ہرمز، جو دنیا کا توانائی کا سب سے اہمبحری راستہ سمجھا جاتا ہے، ایران اور امریکہ کے درمیان تیسرا بڑا اختلافی نکتہ بن چکا ہے۔ یہ سٹریٹیجک آبی گزرگاہ، جس کے ذریعے دنیا کے 20 فیصد سے زائد خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے، مذاکرات میں ایک سنجیدہ تنازع کی شکل اختیار کر گئی۔
کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ گذشتہ دو ماہ کی پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایران کے لیے ایک سٹریٹیجک ہتھیار کے برابر ہو سکتا ہے، جو اسے دفاعی اور ڈیٹرنس والی حیثیت فراہم کرتا ہے۔
واشنگٹن اسے مکمل اور نگرانی کے تحت کھولنے کو کسی بھی ممکنہ معاہدے کی پیشگی شرط قرار دیتا ہے جبکہ تہران اسے ایک آخری دباؤ کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس اہم گزرگاہ کی مسلسل بندش یا رکاوٹ، توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ مل کر، عالمی معیشت کے استحکام کے لیے غیر معمولی خطرہ بن سکتی ہے۔
امریکہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کو ’بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی‘ کی مثال قرار دیتا ہے اور ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کی دھمکی یا پابندی کو ناقابل قبول سمجھتا ہے۔ امریکی موقف ہے کہ اس مسئلے کو جوہری مذاکرات سے الگ رکھتے ہوئے عسکری اور بین الاقوامی ضمانتوں کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی تجویز کے جواب میں ایران نے اپنی توجہ ’جنگ کے خاتمے اور خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بحری تحفظ کو یقینی بنانے‘ پر مرکوز رکھی ہے۔ اسی دوران ایرانی سیاسی اور عسکری قیادت نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو اپنی سرخ لکیر قرار دیا۔ تہران نے دباؤ اور پابندیوں کے خاتمے کے بدلے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کی ضمانت دینے کی پیشکش کی تاہم وہ کنٹرول برقرار رکھنے اور خطرات کا جواب دینے کا حق اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے۔
امریکہ کے ساتھ مختلف ادوار میں کشیدگی اور پابندیوں میں اضافے کے دوران ایران متعدد بار خبردار کر چکا ہے کہ سنگین خطرے کی صورت میں وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل روک سکتا ہے تاہم ماضی میں یہ بیانات زیادہ تر دباؤ بڑھانے کے لیے دیے گئے اور مکمل بندش تک بات نہیں پہنچی تھی، البتہ حالیہ جنگ کے بعد صورتحال زیادہ حساس ہو گئی۔
ٹرمپ پاکستان کے ثالثی کے کردار پر نظرثانی سے متعلق ’نہیں‘ سوچ رہے: ’پاکستانیوں نے عمدہ کردار ادا کیا، وہ شاندار کام کر رہے ہیں‘ایران، امریکہ کا پاکستان کی ثالثی پر اعتماد مگر چند امریکی حلقوں میں تشویش: کیا بطور ثالث پاکستان کے اثر و رسوخ کو نقصان پہنچ سکتا ہے؟ایرانی حملے، مصری فضائیہ اور اسرائیل: متحدہ عرب امارات کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کیوں خراب ہوئے؟امریکہ، اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ: ایک تنازع اور کامیابی کے دو متضاد دعوے’محورِ مزاحمت‘ اور خطے میں ایران کا کردار
خطے میں ایران کے اتحادی گروہوں کی سرگرمیاں بھی تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک بڑا اختلافی نکتہ ہیں۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران لبنان کی حزب اللہ، یمن کے حوثیوں اور عراق میں بعض شیعہ مسلح گروہوں کو مالی، عسکری اور تربیتی معاونت فراہم کرتا ہے اور اس نیٹ ورک کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھاتے ہوئے اس نے اسرائیل اور امریکی مفادات اور افواج کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر دیا۔
دوسری جانب تہران ان گروہوں کو ’محورِ مزاحمت‘ کا حصہ قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ خودمختار عناصر ہیں جو اسرائیل اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔
اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد ان گروہوں کی جانب سے مختلف محاذوں پر حملوں میں اضافہ ہوا، جن میں لبنان کی سرحد پر حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں، بحیرہ احمر میں حوثیوں کے جہازوں پر حملے اور عراق و شام میں امریکی اڈوں پر عراقی مسلح گروہوں کی کارروائیاں شامل ہیں۔
امریکہ مسلسل یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ ایران ان گروہوں کی عسکری معاونت کم کرے اور امریکی و اسرائیلی مفادات کے خلاف ان کی کارروائیاں روکے۔
حالیہ جنگ اور کشیدگی کے دوران بھی ان گروہوں کی سرگرمیوں کا معاملہ اٹھایا گیا تاہم ایسا لگتا ہے کہ جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے برعکس یہ مسئلہ ابھی فوری مذاکرات میں شامل نہیں۔
میزائل پروگرامMajid Asgaripour/WANA via REUTERSتہران میں ’خیبر شکن‘ میزائل ماڈل کی نمائش
ایران کا میزائل پروگرام تہران اور واشنگٹن کے درمیان سب سے اہم اور حساس اختلافی نکات میں شمار ہوتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ایران نے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کا ایک وسیع ذخیرہ تیار کیا، جن کی رینج مختصر فاصلے کے میزائلوں سے لے کر تقریباً دو ہزار کلومیٹر تک کے اہداف کو نشانہ بنانے والے میزائلوں تک ہے۔ ایران نے زیرِ زمین اڈوں اور ’میزائل شہروں‘ کا ایک نیٹ ورک بھی قائم کیا۔
ایران اس پروگرام کو اپنی دفاعی اور ڈیٹرینس حکمت عملی کا اہم ستون قرار دیتا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب اس کی فضائیہ اور جدید دفاعی نظام امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں کہیں زیادہ محدود ہیں۔
دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ ایران کا میزائل ذخیرہ، ڈرون ٹیکنالوجی اور زیادہ درست نشانہ بنانے والے میزائلوں کی ترقی کے ساتھ مل کر اسرائیل، خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور عرب ممالک کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔
حالیہ جنگ کے دوران ایران نے اسرائیل، خطے میں امریکی اڈوں اور خلیجی عرب ممالک، خاص طور پر متحدہ عرب امارات، میں اہداف کی جانب سینکڑوں میزائل اور ڈرون داغے۔ ان میں سے کچھ حملے روکے گئے تاہم بعض نے جانی و مالی نقصان بھی پہنچایا۔
حالانکہ حالیہ جنگ اور اس سے قبل 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے عسکری اور میزائل مراکز کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا، اس کے باوجود ایران کے پاس باقی ماندہ میزائلوں، موبائل لانچرز اور ذخائر کی درست معلومات دستیاب نہیں۔ یہی ابہام امریکہ اور اسرائیل کے لیے بڑی تشویش کا باعث ہے۔
تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق، جوہری پروگرام کے برعکس حالیہ امریکی تجاویز میں اس معاملے کو مرکزی حیثیت حاصل نہیں، حالانکہ امریکہ ہمیشہ ایران کی میزائل صلاحیت کو محدود کرنے کا خواہاں رہا ہے۔ اس کے برعکس تہران کا مؤقف ہے کہ میزائل پروگرام اس کے حقِ دفاع کا حصہ ہے اور اس پر کسی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔
’خاموش ہتھیار‘: کیا ایران آبنائے ہرمز میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو بطور ہتھیار استعمال کر سکتا ہے؟انڈیا میں رضا پہلوی کی حامی ایرانی اداکارہ مندانا کریمی کو ملک کیوں چھوڑنا پڑا؟جے شنکر کا اتحاد پر زور مگر عراقچی کی متحدہ عرب امارات پر تنقید: نئی دہلی میں برکس اجلاس کے دوران کیا ہوا؟ایرانی کشتیوں کے ’مچھر بیڑے‘ نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کو کیسے مشکل میں ڈالا؟ایران، امریکہ کا پاکستان کی ثالثی پر اعتماد مگر چند امریکی حلقوں میں تشویش: کیا بطور ثالث پاکستان کے اثر و رسوخ کو نقصان پہنچ سکتا ہے؟نتن یاہو کے ’خفیہ‘ دورۂ امارات کا اسرائیلی دعویٰ، یو اے ای کی تردید: اسرائیل سے تعاون اور گٹھ جوڑ ناقابل معافی ہے، ایران