چین کا جوابی اقدام ... امریکی ذمے داران اور اداروں پر پابندیاں عائد

العربیہ  |  Jul 14, 2020

چین کی جانب سے امریکی ذمے داران اور اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پابندیوں کی لپیٹ میں آنے والوں میں ریپبلکن سینیٹر مارو روبیو بھی شامل ہیں۔ چین کا یہ اقدام اُن پابندیوں کے جواب میں سامنے آیا ہے جو واشنگٹن نے الویگور مسلم اقلیت کے خلاف انسانی حقوق کی پامالیوں کے سبب سینئر چینی ذمے داران پر عائد کیں۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان چون ینگ نے پیر کے روز ایک پریس بریفنگ کے دوران امریکی شخصیات پر عائد کی جانے والی پابندیوں کا انکشاف کیا۔

ادھر برازیل میں امریکا اور چین کے سفیروں کے درمیان ٹویٹر کے ذریعے اختلاف بھڑک اٹھا۔

اس اختلاف کا آغاز جمعے کے روز ہوا جب امریکی سفیر ٹوڈ چیبمین نے وزارت خارجہ کے اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا۔ اس میں چین کی کمیونسٹ پارٹی پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ "شین جیانگ صوبے میں الویگور مسلم اقلیت اور دیگر نسلی اقلیتوں کے خلاف اپنی مہم میں اجتماعی طور پر خواتین کو بانجھ بنا رہی ہے"۔ چیبمین کے مطابق اس معاملے میں خاموشی کوئی آپشن نہیں ہے۔

اسی طرح برازیل میں امریکی سفارت خانے نے ہفتے کے روز ٹویٹر پر امریکی ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کا بیان جاری کیا۔ مذکورہ ڈائریکٹر نے چین پر الزام لگایا کہ وہ امریکی جامعات میں سائنس دانوں کو مالی رقوم دے رہا ہے تا کہ امریکی ایجادات اور جان کاری کو خفیہ طور پر چین منتقل کیا جا سکے۔ ان میں وفاقی حکومت کی فنڈنگ سے جاری قیمتی تحقیقی مطالعے شامل ہیں۔

دوسری جانب برازیل میں چینی سفیر یانگ وان منگ نے اتوار کے روز ٹویٹر پر لکھا کہ "یہ شخص (امریکی سفیر) ایک خاص مشن پر برازیل آیا ہے ،،، یہ مشن افواہوں اور جھوٹ کے ذریعے چین کو نکتہ چینی کا نشانہ بنانا ہے ،،، ہم تمہیں نصیحت کر رہے ہیں کہ اس نوعیت کی سرگرمیوں کو روک دو ،،، یقینا ایک ضخیم درخت کو گرانے کی کوشش کرنے والی چیونٹی بے ہودگی کی حد تک اپنی قدرت میں مبالغہ کر رہی ہوتی ہے"۔

چین کی حکومت نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ واشنگٹن کی جانب سے چینی عہدے داران پر پابندیوں عائد کیے جانے کے بعد امریکی ذمے داران اور اداروں سے انتقام لے گی۔

امریکا نے چین کے شمال مغربی صوبے شین جیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے سبب حکمراں کمیونسٹ پارٹی کے 3 مقامی عہدے داران پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More