کرونا وائرس: ابو ظبی میں داخلے سے پہلے لیزر سکریننگ ،مثبت نتیجہ پرمزید ٹیسٹ ہوں گے

العربیہ  |  Jul 15, 2020

متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظبی میں داخل ہونے کے خواہاں مسافروں کی لاک ڈاؤن کے دوران میں آمد کے موقع پر کووِڈ19 کی جانچ کے لیے لیزر سکریننگ کی جارہی ہے۔

ابو ظبی کے میڈیا دفتر کے مطابق’’لیزر پر مبنی ڈی پی آئی تیکنیک سے وائرس کے نتیجے میں خون میں رونما ہونے والی تبدیلی کا چند سیکنڈز میں سراغ لگایا جاسکتا ہے۔‘‘

اس نے مزید وضاحت کی ہے کہ جن لوگوں کا منفی نتیجہ ہوگا،انھیں ابو ظبی میں داخلے کی اجازت دے دی جائے گی۔جن افراد کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت ہوگا،ان کا مزید ٹیسٹ کیا جائے گا کہ ان کے خون میں حرارت کیوں ہے۔انھیں کرونا وائرس کے ٹیسٹ کے نتائج آنے تک الگ تھلگ رہنا ہوگا۔

یو اے ای نے مئی میں کرونا وائرس کی وَبا سے نمٹنے کے لیے اقدامات کے تحت یہ لیزر ٹیکنالوجی متعارف کرائی تھی۔ یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق کرونا وائرس جونہی خون کے خلیے میں داخل ہوتا ہے تو ڈیفریٹو فیز انٹرفرمیٹری (ڈی پی آئی) کی تیکنیک سے اس کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔

ابو ظبی میڈیا دفتر کا کہنا ہے کہ ’’اس ڈیوائس سے ان افراد کی تعداد کو محدود کرنے میں مدد ملے گی، جن کا کووِڈ-19 کے کیسوں کی تشخیص کے لیے پی سی آر کا ٹیسٹ ناگزیر ہوگا۔‘‘

اس نئی آپشن کے باوجود ابو ظبی کی ایمرجنسی ،کرائسس اور ڈیزاسٹر کمیٹی اور محکمہ صحت نے امارت میں آنے والے مسافروں پر زوردیا ہے کہ وہ آمد سے پہلے اپنا پروگرام ترتیب دے لیں اور پیشگی ٹیسٹ کرالیں تاکہ انھیں کسی قسم کی تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘‘

ابو ظبی حکومت نے 2 جون کو کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے شہریوں اور مکیوں کے امارت سے خروج اور داخلے پر پابندی عاید کردی تھی۔حال ہی میں حکام نے ابوظبی کے شہریوں اورمکینوں کو باہر جانے کی تو اجازت دے دی ہے لیکن انھیں دوبارہ داخلے کے لیے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کا منفی نتیجہ پیش کرنا ہوگا۔

Travellers to the Emirate of Abu Dhabi can be screened for COVID-19 upon entry by a laser-based DPI technique. A negative result will allow entry to #AbuDhabi, while a positive result will lead to further testing through a PCR test. pic.twitter.com/2XiVVqgNNP

— مكتب أبوظبي الإعلامي (@admediaoffice) July 13, 2020
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More